طبی عملے کی حفاظت یقینی بنائیں

پاکستان اس وقت ایک عالمی بحران کا شکار ہے۔ کرونا وائرس سے دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک بھی حیرت وخوف میں مبتلا، پریشان نظر آتے ہیں۔ ہم عالمی سطح پر جاری کی گئی ہدایات کی روشنی میں کم سے کم نقصان کو یقینی بنانے کی کوشش تو کرر ہے ہیں، البتہ ابھی صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔ پاکستان بہرحال ایک بہتر پوزیشن میں ہے کہ ہم دنیا کے چند ترقی یافتہ ترین ممالک کے تجربات کی روشنی میں کی گئی تحقیق اور اقدامات سے رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ ہم نے قرنطینہ، سماجی فاصلے اور تھرمل سکیننگ جیسے اقدامات کیلئے پالیسیاں اپنا لی ہیں مگر ہم اس سب میں ایک اہم پہلو کو فراموش کئے بیٹھے ہیں اور وہ یہ کہ اگر اس سب میں ہمارا طبی عملہ اس وائرس کا شکار ہو گیا تو کیا ہوگا؟ ہم اس وقت کیا کریں گے جب ہمیں انہیں سماجی تنہائی میں ڈالنے کی ضرورت پڑ جائے گی؟ اور خدانخواستہ، اس وقت کیا ہوگا جب وہ انجانے میں ہی ان افراد میں بھی وائرس منتقل کرنے کا سبب بن جائیں گے جو بالکل صحتمند تھے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے فوری جواب وقت کی ضرورت بن چکے ہیں۔ ہمیں چین اور اٹلی کے تجربات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ طبی عملہ وائرس کی منتقلی کا سبب بن سکتا ہے اور خاص کر ہمارے ہاں حفاظتی کٹوں (پی،پی،ای) کے شدید فقدان کے باعث یہ خطرہ مزید بڑھ چکا ہے۔ مجھے اس بات پر سوچتے ہوئے بھی خوف آتا ہے کہ اگر ہمیں ایسی کسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ گیا تو یہ کس قدر مہلک ہو سکتا ہے۔ اس کے نتائج اس قدر خطرناک ہوں گے ان سے نہ صرف ہمارا صحت کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہوجائے گا بلکہ یہ طبی عملہ لوگوں کی ایک بڑ ی تعداد کو بھی وائرس منتقل کرنے کا سبب بن چکا ہوگا۔ ایک عام ڈاکٹر، خود میں یہ علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی کئی لوگوں تک یہ بیماری پھیلا کر تباہی کا بیج بو چکا ہوگا۔ ایسی صورتحال میں ہمارے اسپتال ہی یہ وائرس پھیلانے کے آلۂ کار بن جائیں گے اور اسی لئے ہمیں سب سے پہلے اپنے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو اس وباء سے محفوظ رکھنے اور متاثرہ ڈاکٹروں کو وائرس منتقل کرنے سے روکے رکھنے کیلئے مؤثر اقدامات کرنا ہوںگے۔ مزید برآں ہمیں ایسی صورتحال رونما ہونے پر اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی ممکنہ کمی اور اس کے نتیجے میں اموات کی روک تھام کے حوالے سے بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ میں بطور ڈاکٹر، اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے صف اول میں اپنا کردار ادا کر رہا ہوں اور اپنے اس تجربے کی روشنی میں چند تجاویز پیش کرنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلے تو ہمیں اسپتالوں میں کام کرنے والے طبی عملے کو دو گروہوں میں تقسیم کرنا چاہئے، ہر ایک گروہ سینئر ا ور جونیئر ڈاکٹروں، طالبعلموں اور دوسرے طبی عملے پر مشتمل ہو اور جب ایک گروہ اپنے فرائض ادا کر رہا ہو تو دوسرا گروہ خود کو قرنطینہ میں محدود کر کے اپنی صحت کا خیال رکھے اور خود کو متاثرہ مریضوں سے مکمل طور پر الگ تھلک رکھا رہے۔ اس سے ہمیں یہ فائدہ ہوگا کہ اگر خدانخواستہ پہلے متحرک گروہ میں وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں تو ہمارے پاس نظام کو چلتا رکھنے کیلئے ایک متبادل عملہ موجود ہوگا۔ ایسا کرنے کی صورت میں ہم اپنے آدھے طبی عملے کو محدود توکر دیں گے اور یہ ممکنہ طور پر مریضوں کے دباؤ سے نمٹنے کیلئے ناکافی ہوگا سو اس کے حل کیلئے ہم ان ڈاکٹروں کی خدمات بروئے کار لا سکتے ہیں جو اس وقت ہاؤس جابز پر تعینات ہیں۔ ہم مختصر دورانئے کیلئے انہیں میڈیکل آفیسرز کے طور پر تعینات کر کے انہیں وہ مراعات دے سکتے ہیں جو انہیں ہاؤس جابز کے بعد ملنا شروع ہونا تھیں۔ اس کے علاوہ اٹلی موافق ہم ان ہاؤس آفیسروں کو بھی اسپتالوں میں تعینات کر سکتے ہیں جو اس وقت اپنی تعلیم کے آخری سالوں میں ہیں کہ یہ اس وائرس کیخلاف سرگرم ہر اول دستے میں ایک بہتر اضافہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم وسائل کی تمام ضرورت منددوں تک دستیابی یقینی بنانے کیلئے او پی ڈی اور نان ایمرجنسی خدمات کو محدود وقت کیلئے معطل کر سکتے ہیں۔ یہ اقدامات گوکہ شروع میں نظام صحت میں چند مسائل یا تعطل کا سبب بنیں مگر یہ اقدمات لینا اس لئے ناگزیر ہو چکے ہیں کہ دنیا میں کسی بھی ملک کا نظام صحت اس قدر تیزی سے حملہ کرنے والی وباء کا سامنا کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ اس لئے ہمیں بدلتی صورتحال کیساتھ ساتھ اپنی حکمت عملی میں بھی تبدیلی لانا ہوگی تاکہ ہم اپنے پاس موجود نہایت محدود وسائل کو اپنے غیرذمہ دارانہ روئیے کی بھینٹ چڑھنے سے بچا سکیں۔ مجھے یہی خوف کھائے جا رہا ہے کہ ہمارے غیرمحفوظ ڈاکٹر اگر اس وباء کا شکار ہوگئے تو ہمارے اسپتال ہی یہ وباء پھیلانے کی آماجگاہ بن جائیں گے۔
ہم اپنے پاس موجود وسائل کو دانشمندی سے استعمال کرکے دستیاب حفاظتی کٹوں کو بہتر انداز میں استعمال کر سکتے ہیں اس کیساتھ ساتھ ہمیں اس وائرس سے لڑنے کیلئے پہلے صف میں برسرپیکار طبی عملے تک تمام تر ضروری مواد کی دستیابی کو بھی یقینی بنانے کیلئے نیک نیتی سے کام کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ ہمیں عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بتائے گئے تین فیصد کی شرح اموات کو بھی ہلکا نہیں لینا چاہئے کہ ان اعداد وشمار کا انحصار متاثرہ ممالک میں دستیاب صحت کی سہولیات پر ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے طبی عملے کی حفاظت کیلئے ہر ممکن اقدام کرنا ہوں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو صورتحال مزید گمبھیر ہونے پر اپنا خون پسینہ اور زندگیاں داؤ پر لگا کر اس وباء سے لڑیں گے۔ ہمیں اس کے علاوہ متبادل طبی فورس بھی ترتیب دینا ہوگی جو ضرورت پڑنے پر آگے آکر ذمہ داریاں سنبھالے۔ ہم بہرحال اس بات کے متحمل نہیں ہو سکتے کہ ہمارا پورا طبی عملہ اس وباء کا شکار ہو جائے اور اسپتال ویران پڑ جائیں اور نہ ہی ہم اس خطرے کو پس پشت ڈال سکتے ہیں کہ ہمارا طبی عملہ ہی حفاظتی کٹوں کی کمی کے باعث وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن جائے۔ یہ صورتحال ابھی مزید گمبھیر ہوگی اور ہمارا نظام صحت اسے جھیلنے کی تاب نہیں رکھتا۔ ہمارے پاس وقت باقی نہیں بچا، سو ابھی ہمیں ایک لمحہ ضائع کئے بغیر سنجیدگی سے مؤثر اقدامات لے لینے چاہئیں۔
(بشکریہ: ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)