کھڑے رہوگے کہاں تک تماش بینوں میں

مصرعہ میں تھوڑی سی تحریف لازمی ہے اس لئے لفظ مقطع کی بجائے مطلع کا استعمال کرتے ہوئے کیوں نہ مصرعہ کو یوں کر لیا جائے کہ ”مطلع میں آپڑی ہے سخن گسترانہ بات” اور بات ہی ایسی ہے کہ اس مشہور زمانہ مصرعہ میں ”توڑ پھوڑ” کر کے کام چلا لیا جائے، یعنی مکمل لاک ڈاؤن کی دہائیاں دینے بلکہ گزشتہ روز ہی سے جزوی لاک ڈاؤن کی آڑ میں جس طرح پولیس والوں نے بلااستثنیٰ شہر کے مختلف علاقوں میں ان چھوٹی چھوٹی دکانوں کو بھی زبردستی بند کرانے کیلئے یلغار بولا جن پر جنرل سٹور ہونے کی تہمت ہی دھری جا سکتی ہے کہ ایسی دکانوں پر اشیائے خورد ونوش یعنی دالیں، چاول، چینی، مشروبات، گھی، تیل، آٹے وغیرہ کیساتھ ساتھ تھوڑی بہت وہ چیزیں بھی فروخت ہوتی ہیں جو عرف عام میں جنرل سٹورز کے ہاں دستیاب ہوتی ہیں یعنی ٹائیلٹ سوپ، ٹوتھ پیسٹ، شیمپو، مختلف قسم کے کریم اور لوشن وغیرہ چلیں یہ ان دکانداروں کا قصور ہے کہ انہوں نے انگریزی کے لفظ گراسری Grocery کو سامنے رکھ کر اشیائے صرف کیساتھ ”اشیائے تعیش” سے بھی شوکیس اور الماریاں بھر کر رکھ لی ہیں۔ اس لئے ان کیخلاف کریک ڈاؤن تو بنتا ہی ہے، اس پر خدا جانے کیوں ایک اندھے اور ایک عقلمند شخص کے درمیان ہونے والا مکالمہ یاد آرہا ہے۔ جب بصارت سے محروم شخص نے عقلمند سے سوال کیا کہ کیا بصارت کھو دینے سے بھی زیادہ نقصان دہ کوئی چیز دنیا میں ہے؟ اس پر جواب دیتے ہوئے اُس نے کہا”ہاں جب آدمی بصیرت سے عاری ہو جائے یعنی عقل وخرد کھو دے” حکومت نے تو جزوی لاک ڈاؤن کے دوران جن شعبوں کو پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا یہ گلی محلوں کے گراسری سٹورز بھی ان میں شامل ہیں مگر خدا جانے مقامی پولیس میں کون ایسے عقل کے اندھے ہیں جنہوں نے گزشتہ روز زبردستی ان دکانوں کو بند کر کے عوام کو ضرورت کی اشیاء خریدنے سے محروم کر دیا، یعنی بقول شاعر
آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
خیر جانے دیجئے یہ تو اتنی بڑی بات نہیں البتہ یہ جو چند پوٹاپُر سیاسی رہنماء (جن میں سے اکثر نے مبینہ طور پر قومی دولت لوٹ کر محلات بھی تعمیر کر رکھے ہیں) اور بعض دانشور، صحافی، اینکر وغیرہ مکمل لاک ڈاؤن کیلئے غوغا آرائی کر رہے ہیں اور ان کے بیانیوں کے برعکس وزیراعظم عمران خان نے ملکی حالات کا درست تجزیہ کرتے ہوئے ان غریبوں کی بات کی ہے جن کو ایک وقت کی روٹی بھی بڑی مشکل سے نصیب ہوتی ہے، کیا مکمل لاک ڈاؤن کے ان حامیوں نے کبھی سرشام (کم ازکم پشاور کی حد تک حقیقت یہ ہے) شہر کے مختلف علاقوں میں نانبائیوں کی دکانوں کے آگے درجنوں برقعہ پوش خواتین اور بزرگ مردوں کو گھنٹوں انتظار کی سولی پر لٹکتے دیکھا ہے جو بعض خدا ترس لوگوں کی جانب سے نانبائی کو سو پچاس روپے اس لئے جمع کرا کے چل دیتے ہیں کہ رات ساڑھے آٹھ یا نو بجے تک جتنی بھی رقم جمع ہو جائے اتنی رقم کی روٹیاں ان بے نوا لوگوں میں تقسیم کردی جائیں، شٹل کاک برقعوں میں ملبوس یہ نادار خواتین سردی، بارش یہاں تک کہ جون جولائی کی تپتی گرمیوں میں برقعوں کے اندر پسینے میں شرابور صرف اس لئے وہاں بیٹھنے پر مجبور ہوتی ہیں کہ ان کے گھروں میں بھوک سے بلکتے بچے انہی گنتی کی چند روٹیوں کے انتظار میں ہوتے ہیں اور ان کی اس صورتحال پر خاور احمد کا یہ شعر کتنا موزوں مگر معنویت سے پر دکھائی دیتا ہے
تپتی جولائی کی اس دربدری میں اس نے
سر کھلا چھوڑ کر اپنا، مجھے چادر دی ہے
آگے چلیں، پوٹاپُر سیاستدانوں، اینکروں، تجزیہ نگاروں کی توجہ یقیناً ہر جمعہ کے روز نماز جمعہ کے اوقات میں ہر مسجد کے باہر ایسی خواتین اور بوڑھوں کے جمگھٹوں کی جانب دلانا بھی ضروری ہے جو نماز پڑھ کر باہر نکلنے والوں کی جانب سے دان کئے جانیوالے چند سکوں کے انتظار میں موجود ہوتے ہیں، اب تو مساجد میں نماز پڑھنے کی بھی ممانعت کردی گئی ہے تاہم کب تک، کہ بالآخر جب مکمل لاک ڈاؤن کی نوبت آجائے گی تو ناداروں کی جھولیوں میں ہر جمعہ کو پڑنے والی صدقہ خیرات کی یہ رقم بھی منتقل نہیں ہو سکے گی۔ میر محمد باقر حزیں نے بھی تو کہا تھا کہ
نہ ہو اے باغباں، بلبل کو مانع گل کے ملنے سے
نہیں رہنے کی گلشن میں بہار آخر سدا ہرگز
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن ناداروں، محروموں اور سائلوں کی بات خود وزیراعظم نے بھی کی ہے ان کو دو وقت کی روٹی اگرچہ اب بھی مشکل ہی سے نصیب ہوتی ہے اور موجودہ جزوی لاک ڈاؤن سے ان کی حالت پہلے سے بھی دگرگوں ہو چکی ہے تو مکمل لاک ڈاؤن کے دوران جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کم ازکم پندرہ دنوں کیلئے ہوگا، ان بے نواؤں کے گھروں میں فاقے ڈیرے ڈالے رہیں گے یا پھر جو صاحبان استطاعت ہیں، وہ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق آگے بڑھ کر ان بھوکوں کے گھروں میں راشن پہنچانے میں امداد بھی کریں گے؟ اگرچہ اس وقت بھی ایسی تنظیمیں ملک میں کام کر رہی ہیں جو مختلف شعبوں میں رفاہی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم ماسوائے صحت کے شعبے میں کام کے علاوہ ان تنظیموں کو اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف اس جانب مرکوز کرنے پر غور کرنا چاہئے کہ اگر حکومت مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کرتی ہے تو ہر علاقے میں ایسے رضاکاروں کا تعاون حاصل کیا جائے جو حکومت کیساتھ ساتھ مالدار لوگوں کے تعاون سے غریب لوگوں کو ضرورت کی اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنائیں کہ بقول حبیب جالب
کسی کو فکر نہیں قوم کے مسائل کی
ریا کی جنگ ہے بس حاشیہ نشینوں میں
یہی تو وقت ہے آگے بڑھو خدا کیلئے
کھڑے رہو گے کہاں تک تماشبینوں میں