سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں

قدرتی آفات انسان کو احساس دلاتی ہیں کہ وہ کتنا بے بس اور لاچار ہے۔ اٹلی کے وزیراعظم کا ایک بیان سوشل میڈیا میں زیرگردش ہے جسے پڑھ کر انسان کی بے چارگی کا شدید احساس ہوا۔ کرونا وائرس اٹلی میں جس طرح ہلاکتوں کا باعث بنا اس کے پیشِ نظر وزیراعظم اٹلی نے بیان دیا کہ معاملہ ہماری دسترس سے باہر ہے’ زمین کے سارے حل ختم ہو گئے ہیں، یہ ہے میڈیکل سائنس میں سالہا سال سے انسانی ترقی کا معاملہ۔ ایک کرونا وائرس ہے اور سائنس میں روز وشب ہونے والی تمام ریسرچ اس کے مقابلے میں فیل ہو گئی ہے۔ واصف علی واصف کا ایک قول یاد آ رہا ہے۔ غار ثور کے منہ پر بُنے گئے مکڑی کے جالے کی بابت آپ نے لکھا ”انسانی عقل کی تمام طاقتیں مکڑی کے کمزور جالے کے سامنے ناکام اور بے بس ہیں۔” اب بات سمجھ میں آتی ہے کہ قرآن انسان کو جاہل کیوں قرار دیتا ہے؟ انسان جاہل اس لئے ہے کیونکہ جو کچھ وہ جانتا ہے وہ اس کے مقابلے میں کچھ نہیں جو وہ نہیں جانتا ہے۔ یہی حقیقت ہے جو ازل تک رہے گی، ہمارا علم محدود ہے۔ انسانی علم خواص خمسہ کا محتاج ہے جو وہ دیکھتا ہے’ جسے وہ سنتا ہے’ جو کچھ وہ سونگھتا ہے’ جو وہ چکھتا ہے اور جسے وہ چھوتا ہے۔ یہ سائنس ہے!! خواص خمسہ کے حدود سے جو شے باہر ہے وہ غیرسائنسی کہلاتی ہے اور آج کا انسان اس کو ماننے سے انکار کر دیتا ہے چونکہ یہ چیزیں خلاف عقل شمار ہوتی ہیں۔ عقل کی حقیقت کیا ہے’ یہ اب ہمارے سامنے ہے۔ علامہ اقبال کی دانش سے استفادہ کروں تو یہ چراغِ راہ ضرور ہے لیکن منزل ہرگز نہیں ہے۔ منزل تک پہنچنے کا راستہ فقط عشق ہے’ جو راہ ہدایت بھی ہے اور وجۂ نجات بھی۔ یہ علم ہی ہے وحی کے ذریعے ملا جو خدائے بزرگ وبرتر نے اپنے برگزیدہ نبیوں پر نازل کی اور ہم اس پر ایمان لائے۔ یہی علم برتر ہے اور یہی زندگی کی اصل حقیقت ہمارے سامنے آشکار کرتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ یہ دنیا عارضی ٹھکانہ ہے جو انسانوں کیلئے دارالامتحان ہے اور یہاں وجود پانے والی ہر شے نے بالآخر فنا ہو جانا ہے۔ ”کُلُ نفسٍ ذائقة الموت” ہر شے نے موت کا ذائقہ ضرور چکھنا ہے جس کے بعد ابدی زندگی ہے جس کیلئے ہمیں تیار ہونا ہے۔
انسانی عقل چونکہ محدود ہے لہٰذا یہ اُس زندگی کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے۔ یہیں سے لادینیت کی ابتداء ہوئی اور مذہب کا انکار کیا گیا۔ وہ بھی ہیں جنہوں نے مذہب کا انکار تو نہ کیا لیکن اس کی اہمیت کو یہ کہہ کر کم کرنے کی کوشش کی کہ یہ انسانوں کا نجی معاملہ ہے اور اجتماعی زندگی میں اس کا کوئی کردار نہیں ہے۔ انسانوں نے اپنے علم کو دنیاوی معاملات میں حتمی قرار دیا اور پھر اس بحث کی ابتداء ہوئی کہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین اور ادارے سپریم ہیں یا اقتدار اعلیٰ کا مالک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور خدا کے قوانین ہر عہد اور زمانے کیلئے بنائے گئے ہیں اور یہی برتر واعلیٰ ہیں۔
خدائے واحد اپنے وجود کا ہمیشہ احساس دلاتا ہے کیونکہ اپنے علم کے زعم میں انسان نے اللہ کو بھول جانے کی ہمیشہ کوشش کی۔ انسان موت سے بچنا چاہتا ہے لیکن اب تک میڈیکل سائنس کی ترقی محض اتنی ہے کہ اُس نے اُسے زندہ رہنے کیلئے دس بیس سال مزید دے دئیے ہیں۔ خبریں آ رہی تھیں کہ ڈی این اے اور جینز پر ہونے والی تحقیق کے بعد سائنس انسانی جسم کی ڈی جنریشن کا حل ڈھونڈ نکالے گی’ چنانچہ اعضاء کے قوی ومضمحل ہونے کا عمل رُک جائے گا اور بالآخر انسان کی ابدی حیات کی خواہش پوری ہو جائے گی۔ ابھی یہ تحقیق خام ہے اور کرونا آ گیا ہے۔۔۔ جس سے بچنے کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں ہے۔ یہ کوئی یکسر نیا حملہ آور نہیں ہے’ اس کی وائرس فیملی سے ہمارا واسطہ گزشتہ دودہائی میں دو مرتبہ پڑ چکا ہے۔ ”SARS” اور ”MERS” کی بیماریاں بالترتیب 2003ء اور 2012ء میں بڑے پیمانے پر انسانی ہلاکتوں کا باعث بنیں’ اب یہ وائرس COVID-19کی نئی شکل میں عالمی وبا کا سبب بن رہا ہے۔ دنیا کے 148ممالک اس سے متاثر ہو چکے ہیں’ ملکوں نے اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک جن کے پاس ہر چیز اور ہر مسئلے کا حل موجود ہے وہ اپنے شہروں کا لاک ڈاؤن کرنے پر مجبور ہیں’ ایئرلائنز بند ہوگئی ہیں اور انسان کے پاس اپنے گھروں میں قید ہو کر رہنے کے علاوہ کوئی اور حل نہیں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک کاروباری لحاظ سے چار سو ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے جبکہ خوف کا عالم یہ ہے کہ زندگی بچانے کی خاطر ہر کاروباری نقصان سے ماوراء ہوکر لوگ اپنے گھروں میں پناہ لینے میں عافیت سمجھ رہے ہیں۔ یہ وباء آنے والے دنوں میں کیا صورت اختیار کرے گی اس کا کسی کو کوئی اندازہ نہیں ہے۔ ہر طرف خوف کا راج ہے’ شہر سنسان اور ویران ہو چکے ہیں۔ ہر شخص خوفزدہ ہے کیونکہ اگلے پل اور لمحے وہ بھی اس وباء کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہ ہے انسان کی حقیقت۔
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں