چھپا نہ گوشہ نشینی سے راز دل وحشت

بڑا گھمنڈ تھا یورپ والوں کو اپنے آپ کو ترقی یافتہ کہنے کا، سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت سے میدان مار لئے تھے انہوں نے، چاند اور ستاروں کو تسخیر کر لینے کا زعم تھا، سمندر کی تہہ میں، پاتال میں یا تحت الثری میں رہنے کے دعویدار بن چکے تھے، ہوا اور خلا میں، کائنات کن فیکون کی وسعتوں میں ہر جگہ انہوں نے اپنی عملداری قائم کرلی تھی لیکن آہ کہ بے چارے کرۂ ارض پر انسانوں کی طرح جینا نہ سیکھ پائے تھے اور پھر ہم نے دیکھا کہ ایک حقیر سے جرثومے نے ان کی رات کی نیندیں اور دن کا چین حرام کرکے رکھ دیا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں، اُترتا رہا عذاب الٰہی اور نابود کرتا رہا خدائی کے دعویداروں کو، کرونا کرونا کا شور مچانے والوں کی حالت زار کو دیکھ کر ہمیں نمرود اور اس کی خدائی یاد آگئی جسے یاد کرتے ہوئے اسداللہ خان غالب کہہ گئے تھے کہ
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
بندگی میں بھی مرا بھلا نہ ہوا
نمرود اور آتش نمرود کے متعلق کون نہیں جانتا۔ نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دہکتی آگ میں اس لئے پھینکا کہ آپ نہ نمرود کو خدا مانتے تھے اور نہ ہی بتوں کی پوجا پاٹ کو جائز قرار دیتے تھے۔ پیغمبروں کے جدامجد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آذر کے بتوں کو پاش پاش کرکے تاریخ عالم کے پہلے بت شکن ہونے کا رتبہ حاصل کیا اور یوں آپ اللہ کے برگزیدہ بندے ہی نہیں ابراہیم خلیل اللہ یعنی اللہ کے دوست کے لقب سے نوازے گئے۔ آپ بتوں کی پوجا کو شرک کہتے تھے۔ کسی کو اللہ وحدہ لاشریک کے ہم مرتبہ نہ گردانتے تھے نہ گردان سکتے تھے۔ سو انہوں نے نمرود کی خدائی کیخلاف صدائے حق بلند کی جس کی پاداش میں ان کو آتش نمرود میں پھینکا گیا اور رہتی دنیا تک یہ آفاقی سچ چشم دید گواہی بن کر باقی رہ گیا کہ مالک کن فیکون کے حکم سے نمرود کی آگ گل وگلزار میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ مکتبہ عشق رسولۖ کے فیضان یافتہ آتش نمرود کو گلزار ابراہیمی میں تبدیل ہونے کی توجیہ کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کیساتھ نور مصطفویۖ بھی موجود تھا جس کوکوئی بھی آتش نمرود جلا نہیں سکتی۔ آقائے دوعالمۖ کے نورانی جلوؤں کے طفیل ابرہیم خلیل اللہ آتش نمرود سے محفوظ رہے لیکن نمرود کا کیا حشر ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اس مردود کی موت اس کی ناک میں ایک معمولی یا حقیر سے مچھر کے گھس جانے کی وجہ سے ہوئی، مچھر یا جرثومہ اس کے دماغ کو چاٹنے لگتا تو نمرود کے درباری اس کے سر پر ہتھوڑے بجاتے تو وہ جرثومہ تھوڑی دیر کیلئے سستانے لگتا اورتھوڑی دیر بعد پھر اپنی شرارت پر اُتر آتا۔ خاک میں ملادی ایک معمولی سے مچھر نے نمرود کی خودساختہ خدائی کو قصص القرآن کا یہ مشہور اور عبرت ناک واقعہ کرونا نامی جرثومے یا کرونا وائرس کی دہشت اور خوف سے کس قدر مشابہت رکھتا ہے، یہ قابل بحث اور قابل غور موضوع ہے۔ چین پاکستان کا دوست ملک ہے، بتایا جاتا ہے کہ اس جرثومے کے نمودار ہونے اور چہار سو تباہی پھیلانے کا آغاز چین سے ہوا۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ کرونا اٹلی کے کسی قصبہ کا نام ہے جہاں یہ پہلے پہل دریافت ہوا تھا۔ چین، ایران، اٹلی، سعودی عریبیہ اور پھر ملکوں ملکوں پھیلتا ہر اس ملک کو نشانہ بناتا رہا جن کی امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک سے نہیں بنتی تھی۔ چین بھی پاکستان کا ہمسایہ برادر ملک ہے اور ایران بھی، اگر چین ہر آڑے وقت میں پاکستان کا ممد ومعاون ثابت ہوا، تو ایران سے بھی ہماری مذہبی اور ثقافتی ہم آہنگی ہے۔ پاکستان کے وجود میں آتے ہی پہلا غیرملکی سربراہ شاہ ایران تھا جس نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ ایران میں انقلاب کے بعد دوستی اور ہمسائیگی کے رشتوں میں نشیب وفراز آتے رہے، تاہم دونوں برادر اسلامی مملکتوں میں بہت سی اقدار ایک جیسی ہیں۔ ایران اور چین میں جب کرونا کی تباہ کاریوں کا آغاز ہوا تو مملکت خداداد پاکستان اس عذاب الٰہی کی زد میں آسکتا تھا۔ سو ملک کے عوام کو اس نادیدہ آفت سے بچانے کیلئے حکومت پاکستان نے جو اقدام کئے ہیں یا جو اقدام کر رہی ہے وہ کسی امتحان سے کم نہیں، اس سخت وقت میں اہل وطن کو سیسہ پلائی دیوار بن کر اس صورتحال سے نبردآزما ہونا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے جس فراخ دلی سے حکومت وقت کے اقدامات کی تائید کی ہے وہ دوسری سیاسی پارٹیوں کیلئے بھی قابل تقلید ہے لیکن ملک کے22کروڑ عوام کے سر پر بنی ہوئی اس آفت کو خاطر میں نہ لاکر حکومت کیساتھ بغض معاویہ کا رویہ اپنانے والی سیاسی پارٹیوں کو ہمہ چوں ڈنگرے نیست کا رویہ ترک کرکے ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ کہا جارہا ہے کرونا وائرس امریکہ اور برطانیہ کی ملی بھگت سے پھیلایا گیا کہ وہ مرعوب تھے چین کی رفتار تعمیر وترقی سے۔ اگر یہ سچ ہے تو یہ بات بھی جھوٹ نہیں ہوسکتی کہ باکمال چینیوں نے کرونا نامی ڈائنو سارس کو چاروں شانے چت گرا کر اس پر قابو پا لیا ہے۔ چین کی اس فتح پر سارا عالم تالیاں پیٹ رہا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ یورپ والے اس جرثومے پر کیسے قابو پاتے ہیں کہ ان کے آتشدان سے نکلنے والی اس چنگاری کا رخ ان کے دامن کی جانب ہے۔ اک حرف غلط کی طرح مٹا ڈالی تھی اک حقیر سے مچھر نے نمرود کی خدائی لیکن نماز پنجگانہ کیلئے ہمہ وقت باوضو رہنے والے پاکستانیوں کا بھلا کیا بگاڑ سکے گا کرونا کہ اس کا علاج ہی باوضو اور باحجاب اور گوشہ نشیں رہنا ہے
چھپا نہ گوشہ نشینی سے راز دل وحشت
کہ جانتا ہے زمانہ مرے سخن سے مجھے