کرفیو کی صورتحال کےلیے خود کو تیار رکھنا ہوگا- وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد :وزیراعظم عمران خان کا پارلیمانی رہنماوَں سے خطاب، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 15جنوری کوپہلا کرونا وائرس بارے اجلاس ہوا،چین میں پھنسے طلبا بارے مشکل فیصلہ کیا گیا.چین کے بعد ایران میں کرونا وائرس پھیلنا شروع ہوگیا.ایران کے پاس زائرین کو رکھنے کے وسائل نہیں تھے.زائرین تفتان بارڈر پر آنا شروع ہوگئے.ایران کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں تھے وزیراعظم عمران خان پارلیمانی رہنماوَں سے خطاب.

وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اب تک 9لاکھ لوگوں کو ایئرپورٹس پر اسکریننگ کرچکے ہیں،مشکل فیصلے سے چین سے کوئی کیس پاکستان میں نہیں آیا.لاک ڈاؤن کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں،سب سے پہلے کالجز،اسکولز اور یونیورسٹیز بند کی گئیں.لاک ڈاؤن سے سب سے زیادہ نقصان دیہاڑی دار طبقے کو ہو رہا ہے.

28فروری کو ڈاکٹر ظفر مرزا کو صورتحال کا جائزہ لینے تفتان بھیجا،گلگت میں پٹرولیم مصنوعات میں کمی ہوئی.
سندھ لاک ڈاؤن میں آگے چلا گیا،باقی صوبے بھی جا رہے،کرونا مریضوں کی صورتحال اور ریکارڈ کو دیکھ کر اقدام اٹھانے چاہئیں وزیراعظم پارلیمانی رہنماوَں سے خطاب.

وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ لاک ڈاؤن سے کنسٹرکشن انڈسٹری متاثر ہوئی،ایران کےپاس کروناسےلڑنےکی صلاحیت نہیں تھی.دباؤبڑھنے کی وجہ سےزائرین کوپاکستان منتقل کیا.اب تک تقریباً 900 افرادکرونا وائرس کےمریض ہیں،کروناوائرس کےصرف 153 مقامی کیس ہیں.

قومی سلامتی کمیٹی کےاجلاس میں لاک ڈاؤن کافیصلہ کیا،ہر وہ جگہ بندکردی جہاں لوگ اکٹھےہوسکتےتھے.کروناکرفیو کےدوران گھروں میں کھاناپہنچاناپڑےگا، کیاہمارےپاس گھروں میں کھاناپہنچانےکےانتظامات ہیں؟وزیراعظم کا سوال

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ جلدرضاکاروں کےپروگرام کااعلان کروں گا،کرفیوکی صورت میں رضاکاروں کی مددلیں گے.خوف اورگھبراہٹ میں کیےگئےفیصلےدرست نہیں ہوتے،نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی میں کل ٹرانسپورٹ بندش پرفیصلہ کریں گے.

:وزیراعظم عمران خان کا پارلیمانی رہنماوَں سے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ کورونا کےخلاف جنگ حکومت نہیں،قوم جیت سکتی ہے.چاہتا ہوں ہم سب مل کر اس جنگ کو جیتیں.کورونا کےخلاف کامیابی میں تمام سیاسی جماعتیں اور صوبےشامل ہوں گے. اس ضمن میں پارلیمانی رہنماوَں سے رابطے میں رہیں گے ارلیمانی رہنماوَں سے تجاویز لیں گے وزیراعظم عمران خان کا پارلیمانی رہنماوَں سے خطاب.