افغانستان امن’ ابھی لمبا سفر باقی ہے

رواں سال انتیس فروری کو امریکہ اور طالبان کے مابین طے پائے جانے والا امن معاہدہ بلاشبہ تاریخی نوعیت کا حامل ہے۔ مگر صدراشرف غنی کی جانب سے معاہدے کے برخلاف پانچ ہزار جنگی قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کے باعث اب یہ معاملہ کھٹائی میں پڑتا محسوس ہوتا ہے۔ اشرف غنی کی حکومت اور طالبان کی جانب سے قیدیوں کی رہائی فریقین میں اعتماد سازی کا بہترین موقع فراہم کر سکتی تھی جسے طالبان اور حکومت کی جانب سے آپس میں براہ راست مذاکرات کیلئے ایک زینے کے طور پر استعمال کیا جانا تھا۔ یاد رہے کہ ان براہ راست مذاکرات کیلئے طالبان بڑی مزاحمت کے بعد رضامند ہوئے تھے۔ اس امن معاہدے کی دیگر شقوں میں چودہ ماہ کے اندر افغانستان سے غیرملکی افواج کا انخلاء بھی شامل تھا جسے طالبان کی جانب سے چند سیکورٹی ضمانتوں کیساتھ نتھی کیا گیا تھا البتہ امریکہ نے پہلے ہی اپنی افواج کو یہاں سے نکالنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ چھ ماہ قبل ہونے والے متنازعہ انتخابات کے مبینہ فاتح صدر اشرف غنی نے صدارتی محل میں اپنے عہدے کا حلف اُٹھایا جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والے عبداللہ عبداللہ نے انتخابات کے نتائج کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے ایک دوسرے مقام پر اشرف غنی کے ہم پلہ صدر کے طور پر حلف اُٹھایا۔ حلف برداری کی ان دو متنازعہ تقاریب نے افغان حکومت کے طالبان کیساتھ مذاکرات کرنے کے اختیار کو شدید مشکوک کر دیا ہے۔ہمیں جنگی نقصانات سے چُور افغانستان میں امن بحالی کیلئے تمام فریقوں کے پاس موجود چند آپشنز اور ان کی روشنی میں درکار اقدامات کا جائزہ لے لینا چاہئے۔ میر ے ذاتی خیال میں اس پورے معاملے میں طالبان ہی مرکزی کردار کے حامل ہیں اور طالبان کے ایک ترجمان نے بھی اس بات کا ببانگ دہل اقرار کیا ہے کہ وہی افغانستان کے سچے اور حقیقی حاکم ہیں اور یہ انہی کا اقتدار تھا کا جس پر سال 2001 میں ناجائز طور پرقبضہ جما لیا گیا تھا۔ طالبان کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ امریکی افواج کے مکمل انخلاء کے بعد افغان افواج تو ان کے مقابلے کی بساط ہی نہیں رکھتیں مگر اس برتری کے باوجود، طالبان ایک حقیقت پسندانہ حکمت عملی اپنانا چاہتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کی امریکہ افواج کے وہاں سے انخلاء کی خواہش پوری ہونے کے باوجود انہیں افغانستان کی بحالی اور استحکام کیلئے ایک لمبے عرصہ تک امریکی امداد درکار ہوگی۔ وہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ عنقریب افغانستان پر حکومت کی بھاگ دوڑ انہی کے ہاتھوں میں ہوگی یا کم ازکم وہ اقتدار کے اہم حصہ دار ہوں ضرور ہوں گے۔کمزور ہی سہی البتہ صدر اشرف غنی کی حکومت ہی افغانستان کی اصل حکومت ہے۔ ان کی حلف برداری میں زلمے خلیل زاد اور نیٹو افواج کے سرابراہ سکاٹ ملرز کی شرکت نے اس بات پر مہرتصدیق ثبت کر دی ہے کہ یہ صدر اشرف غنی کی حکومت کو ہی ملک کی اصل حکومت تسلیم کرتے ہیں۔ اشرف غنی کا حکومت سنبھالتے ہی سب سے پہلا اعلان طالبان کیساتھ مذاکرات کیلئے ایک وفد کو تشکیل دینے کے حوالے سے آیا تھا۔ مزید برآں امریکی سکریٹری آف سٹیٹ مائیک پامپیو کے اس بیان نے ان کی حکومت کو مزید مستحکم کر دیا ہے کہ واشنگٹن اشرف غنی کے مقابلے میں کسی بھی متوازی حکومت کی تشکیل یا افغانستان کے سیاسی مسائل کو طاقت کے بل بوتے پر حل کرنے کی شدید مخالفت کرتا ہے۔ انتخابات میں دوسرے نمبر پر آنے کے بعد عبداللہ عبداللہ شاید اب اپنی وہ حیثیت کھو چکے ہیں البتہ یہ بات قطعی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ انہیں ملک میں موجود تاجک اور ازبکوں جیسے مختلف بڑے لسانی گروہوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ عبداللہ نے خود اپنی حلف برداری کے بعد پہلا بیان یہی دیا تھا کہ افغان امن عمل ہی ان کی پہلی ترجیح رہا ہے۔ یاد رہے کہ عبداللہ سابق گوریلہ رہنما احمد شاہ مسعود کے دست خاص رہ چکے ہیں اور انہیں شمالی اتحاد کے بیشتر رہنماؤں کی بھی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ افغان تجزیہ کار فیض محمد کے مطابق عبداللہ عبداللہ کو ان اہم سیاسی رہنماؤں کی بھرپور حمایت حاصل ہے جو اشرف غنی کے ذہن میں پلنے والے کسی بھی ایجنڈے کو کسی بھی وقت ہوا میں اُڑا سکتے ہیں۔امریکی حکومت بھی اس سارے معاملے میں نہایت اہم کردار کی حامل ہے۔ امریکہ سپرپاور ہونے کے ناطے افغانستان مسئلے سے وابستہ پاکستان سمیت تمام فریقوں پر اپنا اثر ورسوخ رکھتا ہے۔ امریکہ اب پچھلے انیس برس سے جاری جنگ میں ناکامی کے بعد اپنے تیرہ ہزار فوجی افغانستان سے نکالنے کے حوالے سے ذہن بنائے بیٹھا ہے۔ اب بھلے طالبان اور افغان حکومت کسی معاہدے پر متفق ہوں یا نہیں، امریکی صدر اس قدر تباہ کن جنگ کے بعد اپنی فوجی امریکہ سے نکالنے کا اٹل فیصلہ کر چکے ہیں اور اب صرف ایک ہی صورت ایسی بچی ہے جو امریکہ کا اس حوالے سے فیصلہ بدل سکتی ہے اور وہ یہ کہ افغانستان کی سرزمین امریکہ کیخلاف دہشتگردی کیلئے ایک مرتبہ پھر استعمال ہونے لگے۔ زلمے خلیل زاد نے اس تمام معاملے میں پاکستان کے کردار کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اقرار کیا کہ طالبان کو امریکہ کیساتھ مذاکرات کے میز پر لانے اور انہیں افغان حکومتی نمائندوں سے ملنے پر رضامند کرنے میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔افغانستان میں دیرپا امن کا قیام پاکستان سمیت پورے خطے کیلئے ناگزیر ہے البتہ اس مضمون میں بیان کئے گئے عوامل اس بات کا اشارہ کرتے ہیں اس دیرپا امن کو قائم ہونے میں ابھی کافی وقت لگے گا۔ حال ہی میں پھوٹنے والی یہ کرونا کی وباء اس معاملے میں مزید سست روی کا سبب بن سکتی ہے کہ ابھی اس وائرس کے باعث دنیا بھر میں لگائے جانے والی پابندیوں کے سبب افغان حکومتی نمائندے اور طالبان کے وفود کا فوری طور پر ملنا اور اکھٹا ہونا بھی ممکن نہیں رہا۔
(بشکریہ: پاکستان آبزرور۔ ترجمہ: خزیمہ سلیمان)