جماعت گھر میں محرم خاتون کےساتھ بھی ہوسکتی ہے۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی

کراچی: مفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ بچے اور 50 سال سے زائد العمر افراد مساجد میں نہ جائیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر حفاظتی طور پر محتاط نہ رہا جائے تو ذیادہ لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ علامہ شہنشاہ نقوی، مولانا محمد سلفی اور چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مصیبتیں ہمارے اعمال کی وجہ سے آتی ہیں، ہم نے مختلف طریقے اختیارکئے جو اس وبا کا سبب بنے، اور اب توبہ استغفارکے بغیر چھٹکارہ مشکل ہے، عریانی، ناانصافی، منافع خوری، سودخوری، زنا اور دیگر گناہوں سے اللہ سے مل کر معافی مانگی جائے۔

مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ مساجد میں باجماعت نماز جاری رہے گی، جن لوگوں کو ڈاکٹرز نے منع کیا ہے وہ گھروں میں نماز ادا کریں، جماعت گھر کی خواتین کے ساتھ بھی ہوسکتی ہے، اور جو حضرات مسجد میں نماز ادا کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے گھر میں وضو کریں اور سنتیں بھی گھر میں ادا کر کے آئیں، مساجد کے دروازوں پر سینیٹائزرلگائے جائیں، اور مساجد کے اندر صفائی کا خاص اہتمام کیا جائے۔