لاک ڈاؤن سے جڑے مسائل

حکومت نے لوگوں کی جانوںکو محفوظ بنانے کیلئے بالآخر لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا ہے’ سندھ کے بعد اب پنجاب’ خیبر پختونخوا سمیت بلوچستان’ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی مکمل طور پر لاک ڈاؤن ہے’ کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے کورونا کے پھیلاؤ میں اولاً ایئر پورٹس پر نگرانی میں اور دوم پاکستان کیساتھ ملحقہ سرحدوں کو محفوظ بنانے میں کوتاہی برتی ہے’ کیونکہ اگر ایئرپورٹس اور سرحدوں بالخصوص تفتان بارڈر کو محفوظ بنا لیا جاتا تو پاکستان میںکورونا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا تھا’ اسی طرح لاک ڈاؤن کے فیصلے میں بھی کسی قدر تاخیر کر دی گئی بہرحال ”دیرآید درست آید” کے مصداق اب ہمیں ایک باشعور قوم کی طرح حکومت کے اس فیصلے میں ہر طرح سے معاون بننا چاہئے۔ 16اپریل تک لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے ‘ کھانے پینے کی اشیاء اور میڈیکل سٹور اس لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ ہیں لیکن ٹرانسپورٹ پر مکمل پابندی عائد ہے’ اس لئے قوی امکان ہے کہ جب دو تین روز کے بعد دکانوں اور گھروں میں موجودہ سٹاک کم ہوگا تو چند مسائل سامنے آ سکتے ہیں’ لاک ڈاؤن کے ان ایام میں حکومت کیلئے راشن کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا کیونکہ جب اشیاء کی کمی کا سامنا ہوتا ہے تو اشیاء معمول کی قیمت سے زیادہ میں فروخت ہونا شروع ہو جاتی ہیں، ذخیرہ اندوز مافیا جب عام ایام میں بحرانی کیفیت پیدا کر کے اضافی قیمت وصول کر سکتا ہے تو مشکل حالات میں ان کیلئے بے شمار مواقع ہوتے ہیں’ لازمی نہیں کہ بحرانی کیفیت کے بعد ہی حکومت کوئی لائحہ عمل بنائے’ اس مقصد کیلئے ضروری ہے کہ حکومت قبل ازوقت ٹیمیں تشکیل دے جو ذخیرہ اندوز مافیا کو اضافی رقم میں راشن کی فروخت سے روکنے کیلئے اقدامات کرے’ راشن کیساتھ ساتھ ادویات کی فراہمی اور ان کی مناسب قیمت پر فروخت یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھانے چاہئے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اس لئے غذائی اشیاء کے بحران کے امکانات بہت کم ہیں کیونکہ سبزیاں’ پھل اور دیگر غذائی اشیاء ہمیں بیرون ملک سے درآمد نہیں کرنی پڑتیں لیکن ذخیرہ کر کے اور اضافی قیمت کی وصولی سے غذائی اشیاء کے بحران کی صورتحال پیدا کر کے عوام کیلئے مشکلات پیدا کی جا سکتی ہیں، حکومت کو اس سلسلے میں پیشگی اقدامات اُٹھانے ہوں گے۔ لاک ڈاؤن کے ایام میں غریب’ نادار اور دیہاڑی دار طبقہ کی ضروریات کا خیال رکھنا چاہئے’ اگرچہ حکومت نے اس سلسلے میں خصوصی پیکیج کا اعلان کیا ہے جو خوش آئند ہے، حکومت نے0 7لاکھ دیہاڑی داروں کو رجسٹر کیا ہے تاکہ مشکل کے ایام میں 3ہزار ماہوار کے حساب سے ان کیساتھ مالی تعاون کیا جاسکے لیکن یہ تعداد حکومت کے تخمینوں سے کہیں زیادہ ہے، محض رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیور ہزاروں سے زیادہ ہیں، انہیں بھی اس پیکج سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا جانا چاہئے، اسی طرح خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد بھی کروڑوں میں ہے ان کیلئے بھی ریلیف کا کوئی بندوبست ہونا چاہئے۔ حکومت اس بحران سے دو طرح سے نبردآزما ہو سکتی ہے ایک یہ کہ پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتوں میں 35فیصدسے زیادہ کمی ہوئی ہے’ اس مد میں بڑی بچت کا رُخ عوام کی فلاح کی طرف موڑ کر حالیہ بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کا فائدہ اُٹھانے کیساتھ ساتھ حکومت کو مخیر حضرات کو ترغیب دیکر مقامی سطح پر اس کا حل تلاش کرنا چاہئے کہ مخیر حضرات انفرادی طور پر لوگوں کیساتھ تعاون کی بجائے حکومت کے ریلیف پیکج کا حصہ بنیں، اس بارے اگرچہ تحفظات ہو سکتے ہیں کہ فنڈز کی شفافیت برقرار نہیں رہے گی لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اگر خدانخواستہ لاک ڈاؤن کی اس مدت میں توسیع کرنی پڑ گئی تو پھر حکومت وسائل کہاں سے لائے گی؟
لاک ڈاؤن کیساتھ جڑا اہم مسئلہ یہ ہے کہ شہروں میں موجود وہ طبقہ جو ملازمت کے سلسلے میں شہروں میں رہائش پذیر ہے یا بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں انہوں نے شہروں کا رخ کیا ہے موجودہ حالات میں اسکولوں اور ملازمت پیشہ طبقہ کی بھی چھٹیاں ہیں تو انہوں نے اپنے آبائی گاؤں دیہات کا رخ کر لیا ہے، یوں شہریوں کی بڑی تعداد گاؤں دیہات کی طرف منتقل ہو گئی ہے اور گاؤں دیہات میں صورتحال یہ ہے کہ لوگ تاحال کورونا کو سنجیدہ لینے کیلئے تیار ہیں اور نہ ہی وہ اس ضمن میں کوئی احتیاط برت رہے ہیں’ اس لئے خدشہ ہے کہ شہروں سے جو بڑی تعداد گاؤں کی طرف گئی ہے ان میں اگر کورونا کے متاثرین ہوئے تو گاؤں دیہات بھی کورونا سے متاثر ہو جائیں گے اور چونکہ گاؤں دیہات میں کورونا کے سدباب کیلئے شہروں کی نسبت کم وسائل ہیں اس لئے کورونا دیہی علاقوں میں تیزی کیساتھ پھیل سکتا ہے۔ گاؤں دیہات میں ملنے ملانے پر کوئی احتیاط نہیں برتی جا رہی ہے بلکہ جو نہ ملے گاؤں کے لوگ اس سے مذاق کرتے ہیں’ میں اس کا چشم دیدہ گواہ ہوں، گزشتہ روز ایک تقریب میں شرکت کیلئے مجھے گاؤں جانا پڑا، لاہور میں مقیم ہمارے ایک عزیز بھی گاؤں آئے ہوئے تھے، ان کا 7,8سال کا بچہ احتیاط کے پیش نظر احباب کو دور سے سلام کر رہا تھا اور معانقہ کی بجائے محض کہنی ملانے پر اکتفا کر رہا تھا جبکہ بڑے احباب باقاعدہ معانقہ کر رہے تھے اور بچے کو مذاق کا نشانہ بنا رہے تھے کہ اب یہ شہری بن گیا ہے ہمیں ایسے رویوںکو ختم کرنا ہوگا کیونکہ یہ روئیے ختم ہونگے تو احتیاط کا مرحلہ آئیگا۔ یاد رکھیں اگر لاک ڈاؤن کیساتھ جڑے مسائل کا ادراک نہ کیا گیا تو خدشہ ہے کہ کورونا کیساتھ ساتھ اندرونی مسائل سر اُٹھا لیں اور لوگوں کیلئے بھوک اور مہنگائی کی وجہ سے جسم وجان کا رشتہ قائم رکھنا مشکل ہو جائیگا، ہماری حکومت کی ساری توجہ شہروں کو محفوظ بنانے پر ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شہروں کی آبادی میں سے بڑی تعداد گاؤں دیہات منتقل ہوگئی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم شہروں میں تو کورونا پر قانو پالیں لیکن دیہاتوں میں یہ وبا بے قابو ہو جائے۔