قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا

کررونا وائرس کے باعث اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں ایک بلین سے زائد افراد اپنے اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چونتیس ملکوں میں اس وقت مکمل لاک ڈاؤن نافذ ہے جبکہ دیگر کئی ملکوں میں حکومتوں نے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی تاکید کی ہے۔ دس ممالک میں کرفیو بھی نافذ ہے۔ دریں اثناء دنیا بھر میں نئے کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 339,337 تک پہنچ گئی ہے۔ 14,703افراد اس وائرس کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔ وائرس کے باعث ہونے والی بیماری کووڈ انیس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 99014ہے۔ تئیس مارچ کے اعداد وشمار کے مطابق اس وقت عالمی سطح پر225,620 افراد اس بیماری میں مبتلا ہیں، جن میں سے215,067 کی علامات زیادہ سنجیدہ نہیں جبکہ19,553 کیس سنجیدہ نوعیت کے ہیں۔ اس وقت بھارت کے 80شہروں مکمل لاک ڈاؤن ہے، بھارت میں پہلا موقعہ ہے کہ ٹرینیں دس روز کیلئے بند کر دی گئیں ہیں جبکہ دوسری جانب سعودی عرب میں پیر کے روز سے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جو تاحکم ثانی ہے، کرونا کے بارے میں اسی طرح دنیا بھر سے جو خبریں مل رہی ہیں وہ سب اندیشوں، خدشات اور گمبھیر حالات سے بھری ہوئی ہیں تاہم پاکستان کے حالات بھی تشویشناک ہیں، کرونا سے نمٹنے کیلئے آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کیلئے فوج کو طلب کر لیا گیا ہے۔ یہ کہنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ کرونا کی وباء سے نمٹنے کیلئے ہر طرف سے چاہے وہ حکومتی حلقے ہیں یا پھر عوام سے متعلق ہے غیرضروری عدم سنجیدگی کا مظاہرہ ہوا ہے خاص طور پر سوشل میڈیا کا جس طرح استعمال ہوا اس سے ملک میں ایک غیریقینی کی صورتحال نے جنم لیا اور سادہ لوح عوام کو حقائق کا صحیح طور پتہ نہیں چل پا رہا ہے کہ ملک کی اصل صورتحال ہے کیا۔ سرکاری لوگوں کی جانب سے متضاد بیانات آرہے ہیں، ایک عجب تناظر پیدا ہوگیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے خصوصی معاون ڈاکٹر ظفر مرزا نے پہلی پریس کانفرنس میں اس بات کا اشارہ دیدیا تھا کہ کرونا وائرس کا بھیانک بے قابو جن ان کے بس کی بات نہیں حالانکہ اس وقت صرف چین اس موذی وائرس سے متاثر تھا جو آہستہ آہستہ بڑھتا ہوا ایران پھر اٹلی اور اب اس وقت تک تقریباً پوری دنیا کو گرفت میں لے چکا ہے۔ اس موذی وائرس سے دنیا بھر میں تین لاکھ اکیس ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں، اب تک چودہ ہزار کے قریب افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور یہ سلسلہ بنا رُکے چلے جا رہا ہے۔ تاہم پاکستان کے ذرائع نے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن یا کسی اور عالمی ادارے کی جانب سے کرونا وائرس کے تناظر میں پاکستان کو خطرے کی پہلی تین کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے، پاکستان میں بھی روزبروز اس موذی جان لیوا وائرس سے متاثرین کی تعداد اس وقت تک آٹھ سو پانچ تک جا پہنچی ہے جبکہ مرض سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 6ہے جو پاکستان میں مطلوبہ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے خدا نخواستہ بڑھ سکتی اور اس کی طرف دنیا بھر کے ماہرین اشارہ بھی کر رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ وفاقی حکومت اور اس کے حکام اور حکومتی عہدیداروں کی غیرسنجیدگی اور ماضی کی حکومتوں کیخلاف تیراندازی نظر آرہی ہے۔ اب تک کے مشاہدے کے مطابق اس وائرس سے متاثرین کی تعداد دن دگنی رات چگنی کی رفتار سے اضافہ ہوتا ہے کیونکہ اس کی ابھی تک کوئی دوا دریافت نہیں ہو سکی۔ اٹلی، فرانس، برطانیہ، امریکا اور جرمنی جیسے انتہائی ترقی یافتہ ممالک بھی اس سے بری طرح متاثر ہیں، خاص کر کہ اٹلی جہاں صرف ایک دن میں تقریباً آٹھ سو افراد ہلاک ہونے کا ریکارڈ بنا اور کل مرنے والوں کی تعداد ساڑھے پانچ ہزار تک پہنچ چکی ہے جو چین سے زیادہ ہے جہاں سے اس مرض کے حملے کا آغاز ہوا۔ پاکستان میں کرونا وائرس چین سے وارد نہیں ہوا بلکہ پاکستان میں اس کے حملے کی شدت اس وقت آئی جب ایران سے آنے والے زائرین کیلئے تفتان بارڈر کو بغیر کسی احتیاط کے کھول دیا گیا اور کھولنے کا حکم بھی کس نے دیا اس بارے میں مبینہ طور پر الزام وزیراعظم کے انتہائی قریبی دوست زلفی بخاری پر لگایا جاتا ہے۔ موصوف خود بھی ایک ٹی وی پروگرام میں اپنے اس فیصلے کو بیان کرتے ہوئے پائے گئے۔
ہوائی اڈوں پر صورتحال یہ ہے کہ کچھ افراد یا تو چکمہ دیکر کھسک لئے یا پھر لین دین ان کے کام آیا اور وہ بھی اس وباء کے پھیلانے کا باعث بنے، وفاقی حکومت بھی سوتی رہی اور سول ایوی ایشن بھی، لیکن کوئی مؤثر اقدام نہ کر سکا۔اس خراب صورتحال میں ہر طرف سے ملک میں لاک ڈاؤن کا مطالبہ زور پکڑتا گیا اور جو اب بھی موجود ہے، خاص کر سندھ سے جہاں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے انتھک انتظامات تھے وہ تمام اجلاسوں میں اس بات پر زور دیتے رہے کہ شہروں کو بند کر دینے سے ہی صورتحال کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔جہاں تک لاک ڈاؤن کا تعلق ہے تو چین جہاں انہوں نے پورے صوبے اور وائرس کے حملے کے ایپی سینٹر ووہان شہر کو مکمل طور پر بند کر دیا، جہاں اب زندگی اب آہستہ آہستہ واپس آرہی ہے اور اسی پالیسی کو اب دنیا بھر میں عمل میں لایا جا رہا ہے،اٹلی میں یہی ہوا جہاں لوگوں نے حکومت کی اپیل کو نظر انداز کر دیا آج اس کی صورتحال دیکھیں تو خوف تاری ہو جاتا ہے، ان کے ہسپتالوں میں لاش رکھنے کی جگہ نہیں اور ہسپتالوں کا عملہ یہ کہہ رہا ہے کہ اب تو ہم نے لاشیں گننا بھی بند کر دی ہیں۔ کراچی جیسے بڑا شہر ماضی میں نوے کی دہائی میں باربار طویل کرفیو کی زد میں رہا، 77ء میں بھٹو کے دور میں طویل کرفیو کسے یاد نہیں، اس وقت بھی نہ بھوک کی وجہ سے کوئی مرا اور نہ کھانے پینے کی اشیا کی لوٹ مار ہوئی۔ صورتحال کا تقاضہ ہے کہ سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر وزیراعظم عمران خان تمام سیاسی راہنماؤں کو آل پارٹی کانفرنس کی دعوت دیں اور انفرادی فیصلوں کے بجائے مشترکہ اور مؤثر فیصلے کریں، ورنہ اٹلی سے زیادہ بری صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے، جس کا پاکستان جیسا ملک متحمل نہیں ہو سکتا۔