آئیں ذرا کچھ الگ سوچیں

آج کل گھر کے اندر’ باہر’ گلی محلے’ مسجد’ دکان ہر جگہ بات کرونا سے شروع ہوتی ہے اور کرونا پر ختم ہوتی ہے۔ بوڑھے’ جوان اور بچے سخت تنگ آچکے ہیں۔ بزرگوں کو اپنے جوانوں اور ان کے بچوں کی فکر ہے’ ان کے سکولوں’ تعلیم اور مستقبل کی سوچ ہے اور جوانوں کے روزگار اور دیگر معاملات کا غم بھی ہے اور دوسری طرف حال یہ ہے کہ ٹیلی ویژن چینلز’ اخبارات’ سوشل میڈیا’ واٹس ایپ پیغامات الغرض ہر کوئی ماہر اور غمخوار اور بعض اس میں کاروباری بن کر بس کرونا ہی کرونا پر بحث مباحثہ’ حکومت پر تنقید اور مفت کے مشورے اور نصیحتیں صبح وشام نشر کر رہے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ یہ خونی اور قاتل بیماری اور وائرس ہے لیکن اس کو جس انداز سے پاکستان میں لیا جا رہا ہے’ آدمی حیران رہ جاتا ہے’ حکومت ایک طرف وسائل اور انتظامات کی کمی کا رونا روتی ہے اور دوسری طرف لاک ڈاؤن کے امکانات کا ذکر کرتی ہے اور اسی سانس میں غریبوں اور دیہاڑی دار مزدوروں کا غم بھی اسے ہلکان کئے جا رہی ہے۔
اب دیکھئے نا’ سندھ میں اور پنجاب میں ایک ہی بیماری کے حوالے سے مختلف اقدامات وانتظامات کئے ہوئے ہیں’ سندھ میں لاک ڈاؤن ہے۔ ہوٹل’ مزارات’ میلے ٹھیلے اور پارکس اور تفریح گاہیں’ بین الصوبائی ٹرانسپورٹ اور سندھ کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ اور بغیر اشد ضرورت کے چار آدمیوں کا مل جل کر کھڑے ہونا منع قرار دیا گیا ہے جبکہ پنجاب میں اور بعض دیگر مقامات پر ہمارے سیاسی ”رہنما ورہبر” ضمانت پر رہائی کی خوشی میں لاہور جیسے بڑے شہر میں جلوس نکال رہے ہیں اور بعض اپنے معتقدین اور پیروکاروں کیساتھ اپنی لین دین جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہی حال عالم اسلام کا ہے، سعودی عرب’ امارات اور دیگر خلیجی وعرب ممالک نے مساجد میں باجماعت نماز معطل کرا کر عوام کو گھروں میں اپنے اہل خانہ کیساتھ نماز پڑھنے کی تلقین کی گئی اور عوام نے بات تسلیم کرلی لیکن پاکستان اور ایران میں لوگ پہلے کی طرح اپنے یہ معمولات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایران میں مشہد اور قم میں بعض مزارات پر پابندی عائد کردی گئی ہے تو عقیدت مندوں نے جمع ہو کر مظاہرہ کیا اور زیارتوں کی زیارت کرنے پر اصرار کیا۔ شاید پاکستانی اور ایرانی مسلمان عربوں سے ذرا بہتر مسلمان ہیں۔ چلو ایمان اپنا اپنا’ عمل اپنا اپنا’ لیکن بات ایک اور بھی ہے اور وہ یہ کہ کرونا سے بچنے اور اپنے ملک عزیز کو اس کے اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے اپنے حصے کا کردار ادا کرتے ہوئے ملک کے غریبوں اور ناداروں کا خاص خیال رکھا جائے اور خاص کر ان لوگوں کا جو اس وقت استعمار کے ظالمانہ حکومتوں کے مظالم کا شکار ہیں۔ اس حوالے سے ہماری دعاؤں’ سفارتی واخلاقی مدد وہمدردی کے جو لوگ سب سے زیادہ مستحق ہیں وہ ہمارے مقبوضہ جموں وکشمیر کے بھائی ہیں۔ پاکستان نے تو اپنے قیام سے لیکر آج تک ہمیشہ اپنے بھائیوں کیلئے اپنی بساط کے مطابق ہر ممکن مدد بہم پہنچانے کی کوشش کی ہے اور جب سے انڈیا نے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اس جنت نظیر خطے کے باشندوں کو گھروں میں محصور ومحبوس کر رکھا ہے پاکستان اور دنیا بھر کے حساس اور انسانی حقوق پر ایمان رکھنے والے لوگوں کو بہت تکلیف پہنچی ہے۔ لیکن کرونا کی وباء نے تو شاید ہر اس شخص کو جو احساس رکھتا ہے اور کرونا کے خوف سے اپنے گھر میں محصور ہے’ بخوبی احساس ہوا ہوگا لیکن بھارت کی بے حس حکومت اور مودی کی وائرس کو اس کا شاید اب بھی احساس نہیں ہے۔ پچھلے دنوں جب بھارت نے سارک فورم سے جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان کرونا کیخلاف ملکر جدوجہد کرنے کی بات کی تو ایک موہوم سی اُمید پیدا ہوئی کہ شاید اس کا کچھ فائدہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کو بھی پہنچے۔ اسی وجہ سے وزیراعظم پاکستان کے صحت عامہ کے مشیر ڈاکٹر ظفر مرزا نے ویڈیو کانفرنس میں اپنی گفتگو کے دوران جہاں یہ پیشکش کی کہ پاکستان سارک ممالک کے وزرائے صحت کی پاکستان میں کانفرنس کی میزبانی کو خوش آمدید کہے گا وہاں اس موقع پر بھارت کو احساس دلایا کہ مہینوں سے لاک ڈاؤن جموں وکشمیر کے عوام کو کم ازکم اس موقع پر کرونا سے بچاؤ کیلئے ریلیف دیا جائے لیکن بھارت کی وزارت خارجہ نے اس پر عجیب وغریب ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان نے صحت کے معاملے پر سیاست کی ہے”۔ حالانکہ پاکستان نے کوئی سیاست نہیں کی ہے بلکہ انسانیت اور انسانی حقوق کی بات کی ہے۔ آزمائش وابتلاء کے ان ایام میں ہم سب ملکر وطن عزیز اور عالم اسلام وعالم انسانیت کیلئے دعائیں مانگیں اور کشمیریوں کیلئے خصوصی دعائیں، اس کے علاوہ حکومت کیساتھ تعاون کرتے ہوئے اولی الامر کی حیثیت سے ان کے کرونا آفت کے خاتمے کیلئے ان کے احکام وہدایات پر من وعن عمل کریں۔ اور جو لوگ گھروں میں محصور ہونے سے تنگ دلی محسوس کرتے ہیں’ ان کی توجہ کیلئے عرض ہے کہ ان ایام میں قرآن کریم کی تلاوت اور تفہیم (کوئی سادہ ترجمہ وتفسیر کا مطالعہ) سے بہتر کوئی عمل نہیں۔ لہٰذا اساتذہ اور طلبہ اس سے خصوصی فیض حاصل کریں۔