جنگل میں محو رقص ہیں حیوان دور تک

آج مارچ کے مہینے کی 3تاریخ ہے اور پاکستان سمیت ساری دنیا میں جنگلی حیات کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ ہم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں اور اگر نہیں جانتے تو جان لیں کہ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے۔ سالہا سال کا عرصہ لگتا ہے کسی پودے کے تن آور درخت بننے میں، بے شمار درختوں کے جھنڈ سے جنگل بن جاتے ہیں جو جنگلی حیات کے پنپنے کیلئے ایسا سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں جس میں جنگلی جانور کھیلتے کودتے آزادی کے نغمے الاپتے زندگی کے شب وروز گزارنے لگتے ہیں۔
صبا سے کہہ دو یہاں دبے قدموں سے گزرے
شجر پہ ایک ہی پتہ دکھائی دیتا ہے
گھنے جنگل، جنگلی حیات کیلئے بہترین پناہ گاہیں ثابت ہوتی ہیں۔ جہاں سے نکل کر یہ کہیں اور جانا پسند نہیں کرتے۔ کہتے ہیں 4ارب سال پرانی ہے یہ زمین، یہاں کے جنگلوں میں پروان چڑھنے والی جنگلی حیات کی ایسی ایسی قسمیں تھیں جن کے نام ونشان تک باقی نہیں رہے۔ اس ضمن میں ہم ڈائنو سارس کی مثال پیش کرسکتے ہیں، ڈائنو سارس جیسی جنگلی حیات میں چرندوں کی بھی بہت سی قسمیں تھیں اور ان میں فضا میں اُڑنے والے ڈائنو سارس بھی موجود تھے جو صدیوں پہلے نابود ہوچکے تھے۔ کہتے ہیں یہ دنیا اور اس پر بسنے والے جانور پانچ بار نابودیوں کا شکار ہوئے اور خدشہ ہے کہیں چھٹی بار بھی ایسا نہ ہو جائے۔ اگر اس بار ایسا ہوا تو اس کا ذمہ دار انسان خود ہوگا کیونکہ وہی باعث بن رہا ہے گلوبل وارمنگ اور نامہربان موسموں کا۔ ان حالات کے پیش نظر مجھے شاعرمشرق کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے آج کے انسان کو پکار پکار کر کہنا ہے کہ خاکم بدہن
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کریگی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
اس وقت جنگلی حیات میں ہاتھی کو نہایت قدیم جانور متصور کیا جا رہا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ قدیم جانور کا تعلق آبی حیات سے تھا جن میں شارک جیسی دیوقامت مچھلیاں شامل تھیں۔ کرۂ ارض پر ہاتھی نامی قوی الحبثہ جانور کا 5.5کروڑ سالہ ڈھانچہ دریافت ہوا ہے۔ جنگلی حیات کے ماہرین بتاتے ہیں کہ گوریلا 1کروڑ سال پہلے بھی کرۂ ارض پر موجود تھا۔ پانڈا، چیتا یا ٹائیگر کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ اس کی قدامت 20لاکھ سال ہے۔ زمین پر موجود لمبا ترین جانور زرافہ 15لاکھ سال پہلے بھی پایا جاتا تھا۔ انسان کیساتھ دوستی نبھانے والا وفادار جانور کتا 32ہزار سال قدیم بتایا جاتا ہے۔ جنگلوں میں بسنے والے یہ جانور جنگلوں کی خوبصورتی کا باعث ہیں۔ درختوں پر اُڑان بھرتے چہچہاتے پرندے ہوں یا درختوں کی شاخوں پر جھولتے بندروں کی نسلیں۔ جان کی امان چاہتے نازک بدن ہرن ہوں یا بارہ سنگے یا اپنے سے کمزور جانوروں کا شکار کرتے بھیڑئیے، شیر، شیرنیاں یا مردارخور گدھ اور ان جیسے بہت سے جنگلی جانور جن کے دم قدم سے جنگل میں منگل سا سماں قائم رہتا ہے۔ جب تک جنگلی جانوروں کی تصویریں یا ویڈیوز عام نہیں ہوئی تھیں جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا کے مصداق شہروں میں بسنے والے لوگ جنگلی حیات کے متعلق بہت کم جانتے تھے یا سرے سے جانتے ہی نہیں تھے۔ اسلئے ان کے اس تجسس کو ختم کرنے کی غرض سے حضرت انسان نے انہیں اپنے ہاں مہمان بنانے اور لوگوں سے متعارف کرانے کی ٹھانی۔ شروع شروع میں ایسا کرنے کی غرض سے اس نے اپنے ہاں پرندوں کو رکھنے پر اکتفا کیا چونکہ اُڑنے والے پرندوں کو چڑیا بھی کہا جاتا تھا اس لئے انہوں نے ایسی جگہ کو چڑیا گھر کا نام دیا جہاں وہ پرندوں کی حفاظت اور ان کی نمائش کرنے کیلئے انہیں پنجروں میں بند کرکے رکھنے لگے لیکن بعد میں اس نے اپنے چڑیا گھروں میں پرندوں کے علاوہ چرندے اور درندے بھی رکھنا شروع کردئیے اور یوں انسان کے قائم کردہ چڑیا گھر کو Zoological Park یا صرفZoo کہہ کر پکارا جانے لگا۔ حضرت انسان کی یہ ساری کوششیں اس کے جنگلی حیات کیساتھ قدرتی پیار کے بین ثبوت ہیں۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ بھولے بسرے دنوں پشاور کے شاہی باغ میں ایک عظیم الشان چڑیا گھر موجود تھا جن میں دھاڑتے شیروں کی آواز رات کے سناٹے میں پورے شہر پشاور میں گونجتی سنائی دیتی تھی۔ اس موضوع پر تلاش بسیار کے باوجود سردست ہمارے ہاتھ کچھ نہ آیا سوائے سنی سنائی باتوں کے جو ہم نے آپ تک پہنچا دیں تاکہ اس موضوع پر تلاش وجستجو کا سلسلہ منقطع نہ ہو۔ آج کل پشاور میں قائم ہونے والا چڑیا گھر یہاں کے عوام کیلئے پی ٹی آئی حکومت کا بہت بڑا تحفہ سمجھا جا رہا ہے اور کل تک تفریحی مقامات کے فقدان کا شکوہ کرنے والے لوگ اس چڑیاگھر کے جانوروں کا درشن کرنے کیلئے کشاں کشاں چلے آرہے ہیں۔ ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ چڑیا گھر عوام کو نہ صرف جنگلی حیات سے متعارف کرانے کا بہت بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے بلکہ اس کا مقصد جنگلی حیات کی دیکھ بھال اور اس کا تحفظ بھی ہے۔ 47کروڑ روپے کی لاگت سے 29ایکڑ کے رقبے میں پھیلا پشاور کا یہ چڑیا گھر عالمی یوم جنگلی حیات منانے والوں کی بھرپور توجہ کا مرکز ہونا چاہئے۔ چند دن ادھر کی بات ہے ہم بھی گئے تھے پشاور کا چڑیا گھر دیکھنے، پنجروں میں بند رنگ رنگ کے جانور دیکھ کر بے حد محظوظ ہوئے، ہم نے ایک شیرنی کو اپنے بچوں کی حفاظت کرتے بھی دیکھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ جس جگہ اس کی فیملی آباد ہے وہ جنگل نہیں شہر ہے۔ نظر آرہا تھا کہ وہ جانتی ہے کہ
انسانیت تو دفن ہے پتھر کے شہر میں
جنگل میں محو رقص ہیں حیوان دور تک