یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو

پورا ملک لاک ڈاؤن کا مطالبہ بھی کر رہا ہے مگر پورا ملک سڑکوں پر بھی ہے جو تھوڑی بہت بے رونقی نظر آرہی ہے حکومت کی دھمکیوں، تعطیلات اور ہلکی سی سختی کا نتیجہ ہے۔ اس احتیاط یا بے رونقی میں شاید دو سے چار فیصد حصہ رضاکارانہ طور پر گھروں میں مقید ہونے والوں کا ہو۔ اگر حکومت کچھ حفاظتی اقدامات نہ کرتی تو میڈیا کی چیخ وپکار اور عالمی سطح پر سنائی دینے والے خطرے کے الارم ہمارے اجتماعی لاپرواہ روئیے میں صدا بصحرا ثابت ہوتے۔ اٹلی، چین اور دوسری جگہوں میں مقیم پاکستانی جنہوں نے اس بربادی کو قریب سے دیکھا اپنے ہم وطنوں کے روئیے کو دیکھ کر خون کے آنسو رو رہے ہیں جسے موقع ملتا ہے لاک ڈاؤن سے نظر بچا کر ویران اور سنسان سڑکوں کی ویڈیوز اپ لوڈ کر کے اپنے ہم وطنوں کو بتا رہا ہے کہ خطرہ حقیقی ہے۔ اٹلی میں تیس سال سے مقیم ایک پاکستانی نے دن کے بارہ بجے شہر کے وسط میں ایک پُررونق تفریح گاہ اور اس کے قریب آبادی کی ویڈیو اپ لوڈ کی ہے۔ اس ویڈیو میں اٹلی کی قدیم طرز کی پُرشکوہ عمارتیں بھوت بنگلے دکھائی دے رہے ہیں اور وسیع گلیاں اور سامنے ایک بڑی تفریح گاہ انسانوں کی دید کو ترستی ہوئی نظر آرہی ہے۔ یہ شخص رو رو کر پاکستانیوں کو، اپنے عزیر واقارب کو بتا رہا ہے کہ اس خطرے کو مذاق نہ سمجھیں۔ چین کے شہر ووہان سے پی ایچ ڈی کی غرض سے مقیم ایک پاکستانی نوجوان نے بھی پُرنم آنکھوں سے اہل وطن کو سمجھایا ہے کہ احتیاط میں دیر نہ کی جائے۔ اسی دوران معروف شاعر بشیر بدر کی برسوں پہلے ایک مشاعرے میں ترنم سے پڑھی گئی نظم بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں بشیر بدر آج کی نسل اور انسان سے مخاطب ہیں۔
یونہی بے سبب نہ پھر کرو کوئی شام گھر میں رہا کرو
وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو
اس وقت تک کورونا سے نمٹنے کا واحد شافی نسخہ یہی ہے جس کی نشاندہی بشیر بدر نے کی ہے یعنی عوام کی نقل وحرکت محدود کر دی جائے۔ حکومت کے اندر اور حزب اختلاف کی جماعتیں بھی اسی بات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ چند دن قبل وزیراعظم پاکستان عمران خان نے میڈیا نمائندوں کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا تھاکہ ایسے حالات نہیںکہ ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کیا جائے، اس کی وجہ انہوں نے روز کی بنیاد پر کام کرکے کمانے والے افراد کی مشکلات بتائی تھی۔ وزیراعظم نے تعمیراتی صنعت سے وابستہ افراد کو مراعات دینے کا اعلان بھی کیا تھا تاکہ ملک میں تعمیراتی سرگرمیاں جاری رہیں جس کے ذریعے مزدوری پیشہ لوگوں کا چولہا بھی جلتا رہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو ملک کے ہر طبقے کا مفاد اور معاملات ومسائل کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔ ایک طرف جہاں کورونا سے عوام کو بچانا بھی ضرروی ہیں وہیں غریب طبقے کو کورونا کی بجائے بھوک سے مرنے سے بھی بچانا ہے۔ اس کا کیا کیجئے کہ خود ہمارے عوام کا رویہ حکومت کو لاک ڈاؤن کرنے کی دعوت دینے کے مترادف ہے۔ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ انسانوں کے درمیان جس فاصلے کی ضرورت ہے محفلوں اور راستوں میں اس کا بھی کہیں خیال نہیں رکھا جا رہا۔ یوں لگ رہا ہے کہ ہمارے لوگ اس خطرے کی سنگینی کو سمجھنے سے قطعی قاصر ہی نہیں انکاری ہیں۔ آفات اور مصائب کسی کی تسلیم ورضا کے محتاج ہوتے ہیں نہ اس کا انتظار کرتے ہیں وہ خاموشی سے شکار کی دہلیز پار کرتی ہیں۔ یہاں تو آفت ہماری سرحدوں کے اندر داخل ہو چکی ہے اور وہ ہر گزرتے دن کیساتھ اپنے پنجے سوسائٹی میں گاڑھ رہی ہے اس کا ثبوت کورونا کے مریضوں کی تعداد میں ہر روز ہونے والا اضافہ ہے۔ ابھی تو یہ تعداد کنٹرولڈ انداز سے بڑھ رہی ہے، خدا نخواستہ اگر یہ لہر کی شکل اختیار کر گیا تو پھر ہمارا اللہ ہی حافظ وناصر ہے۔ چین سے اٹلی تک کورونا کی تباہ کاریاں دور کی بات نہیں لمحہ موجود کا قصہ ہے۔ ابھی بھی کورونا کی ڈائن بال کھولے نگر نگر گھوم رہی ہے۔ ایسے میں کوئی ملک ومعاشرہ اس معاملے میں غیرسنجیدہ رویہ اپنانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر ہمارے روئیے یہی رہے اور ہم نے قومی طور پر ذمہ دارانہ رویہ اپنا کر بازاروں اور گلیوں کی بھیڑ کم کرکے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کیں تو پھر حکومت کے پاس کچھ مدت کیلئے لاک ڈاؤن اور کرفیو کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ اس کا نقصان پھر کم وزیادہ سہی مگر ہر شخص کو ہوگا۔ غریب اور دیہاڑی دار مزدور شاید اس سے زیادہ متاثر ہوں مگر امیر اور صاحب ثروت بھی اس صورتحال سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ حفاظتی تدابیر اختیار نہ کرنے والے حقیقت میں حکومت کے اعصاب اور صبر کا امتحان لے رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ حکومت اگر سخت اقدامات نہ اُٹھانے کے حوالے سے تنقید کی زد میں آئے گی تو اسے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔ عوام شعور اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے گھروں میں رہ کر حکومت کیساتھ تعاون کا مظاہرہ کریں گے تو حکومت کو بھی لاک ڈاؤن اور کرفیو جیسے فیصلوں سے دور رہنا پڑے گا مگر عوام نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو حکومت پھر طاقت سے اپنے فیصلے منوائے گی اور اس زورا زوری میں غریب طبقات کا نصصان ہوگا۔ حکومت کی حکمت کو کمزور ی سمجھنا خود فریبی ہے۔ عوام کو بہرطور لاک ڈاؤن کیلئے بھی ذہنی اور عملی طور پر تیار رہنا چاہئے۔ یہ معاملہ اب اس بات پر منحصر ہے کہ کورونا کی وباء حکومت کے قابو میں رہتی ہے یا بے قابو ہوتی ہے۔ دوسری صورت میں عوام کی جان بچانے کیلئے کوئی بھی تلخ فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔