تو شکاری رہا سب پہ بھاری رہا

تاریخ خود کو دہراتی ہے، افغانوں کا فاتح ٹھہرنا کوئی انوکھی اور انہونی بات نہیں۔ ماضی قریب کی بات ہے جب افغان جنگ کی طوالت اور روزانہ بڑھتی ہوئی قیمت سے تنگ آکر گورباچوف نے افغانستان کو ”رستا ہوا زخم” تسلیم کرکے یہ اشارہ دیا کہ سوویت یونین کے قوی جنگ کا بوجھ اُٹھا کر اب مضمحل ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد تاریخ نے سوویت فوجیوں کو بوریا بستر سمیٹ کر دریائے آمو پار کرتے دیکھا۔ یہی وہ دن تھے جب فتح کا جشن منایا جا رہا تھا اور ایک نئی دنیا کی تشکیل کے خواب بُنے جا رہے تھے، تو ایسے میں قومی سیاست کا ایک معتبر نام سردار عبدالقیوم خان جنرل ضیاء الحق کی سرپرستی میں قائم ہونے والی تحریک استحکام پاکستان کے پلیٹ فارم سے اکثر ایک تاریخی جملہ دہراتے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جہاد کامیاب ہوجائے اور مجاہدین ناکام ہوجائیں۔ اس وقت سردار عبدالقیوم خان کا یہ جملہ اکثر سروں کے اوپر سے ہی گزر جاتا تھا۔ کچھ ہی عرصہ بعد جہاد کامیاب ہوگیا اور سوویت افواج زخم چاٹتی ہوئی واپس چلی گئیں مگر مجاہدین سوویت یونین کے خلا کو پُر کرنے کیلئے ایک مضبوط متبادل کے طور پر نہ اُبھرسکے اور آپس میں اس بری طرح اُلجھ پڑے کہ ایک ایک کرکے غیرمتعلق ہوکر رہ گئے۔ دوحہ میں امریکی فوج اور امارت اسلامی افغانستان کے درمیان ہونے والا معاہدہ یہ بتا رہا تھا کہ طالبان کا جہاد کامیاب ہوچکا ہے اور امریکہ بے نیل ومرام واپس جارہا ہے مگر طالبان کی کامیابی کا سفر ابھی جاری اور منزل دور ہے۔ انیس سال قبل امریکہ آدھے افغانستان پر اس طمطراق اور طنطنے کیساتھ چڑھ دوڑا تھا کہ وہ ایک دولہا تھا اور اس کے دائیں بائیں اڑتالیس ملکوں کی عسکری بارات تھی۔ نیٹو، ایساف کی صورت دنیا کے مضبوط عسکری اتحاد امریکہ کے دست وبازو تھے۔ امریکہ کا مقصد افغانستان میں آکر بیٹھ جانا ہرگز نہیں تھا۔ نہ وہ واقعی کسی دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑنا چاہتا تھا۔ وہ مشرق وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک جغرافیوں اور ریاستوں کی تشکیل جدید کا منصوبہ رکھتا تھا۔ مستقبل کے چیلنجز اور خطرات کا تدارک کرنا اور اپنے فرضی خوف کے تصورات کے گرد دفاع کا ایک تصوراتی حصار قائم کرنا تھا۔ اس خوف کا تعلق دنیا میں اُبھرنے والے اقتصادی دیو چین کا مقابلہ کرنا اسے یکا وتنہا کرنا اس کی راہوں میں فساد اور تصادم کی بارودی سرنگیں بچھانے سے تھا۔ یہ مقصد بھارت کو ایک متبادل کے طور پر کھڑا کرنا پہلے اسے جنوبی ایشیا میں اور پھر پورے ایشیا میں ایک بالادست طاقت کے طور پر تسلیم کرانا تھا۔ اس سے ملتے جلتے مقاصد مشرق وسطیٰ کیلئے بھی تھے۔ ایٹمی پاکستان جنوبی ایشیا میں امریکی سکیم کے آگے رکاوٹ تھا اور وہ چین کے مقابلے میں بھارت کا ساتھ دینے پر قطعی تیار وآمادہ نہ تھا۔ اسی لئے امریکہ نے بھارت کیساتھ پاکستان کے مسائل کو حل کرنے کیلئے جیسے تیسے حل کا فارمولہ اپنایا مگر دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کی کوششیں ہر بار ناکام ہوگئیں، نائن الیون کے فوراً بعد امریکی میڈیا میں امریکہ کا مغضوب الغضب ذہن پوری طرح کھل کر سامنے آرہا تھا۔ ان میں سے اکثر تجزئیے سی آئی اے کے حاضر سروس یا ریٹائرڈ افسروں اور جنوبی ایشیا میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے والے ڈپلومیٹس کے تجربات اور مشاہدات کا نچوڑ ہوتے تھے جنہیں پڑھ کر یوں لگتا تھا کہ امریکیوں کے سامنے سوچ کے دو زاوئیے ہیں، اول یہ کہ پاکستان کی امداد بند کرکے سارے روابط منقطع کرکے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے، دوم یہ کہ پاکستان کو سبق سکھانے کیلئے اس کے ایٹمی ہتھیاروں کا بندوبست کیا جائے۔ بھارت کو واضح برتری دینے کیلئے اقدامات اُٹھائے جائیں اور بھارت کے ذریعے پاکستان کا علاج کیا جائے اور جمہوریت کا سودا بیچنے کے نام پر اس کی فوج کی بالادست پوزیشن کو کمزور کر دیا جائے تاکہ یہ بھارت کی بالادستی کو تسلیم کرنے پر مجبور پر ہوجائے۔ امریکہ نے ان دونوں تجاویز کو باہم یکجا کرکے ایک پالیسی تشکیل دی۔ نیٹو اور ایساف تو محض قربانی کے بکرے تھے جن کا کام اپنے وردی پوش سپاہیوں کی لاشیں سمیٹنا تھا مگر امریکہ کی سرپرستی میں اس جنگ کا ”راجہ اندر” بھارت تھا جو ہینگ لگے نہ پھٹکڑی رنگ بھی چوکھا آئے کے مصداق پاکستان کا گھیراؤ کرنے کی تدابیر کرتا رہا لیکن انیس برس بعد پاکستان نہ جنوبی اور شمالی حصوں میں تقسیم ہوا ہے اور نہ اس کے ایٹم بم لیبیا کے انجام سے دوچار ہو کر امریکی لیبارٹریوں یا سمندروں کی نذر ہو چکے ہیں، نہ بھارت جنوبی ایشیا کا مسلمہ اور واحد تھانیدار بنا ہے اور نہ چین اپنے گرد قائم حصار میں مقید اور محصور ہوکر جاں بہ لب ہے۔ طالبان پہلے سے زیادہ بڑی قوت ہیں اور اپنی امارت اسلامی کی بحالی کیلئے پرعزم ہیں اور پاکستان بھارت کی مطلق بالادستی کی راہوں میں خم ٹھونک کر مزاحم ہے، چین کا اقتصادی اور عسکری دیو اپنا قد مزید اونچا کررہا ہے۔ یوں انیس برس کا سفر امریکہ کیلئے جھک ماری کے سوا کچھ نہیں۔ کابل کا جو انتظام بون کانفرنس میں قائم کیا گیا تھا انیس برس بعد بھی حالات کے تالاب پر تیرتی کاغذ کی ناؤ کے سوا کچھ نہیں۔ طالبان کی واہ واہ اپنی جگہ مگر ماضی کی قریب کی طرح اس بار بھی بازی اُلٹنے کے پس پردہ کردار بھی کم اہم نہیں تھے۔ امریکہ جن کو سبق سکھانے آیا تھا مگر تاریخ کا ایک سبق بن کر انیس برس بعد واپس چل دیا۔ اب طالبان کا امتحان شروع ہورہا ہے کہ وہ اپنے جہاد کو کامیاب کرنے کے بعد خود کو کس طرح کامیاب کرتے ہیں گوکہ وہ شجاعت کے مرحلے میں کامران اور سرخرو ٹھہرے، اب آگے ان کی بصیرت کا امتحان شروع ہورہا ہے اور یہ شجاعت سے بھی زیادہ مشکل اور تنی ہوئی رسی پر چلنے کے مترادف ہے۔