امن معاہدے میں پیش رفت اور خطرات

امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے چند روز بعد ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا طالبان رہنما سے ٹیلیفون پر رابطہ اور بات چیت اہم پیشرفت ضرور ہے لیکن افغانستان سے آمدہ بعض اطلاعات کے مطابق وہاں پرمعاہدے کے بعدطالبان اور امریکی فوج کے درمیان پہلی جھڑ پ ہوئی ہے جس سے معاہدے پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ بہرحال اس سے قطع نظردونوں رہنمائوں کے درمیان رابطہ اس امر کا غماز ہے کہ فریقین امن معاہدے میں پیش رفت کی سعی میں ہیں۔ ملا برادر نے ٹرمپ سے کہا ہے کہ کسی کو معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔یہ ایک پیچیدہ امر ضرور ہے کہ طالبان قیدیوں کی رہائی بلکہ قیدیوں کا تبادلہ امریکہ اور طالبان کے درمیان نہیں بلکہ کابل حکومت اور طالبان کے درمیان ہونا ہے اور ان دونوں کے درمیان نہ صرف کوئی معاہدہ بلکہ کوئی مفاہمت بھی نہیں یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کو بھی تیار نہیں۔ دوحہ معاہدے کے بعد اب طالبان اور کابل کے حکمران ہی واضح حریف اور آمنے سامنے ہیں۔ اس ساری حقیقت کے باوجود افغان صدر اشرف غنی کے قیدیوں کی رہائی سے انکار کے باوجود بھی باور کیا جاسکتا ہے کہ امریکہ اور افغان حکومت میں کوئی ایسی مفاہمت ضرور ہوئی ہوگی جس کے بعد ہی امریکہ نے طالبان کے قیدیوں کی رہائی وتبادلے کی شرط سے اتفاق کیا ہوگا۔ افغان صدر کا بیان خفت مٹانے یا پھر معاہدے میں نظرانداز کرنے پر اپنی اہمیت کا احساس دلانے ہی کیلئے ہوسکتا ہے، اگر یہ دونوں صورتیں نہ بھی ہوں تب بھی یہ شرط ایسی نہیں کہ اس کی بناء پر بین الافغان مذاکرات کی نوبت نہ آنے دی جائے۔ کابل حکومت امریکہ سے اس قدر اختلاف کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ وہ قیدیوں کی رہائی سے یکسر انکار کردے۔قیدیوں کی رہائی ہر مذاکرات کا اہم حصہ ہوتا آیا ہے، خود امریکہ اور پاکستان نے طالبان کے اہم قیدیوں کو رہا کر کے ہی بلکہ ان رہا شدہ اہم طالبان رہنمائوں کے ذریعے ہی مذاکرات کا راستہ اختیار کیا اور دوحہ معاہدہ ممکن ہوا۔ امریکی صدرٹرمپ کے طالبان رہنماء ملا عبدالغنی برادر کو ٹیلیفون سے معاملات میں پیشرفت کی نشاندہی ہوئی ہے۔ امریکہ اور افغانستان حکومت دس مارچ سے قبل اس امر کو بہرحال ممکن بنانے کی ذمہ داری نبھائیں گے جس کے بعد بین الافغان مذاکرات کا آغاز ممکن ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اعتماد سازی کیلئے فریقین کو اب احتیاط کیساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا ہوگا اور ساز گار ماحول کے قیام پر توجہ دینی ہوگی۔ افغان صدر اشرف غنی پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سازگار ماحول بنانے کی ابتداء کی ذمہ داری کو سمجھیں اور اس کے تقاضوں کو نبھائیں۔ افغان امن عمل میں امریکہ اور پاکستان کا اب تک جو کردار رہا ہے اسی کے باعث افغانستان میں امن کی اُمید پیدا ہوگئی ہے۔ افغانستان میں قیام امن کی اصل اور اہم ذمہ داری افغان قیادت ہی نے ادا کرنی ہے جس کی عالمی برادری معاونت ہی کر سکتی ہے اصل فیصلہ بہرحال افغان قیادت ہی کا ہوگا۔ مذاکرات کی کامیابی اور امن کی بحالی واستحکام افغان عوام، حکومت اورطالبان سمیت سبھی گروہوں کے احتماعی مفاد میں ہے جن کو چالیس سالہ جنگ اور دو سپرپاورز کی فوج کشی کے نتائج بخوبی معلوم ہیں۔ اگرچہ افغانستان میں استحکام امن اور ایک ایسی حکومت کا قیام جو متفقہ اور سب کیلئے قابل قبول ہو مشکل مرحلہ اور دورازکار ہے، فی الوقت سرنگ کے دہانے جو روشنی نظر آرہی ہے اسے آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیا جائے تو منزل تک رسائی مشکل نہیں۔ افغان قیادت کو اولاً باہمی داخلی اتفاق رائے کے حصول کی طرف پوری توجہ مبذول کرنی چاہئے اس کے بعد افغانستان کی تباہی کے ذمہ دار تمام کرداروں اورعالمی برادری سے افغانستان کی معیشت کی بحالی اور معاشی استحکام کیلئے بات چیت اور مطالبات کی ضرورت ہے۔ جو باون ممالک امریکہ کی سرکردگی میں افغانستان میں انسداد دہشت گردی کے نام پر آئے تھے واپسی پر ان کو وہ تمام آثار بھی مٹانے ہوں گے جو اس جنگ کے نتیجے میں افغانستان کے طول وعرض میں ظاہر ہوئے۔ افغانستان کے داخلی استحکام کی منزل کے حصول کے بعد معاشی مسائل، بحالی اور افغان مہاجرین کی وطن واپسی کی ذمہ داریاں بھی عالمی برادری پوری کرے، تب جا کر یہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھے گا۔ افغان ملت کے اتحاد کے بغیر اس کا مطالبہ قبل ازوقت اور لاحاصل ٹھہرے گا۔