شاہ محمود قریشی کا پارلیمنٹ میں پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب

نیشنل سروس کا جذبہ ہمارے اندر ہونا چاہیے ہم سیاسی جماعتیں ہیں سیاست ہم کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے سیاست کا ابھی بڑا وقت پڑا ہے ہمیں سیاسی مقاصد سے بالا تر ہونا ہے، پاکستان کی عوام اور قومی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں آگے بڑھنا ہے، میں ابتدا میں ہی کہنا چاہوں گا کہ وزیراعظم کی خواہش تھی کہ اس قسم کا اجلاس منعقد ہونا چاہئے۔

سپیکر صاحب نے اپوزیشن کی ملٹی پارٹی کانفرنس سے پہلے ہی بلاول بھٹو زرداری صاحب، شہباز شریف صاحب اور مولانا فضل الرحمن صاحب سے رابطے کر لئے تھے اور فیصلہ ہوا تھا کہ ہم پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس بلا کر تفصیلی مشاورت کریں گے جس کیلئے آج کا دن طے ہوا

اپوزیشن نے اگر ملٹی پارٹی کانفرنس کی ہے تو اس میں کوئی مذائقہ نہیں اس میں بہت سے ہمارے دوست اور حلیف شریک ہوئے اس میں بھی یقینا فائدہ ہو گا کیونکہ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے جس کی ابھی ابتدا ہوئی ہے ہمیں یکجا ہونا ہو گا ہمیں کشادہ دلی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اگر تنگ دل رہے تو اس اجلاس کا مقصد فوت ہو جائے گا، اس اجلاس کا آغاز اچھا نہیں ہوا لیکن اختتام اچھا ہو رہا ہے یہاں تشریف فرما رہنماؤں کی قابل قدر آراء سامنے آئی ہیں۔ میں سندھ حکومت کی کاوشوں پر ان کا شکریہ ادا کروں گا میں ان کی محنت کا اعتراف کروں گا۔

بلوچستان حکومت نے جن مشکل حالات کا سامنا کیا میں ان کو خراج تحسین پیش کروں گا، خیبر پختون خواہ ہو یا پنجاب، ہر صوبے نے اپنے تعیں اس سے نمٹنے کیلئے اقدامات کئے، اس سے پہلے بھی آفتوں کا ہمیں سامنا رہا وہ زلزلے ہوں یا سیلاب ہوں لیکن وہ آفتیں محدود تھیں لیکن یہ وبا لامحدود نوعیت کی ہے۔ دنیا کا کوئی براعظم، کوئی خطہ اس سے محفوظ نہیں رہا اس سے نبرد آزما ہونے میں وقت لگے گا، میں اپوزیشن کی تنقید کا برا نہیں مناؤں گا میں اس میں سے مثبت پہلو تلاش کروں گا۔ آج کے اجلاس کا مقصد پولیٹیکل انکلیوزن ہے ہمیں دیکھنا ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ہم اس وبا سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ سعید غنی صاحب آج اس وبا سے دو چار ہیں میں ان کی جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہوں اور جو بھی اس مرض کا شکار ہیں آئیں سب مل کر ان سب کی صحت یابی کیلئے دعا کریں۔

شہباز شریف صاحب نے تفتان کی بات کی کاکڑ صاحب نے انتہائی اہم بات کی کہ وبا کا 78 فیصد ایران سے پاکستان میں آیا 17 فیصد دیگر ممالک سے آیا جبکہ 5 فیصد ملک کے اندر سے پھیلا، اس 78 فیصد جو ایران سے آیا اس کی وجہ قم کا اجتماع تھا جہاں بے شمار زائرین جمع تھے جو گرہوں کی صورت میں قم سے نکلے تفتان تک پہنچتے ہوئے انہوں نے 1400 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا چنانچہ بہت سے زائرین ایسے ہوں گے جو تفتان پہنچنے تک اس وبا سے متاثر ہو چکے ہونگے کیونکہ یہ خارج از امکان نہیں ہے۔

ایران ہمارا ہمسایہ بھی ہے اور خطے میں سب سے بڑا چیلنج ایران کو درپیش ہے معاشی پابندیوں کی وجہ سے ایران کو اس وبا سے نمٹنے کیلئے مشکلات کا سامنا بھی ہے، ہم نے ایران سے گزارش کی کہ آپ ان زائرین کو یکلخت نہ بھیجیں تاکہ ہم مناسب انتظامات کر سکیں۔ میں آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہوں گا کہ ہم نے اپنے طلباء کو چین سے کیوں نہیں بلایا؟ کیونکہ ہم نے دیکھا کہ چین کے ہاں طبی سہولیات ہم سے زیادہ ہیں اور وقت نے ثابت کیا کہ ہمارا فیصلہ درست تھا۔ میں ابھی چین سے ہو کے آیا ہوں وہاں ویڈیو لنک کے ذریعے ہماری پاکستانی طلباء سے ملاقات ہوئی چین کی تیرہ یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہمارے طلباء وہاں موجود تھے بلکہ چار ہماری بچیاں جو فیملی وے میں تھیں ان کے بچوں کی ولادت وہاں ہوئی اور الحمد للہ وہ سب کے سب صحت مند تھے۔

چین میں زیر تعلیم طلباء ہم سے یہ کہہ رہے تھے ہم کل فکر مند تھے آج پاکستانی حکومت کے شکر گزار ہیں کل ہمارے والدین ہمارے بارے میں متفکر تھے آج ہمیں ان کی فکر لاحق ہے۔ جب چین اس عالمی چیلنج سے نبرد آزما تھا تو 30 ممالک نے اپنے لوگ وہاں سے نکال لیے لیکن ہم نے اپنے طلباء کو نہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہمارے فیصلے کو چینی قیادت نے سراہا، میری ملاقات چین کے صدر شی اور وزیر اعظم چین سے ملاقات ہوئی انہوں نے واضح کہا کہ ہم سنتے چلے آ رہے ہیں کہ پاکستان اور چین آئرن برادر ہیں لیکن چین پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو چین سے نہ نکال کر آپ نے ثابت کر دیا کہ واقعی پاکستان اور چین آئرن برادر ملک ہیں۔ آج چین آپ کے ساتھ کھڑا ہے آپ کو طبی سامان اور ہر طرح کی معاونت فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ہم پر اعتراض ہوا کہ ہمارے جو زائرین بلوچستان میں آئے ان کو ائیرلفٹ کیوں نہیں کیا گیا؟ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ انہیں ائیرلفٹ کہاں کرتے؟ ابھی کوارنٹائین سینٹرز بنائے جا رہے تھے، جب نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا تو اس میں تمام وزرائے اعلیٰ موجود تھے وہاں یہ زیر بحث لایا گیا وہاں وسائل کی عدم دستیابی کے سبب صوبوں نے ذمہ داری لی، چین جانے سے پہلے ہم نے فی الفور ملتان میں کوارنٹائین سینٹر بنانے کی کوشش کی اور تین ہزار لوگوں کا ہم نے کوارنٹائین سینٹر قائم کیا۔
تفتان سے 1247 زائرین کو ہم نے وہاں الگ الگ کمروں میں رکھا سندھ نے سکھر میں انتظامات کئے اسی طرح سب نے انتظامات کئے، ہمیں یہ انتظامات بتدریج کرنا پڑیں گے ہمیں کوارنٹائین سینٹرز مزید بنانا پڑیں گے۔