ذخیرہ اندوزوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے

صوبہ بھر سے ہمارے نمائندوں کی رپورٹوں کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں صورتحال کا نا جائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کا تازہ سلسلہ اضلاع کی انتظامیہ کیلئے کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں۔ اضلاع کی طرح صوبائی دارالحکومت پشاورکے شہری اورمضافاتی علاقوں میں ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں نے کورونا وائرس کے لاک ڈائون کے دوران ایک مرتبہ پھر آٹے کامصنوعی بحران پیداکردیا ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں20کلو آٹے کا تھیلا 4سو روپے مہنگا ہوگیا ہے، گزشتہ روز آٹھ سو روپے کا تھیلا 12سو روپے میں فروخت ہوا۔ واضح رہے کہ پشاورکی اوپن مارکیٹوں میں آٹا اوردیگراشیاء خوردونوش کی قیمتو ں میں غیرمعمولی اضافہ کردیاگیاہے جس کے باعث دکانوں میں آٹے کی قلت پیداہونے لگی ہے دکانداروں نے اوپن مارکیٹ سے آٹا اُٹھاناشروع کردیاجومہنگے داموں فروخت کیاجارہاہے ۔ کورونا ایمرجنسی کے دوران نگرانی کا نظام سست ہونے کی وجہ سے سرکاری کوٹہ کے تحت آٹا بھی مارکیٹ سے غائب کردیا گیا ہے جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ہنگامی حالات میں عوام کی جانب سے اشیائے خوردنی اور خاص طور پر آٹا کی خرید میں اضافہ کی صورتحال اور ضلعی انتظامیہ کی حد درجہ مصروفیات اور توجہ دوسری جانب ہونے کے باعث صورتحال سے فائدہ اُٹھانے والوں کو خوف خدا کرنا چاہئے۔ایک ایسے وقت میں جب ایثاروقربانی اور نیکی وہمدردی کے جذبے کی ضرورت ہے ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں نے موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے یہ واضح کردیا کہ ان کیلئے ہوس زر سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔یہ درست ہے کہ اس طرح کی صورتحال میں حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داریاں بڑھ چکی ہیں اس کے باوجود عوام کو اس قسم کے عناصر کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ان عناصر کیخلاف سخت سے سخت اقدامات اُٹھانے میں تاخیر کی گئی تو خدانخواستہ صوبے میں اشیائے خوردنی اور آٹا صرف مہنگاہی نہیں بلکہ آٹا کی قلت اور بحران پیدا ہو سکتا ہے ۔حکومت کو سرکاری ریٹ پر آٹا کی مارکیٹ میں وافر مقدار میں فراہمی کے ذریعے آٹا ذخیرہ کرنے والوں کا مقابلہ کرنا چاہئے، ساتھ ہی ساتھ ذخیرہ اندوزوں کے گوداموں پر چھاپہ مار کر آٹا ضبط اور ذخیرہ اندوزوں کو جیل یاترا کرانا چاہیے۔
نمازیوں کے تحفظ کیلئے ممکنہ اقدامات میں تاخیر نہ کی جائے
پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے ضلع بھر کی تمام مساجد میں بچھائے گئے کارپٹ فوری طور پر ہٹانے، انتظامیہ کو صفائی سے متعلق آگاہ کرنے اور مساجد کو سینی ٹائز کرنے کے اقدامات اُٹھانے کی جو ہدایات جاری کی ہیں خطیب وآئمہ حضرات متولیان مسجد اور مسجد کمیٹیوں کی طرف سے ان ہدایات پر عمل کر نے میں تاخیرکامظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔علمائے کرام اور مساجد کی انتظامیہ کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرانے کی ضرورت ہی نہیں کہ دین اسلام میں انسانی زندگی کی حرمت اور قدروقیمت کو اولیت حاصل ہے ہمارے علمائے کرام اور مساجد کی انتظامیہ کو ان ساری چیزوں اور ممکنہ حفاظتی اقدامات کا بخوبی احساس ہے، دنیا کے دیگر اسلامی ممالک نے ایک قدم بڑھ کر اقدامات کر رکھے ہیں وہاں پر نماز گھروں میں پڑھنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اس وقت تک پاکستان میں علمائے کرام نے اس درجے کے اقدامات سے اتفاق نہیں کیا ہے لیکن حالات جس نہج پر ہیں اس سے اس امر کی ضرورت محسوس ہونی چاہئے کہ پاکستان میں اس طرح کے اقدامات پر توجہ دی جائے اس ضمن میں حکومت پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ دیگر اسلامی ممالک کی طرح اس ضمن میں علمائے کرام سے رائے کے حصول اور بہتر حکمت عملی کیلئے رجوع کرے۔ حکومت سے بڑھ کر اس صورتحال پر غور کرنا اور ممکنہ حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی ذمہ داری نبھانے میں علماء کو بھی تاخیر کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے، کرونا وائرس کے پھیلائو میں ایرانی زائرین اور تبلیغی جماعت کے بعض ارکان کے حوالے سے اطلاعات کے بعد مذہبی اجتماعات کو معطل کرنے کی ضرورت شدت سے محسوس ہورہی ہے، خوش آئند امر یہ ہے کہ غیر ملکی مبلغین کے علاوہ مقامی مبلغین سے فوری طور پر اس سلسلے کو معطل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ علمائے کرام نمازیوں کے تحفظ کیلئے ہر قسم کے ممکنہ اقدامات پرتوجہ دیں گے اور سرکاری طور پر ان کو جو ہدایات دی گئی ہیں اس پر فوری عمل کرنے کی ذمہ داری بلاتاخیر نبھائیں گے۔
محکمہ تعلیم کے حکام کی توجہ کیلئے
خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے مستحق اور قابل طالب علموں کو سرکاری وظیفہ دینے، اچھے اور معیاری تعلیمی اداروں کی احسن پالیسی کا بعض عاقبت نااندیش عناصر کی جانب سے غلط استعمال کے باعث لائق وفائق طالب علموں کی حق تلفی کی اطلاعات کا سختی سے نوٹس لیا جانا چاہئے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مستحق طلباء کو معیاری سکولوں میںتعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنے کیلئے شروع کردہ سکیم میں غیرمستحق افراد نے چور دروازے نکال لئے ہیں، مذکورہ سکیم کے تحت تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کے تعلیمی اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق محکمہ تعلیم کے ملازمین بالخصوص اساتذہ مختلف انگلش میڈیم پرائیویٹ سکولوں میں زیر تعلیم اپنے بچوں کو ایٹا ٹیسٹ کیلئے درخواست دینے سے ماہ ڈیڑھ ماہ قبل اُٹھا کر سرکاری سکول میں داخل کروا دیتے ہیں اور پھر انہیں سرکاری سکول میں زیر تعلیم طلباء کے طور پر ایٹا ٹیسٹ میں بٹھا دیتے ہیں جبکہ بعض صورتوں میں فرضی داخلے بھی دلوائے جاتے ہیں ۔ اسی طرح کا حربہ میڈیکل اور انجینئر نگ کالجوں میں داخلوں کیلئے کوٹہ رکھنے والے علاقوں میں بھی اختیار کیا جاتا ہے لیکن چونکہ کاغذی کارروائی درست ہوتی ہے اسلئے چیلنج کئے جانے کے باوجود اس قسم کے چکر باز بچ نکلتے ہیں۔ محولہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے سخت قوانین بنائے جائیں اور ہرطالب علم کا مکمل ریکارڈ چیک کیا جائے اور اگر شک گزر ے تو سارے اساتذہ اور پوری کلاس سے گواہی لی جائے تاکہ اس قسم کی جعلساز یوں اور حق تلفیوں کی روک تھام کی جا سکے۔ دوسروں کا حق مار کر اپنے بچوں کو آگے بڑھانے والے عناصر کو خوف خدا کرنا چاہئے کسی کی خوشی چھین کر اور کسی کا حق مار کر کبھی بھی کامیابی ممکن نہیں ہوا کرتی ۔