جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے

ماضی میں ہوتا یہ رہا ہے کہ انتخابات ہوتے تھے تو اخبارات میں پولنگ کی رپورٹوں کے دوران اکثر ”جھلکیاں” کے عنوان سے شائع ہونے والی مختصر خبروں میں یہ دلچسپ معلومات شیئر کی جاتی تھیں کہ فلاں فلاں پولنگ سٹیشنوں پر زندہ ووٹروں کیساتھ ساتھ انتقال کر جانیوالے ووٹروں نے بھی ووٹ پول کئے، یعنی مرے ہوئے لوگ بھی اکثر زندہ ہو کر ووٹ ڈالنے پہنچ جاتے۔ مگر گزشتہ روز ایک مزید دلچسپ خبر سامنے آئی جب نیب جیسے ادارے نے8سال قبل فوت ہو جانے والے علی نواز شاہ کو بھی ایک مقدمے میں پیش ہو کر وضاحت دینے کا نوٹس جاری کر دیا، مرحوم علی نواز شاہ، پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء سید خورشید شاہ کے بھائی تھے اور ان کا انتقال 8سال پہلے ہوچکا ہے۔ ادھر دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے صدر، (جو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی ہیں) میاں شہباز شریف کیخلاف پلاٹس الائمنٹ تحقیقات بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ انکوائری میں نامزد افراد وفات پاچکے ہیں گویا سابق قائد حزب اختلاف کے مرحوم بھائی کو تو نوٹس بھجوا دیا مگر (حاضر) قائد حزب اختلاف کیخلاف انکوائری میں نامزد افراد کے وفات پاجانے پر رعایت، اس پر ممکن ہے مرحوم علی نواز شاہ کی روح مظہر حسین سید کا یہ شعر عالم بالا میں پڑھ کر خود کو تسلیاں دیتے ہوں گے کہ
اس عدالت میں بھی دی میں نے صفائی اپنی
منصفوں کو بھی سنائی نہیں دیتا تھا جہاں
ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین نے ایم کیو ایم لندن سیکرٹریٹ فروخت کرنے کا اشتہار جاری کردیا ہے۔ دفتر کی قیمت دس لاکھ پائونڈ مقرر کی ہے، یہ اقدام موصوف نے دہشت گردی کیلئے اُکسانے کے الزام میں اولڈ بیلی کی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے آغاز سے قبل ہی اُٹھایا ہے، محولہ دفتر میں 6کاریں پارک کرنے کی بھی گنجائش ہے، گزشتہ دو ماہ کے دوران ابھی تک کوئی آفر نہیں ملی، ایم کیو ایم کے سربراہ تقریباً4ماہ بعد اولڈ بیلی کی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے بھاری اخراجات کیلئے فنڈز جمع کرنے کیلئے دفتر فروخت کررہے ہیں، الطاف حسین کے قریبی ذرائع کے مطابق اگر کوئی سنجیدہ خریدار مل گیا تو قیمت میں50ہزار پائونڈ سے ایک لاکھ پائونڈ تک کی کمی کی جا سکتی ہے۔ اس صورتحال پر کراچی اور حیدر آباد وغیرہ میں مقیم اُردو بولنے والوں کا ردعمل تا دم تحریر سامنے نہیں آسکا، شاید اس خوف سے کہ اگر انہوں نے زبان کھولی تو انہیں لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں کیونکہ اب تو پارٹی کے کئی دھڑے بن چکے ہیں اور ہر ایک نے اپنی الگ دکان کھول رکھی ہے، تاہم ان کے دل میں یہ سوال ضرور کدبدا سکتا ہے کہ ایم کیو ایم لندن کا دفتر الطاف حسین کی ذاتی جاگیر تو نہیں یعنی یہ ایون فیلڈ کی طرح کی جائیداد تو نہیں جس پر شریفوں کی اولاد قابض ہے، یہ تو جملہ اُردو بولنے والوں کی جماعت ایم کیو ایم کی ملکیت ہے مگر ایک شخص اسے ذاتی مقاصد کیلئے فروخت کر کے دراصل پوری اُردو بولنے والی کمیونٹی کو فروخت کرنا چاہتا ہے، بقول شاعر قومے فروختندوچہ ارزاں فروختند والی صورتحال بنتی ہے، البتہ جہاں تک اولڈ بیلی کی عدالت میں پیشی کے اخراجات کا تعلق ہے تو پہلے تو ماضی میں ان کو قانونی مدد فراہم کرنے کیلئے موجودہ وزیر قانون فروغ نسیم پیش پیش ہوتے تھے اور اگر وہ چاہیں تو جیسے کہ گزشتہ دنوں ایک مقدمے کی پیروی کیلئے موصوف نے دو تین دن کیلئے وزارت سے استعفیٰ دیدیا تھا، اسی طرح وہ اپنے سابقہ مربی الطاف حسین کی مدد کیلئے بھی ایسا ہی کر سکتے ہیں، وزارت قانون پھر بھی ان کے انتظار میں خالی رکھنے کا اہتمام کیا جا سکتا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ جس طرح ہمارے ہاں غریب لوگوں کو عدالت کے حکم پر سرکاری اخراجات پر مقدمات کے دوران وکیل مہیا کیا جاتا ہے، ممکن ہے انگلینڈ میں بھی ایسا ہوتا ہو، تو پھر لندن سیکرٹریٹ کی جائیداد فروخت کرنے کی ضرورت نہ پڑے، تاہم الطاف حسین ماضی میں کراچی سے مبینہ طور پر بھجوائے جانے والے بھتوں کے اربوں کھربوں ڈکارتے ہوئے بھی خود کو فقیر ثابت کرنے کی ایکٹنگ کرتے رہے ہیں، وہ اولڈ بیلی کی عدالت پر بھی یہ تاثر ڈالنے کی کوشش کرنا چاہتے ہوں کہ وہ تو اتنا غریب ہے کہ مقدمے کے اخراجات برداشت ہی نہیں کر سکتا، اس لئے اس پر رحم کیا جائے۔
کبھی تو بیعت فروخت کر دی
کبھی فصیلیں فروخت کر دیں
مرے وکیلوں نے میرے ہونے کی
سب دلیلیں فروخت کر دیں
اسے کہتے ہیں حکومتی رٹ، ایران میں کورونا وائرس سے بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایرانی پراسیکوٹر جنرل نے ماسک کی ذخیرہ اندوزی کرنیوالوں کیخلاف سخت کارروائی کافیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر کوئی شخص ذخیرہ اندوزی میں ملوث پایا گیا تو اسے پھانسی دی جائیگی کیونکہ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں ایک دوسرے کا خیال کرنا ہے، ماسک یا کسی بھی قسم کے طبی آلات کی ذخیرہ اندوزی کرنیوالے افراد کسی ہمدردی کے لائق نہیں، اگر کوئی شخص اس میں ملوث پایا گیا تو اسے فوری سزائے موت دی جائیگی۔ اس خبر پر کسی تبصرے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ ہمارے ہاں جلب زر کی جو صورتحال ہے اور یار لوگ ایسے مواقع سے جس طرح وقتی فوائد حاصل کر تے ہیں وہ اظہر من الشمس ہے اسلئے فی الحال عزیز مجذوب کے اس شعر پر ہی اکتفا کیجئے کہ
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے