کورونا دنیا کی ترجیحات میں تبدیلی کا درس

وزیراعظم عمران خان کو رونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال میں یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے افراد سے لیکر برآمد کنندگان تک کو حتی لمقدور نقصان سے بچانے اور گزراوقات کیلئے امدادی رقم دینے کیلئے کوشاں ہیں، وزیراعظم ضرورت محسوس کرنے کے باوجود لاک ڈائون اور نا گزیر اقدامات کے نفاذ میں اس لئے نرمی برت رہے ہیں کہ اس کے معاشی اثرات ملک وقوم کیلئے ایک اور قسم کی آزمائش بن سکتے ہیں۔ کورونا وائرس سے ملک میں کاروبار حیات کی بندش کے معاشی اثرات سے یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے تو فوری طور پر متاثر ہوتے ہیں اس کے علاوہ شادی ہالوں اور ریسٹورنٹس کی بندش کے باعث دیگر کاروبار سے وابستہ یہاں تک کہ محدود وسائل سے چلنے والے کاروبار سے وابستہ مالکان بالخصوص ملازمین کے بھی متاثر ہونے کی نوبت آسکتی ہے۔فی الوقت چونکہ کاروبار حیات کی بندش کو زیادہ عرصہ نہیں گزرالیکن اگر خدانخواستہ یہ صورتحال طول پکڑتی ہے جس کا شدید خطرہ ہے تو اس کے معاشی اثرات سے نمٹنا کسی بڑے چیلنج سے کم نہ ہوگا۔ عوام اس ضمن میں حکومت ہی سے توقعات وابستہ کریں گے جبکہ حکومت کے پاس وسائل کی صورتحال کوئی راز کی بات نہیں، اس ساری صورتحال کو ملکی سطح پر حل کرنا شاید ہی ممکن ہو اسلئے اس ضمن میں بین الاقوامی طور پر قرضوں کی واپسی میں تعطل وتاخیر، قرضوں پر سود معافی اور بین الاقوامی امداد کا سہارا لینا مجبوری بن سکتی ہے جس کیلئے حکومت کو حکمت عملی مرتب کر لینی چاہئے اور اس ضمن میں معاشی ٹیم کو بروقت صورتحال پر تفصیلی غور کرنے کے بعد عالمی برادری کو اس صورتحال سے آگاہ کرنا چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے جس طرح بین الاقوامی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ضرورت ہے اسی طرح معاشی حالات میں بھی دنیا کے ممالک کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا ہوگا۔جو دنیا ترقی کرتے کرتے اتنے قریب آگئی تھی جسے گلوبل ویلج کا نام دیاگیا آج کورونا وائرس کے باعث سماجی روابط کو ایک میٹر کے فاصلے سے زیادہ قریب آکر انجام دینے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے افرادیہاں تک کہ اولاد اور والدین کے درمیان فاصلے مجبوری بن گئے ہیں جو دنیا کاروبار اور معاشی ترقی کی دوڑ میں دیوانہ وار شریک تھی اور سبقت لیجانے کیلئے دنیا کے ممالک ایک دوسرے کو دھکے دے دیکر گرارہے تھے ایک نظرنہ آنے والی وائرس کا اس طرح شکار ہوگئی کہ انسان تیزی سے موت کے منہ میں جارہے ہیں کہ ان کے علاج کیلئے ابھی ویکسین ہی ایجاد نہیں ہوئی۔اس صورتحال میں اقوام متحدہ سے لیکر او آئی سی،سارک اور دیگر عالمی تنظیموں کو اب اس امر پر غور کرنا چاہیے کہ معاشی ترقی سے زیادہ اب انسانیت کا دکھ درد محسوس کرنے اور انسانوں کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ دنیا کے ممالک کو معاشی دوڑ میں لگی بریک کے اثرات سے نمٹنے کیلئے کتنی جدوجہد کی ضرورت پڑتی ہے اس کا فی الوقت اندازہ نہیں، معیشت پر توجہ کی ضرورت سے انکار نہیں لیکن اس صورتحال میں دنیا کو یہ سبق بھی سیکھنے کی ضرورت ہے کہ بنی نوع انسان کی ترقی وخوشحالی سے زیادہ اب اس کی صحت وزندگی کے تحفظ کیلئے وسائل مختص کرنے اور عالمی سطح پر مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔