ہالی ووڈ کے پروڈیوسر ہاروی وائن سٹائن کوجنسی جرائم کے ارتکاب پر 23سال قید کی سزا

ہاروی وائن سٹائن کو اداکارہ جیسیکا من پر جنسی حملے اور پروڈکشن اسسٹنٹ مریم ہیلی کو زبردستی جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کے جرم میں سزا سنائی گئی۔

67 برس کے فلم پرڈیوسر انٹرٹینمنٹ کمپنی میرامیکس کے شریک بانی ہیں جس نے ہالی ووڈ کے بڑے سٹوڈیوز کے غلبے کو چیلنج کیا اور طاقتور ادارہ بن کر سامنے آئے۔

نوے کی دہائی میں متعدد کامیاب فلموں کے پیچھے وائن سٹائن اور ان کے بھائی باب کا ہاتھ تھا جن میں سیکس لائیز اینڈ وڈیو ٹیپ، دی کرائینگ گیم، پلپ فکشن اور شیکسپیئر ان لو شامل ہیں۔

شیکسپیئر ان لوّ کو 1999 کے آسکرز میں بہترین فلم کا ایوارڈ بھی ملا۔

اخبار نیویارک ٹائمز اور نیو یارکر میگزین نے خبریں لگائیں جن میں درجنوں خواتین نے وائینسٹین پر جنسی بد اعمالی، تشدد اور ریپ کا الزام لگایا۔

اداکارہ روز مک گاؤن اور ایشلی جڈ ان اولین خواتین میں شامل تھیں جو الزامات کے ساتھ منظر عام پر آئیں۔

روز مک گاؤن نیو یارک میں ہاروی وائینسٹین کے خلاف ایک تقریر کرتے ہوئے
داکارہ روز مک گاؤن

اس کے نتیجے میں مزید الزامات منظر عام پر آئے اور کم از کم 80 خواتین نے ان پر جنسی استحصال کے الزام لگائے جو کئی دہائیوں پر محیط تھے۔ ان میں ہالی ووڈ کی بڑی اداکارائیں اینجلینا جولی، گوئنتھ پالٹرو، اوما تھرمن اور سلمہ ہائیک شامل ہیں۔ مگر الزامات صرف اداکارؤں نے نہیں لگائے ان میں دفتر کا سٹاف بھی شامل تھا جس میں سابق اسسٹنٹ لیسا روز کا نام شامل ہے۔

انھیں وائن سٹائن کمپنی سے بھی برطرف کر دیا گیا، یہ وہ ہی کمپنی تھی جس کی بنیاد انھوں نے اور ان کے بھائی نے میرامکس چھوڑنے کے بعد سنہ 2005 میں رکھی تھی۔

“ہاروی وائن سٹائن” کو ریپ اور جنسی حملے کا الزام ثابت ہونے پر 23سال قید کی سزا سنا دی گئی۔