قرارداد پاکستان کے محرکات کیا تھے؟

23مارچ 1940ء کو مسلمانانِ ہند نے اپنے لئے الگ وطن کا مطالبہ کیوںکیا۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کو ہر سال 23مارچ کے دن کے تناظر میں سمجھنا چاہئے تاکہ تخلیق پاکستان کے حوالے سے پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کا خاتمہ ہو اور ہمارا اس امر پر یقین پختہ ہو کہ پاکستان ناگزیر کیوں تھا؟
قیام پاکستان کا مطالبہ آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے کیا گیا۔ تاریخی اعتبار سے یہ پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کی جدوجہد کے چوتھے مرحلے کا آغاز تھا۔ پہلا مرحلہ1906ء سے1920ء کے درمیان کا عرصہ تھا جب مسلمانوں کے حقوق کے حوالے سے مسلم لیگ کو منٹو مارلے ریفارمز (1909ئ) میں جداگانہ انتخاب کی صورت میں پہلی کامیابی ملی اور1916ء کے لکھنئو پیکٹ میں کانگریس نے بھی جداگانہ انتخاب کے اصول کو تسلیم کیا۔ کانگریس کے بعد منٹو مارلے ریفارمز کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بناتی رہی۔ دوسری گول میز کانفرنس کے موقع پر مہاراجہ بیکانیر نے ایک پارٹی میں مہاتما گاندھی کو لارڈمنٹو کی بیگم ”میری” سے متعارف کروایا تو مسز میری نے گاندھی جی سے پوچھا کہ کیا انہیں ان کا نام یاد ہے۔ گاندھی جی نے جواب میں کہا کہ منٹو مارلے ریفارمز ہماری تباہی کی بنیاد ہیں’ اگر جداگانہ انتخاب کا حق اُس وقت تسلیم نہ کیا جاتا تو آج ہم اپنے اختلافات کو حل کر چکے ہوتے۔ بعدازاں گاندھی نے گول میز کانفرنس میں اپنی آفیشل تقریر میں بھی ہندو مسلم مسئلہ کو برطانوی راج کی پیدا کردہ برائی سے تشبیہ دی۔ قائد اعظم 1913ء میں مسلم لیگ کے رکن بنے اور 1919ء میں کانگریس سے علیحدگی اختیار کر کے وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر بن گئے۔
1920ء سے1935ء کا عرصہ مسلمانان ہند کیلئے تکالیف سے بھرپور تھا۔مسلم لیگ کو اس دوران اس وقت دھچکا لگا جب یہ دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ مسلم لیگ کی عوامی مقبولیت ویسے ہی زوال پذیر تھی۔ 1927ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے ممبران کی تعداد محض1330رہ گئی تھی۔ 1930ء کے جس اجلاس میں علامہ اقبال نے تصور پاکستان پیش کیا وہ تاریخی الہ آباد اجلاس 75ممبران کے کورم کی کمی کا شکار تھا چنانچہ حفیظ جالندھری شرکاء محفل کو اپنی مشہور نظم ”شاہنامہ اسلام” سنا کر کافی دیر محظوظ کرتے رہے۔ دریں اثنا منتظمین نئے ممبران کا اندراج کرنے کی تگ ودو میں لگے رہے۔ 1931ء میں ایک قرارداد کے ذریعے کورم کو 75اراکین کی بجائے 50اراکین تک محدود کر دیا گیا اور سالانہ چندہ 6روپے کی بجائے ایک روپیہ کر دیا گیا جبکہ ایڈمیشن فیس ختم کر دی گئی۔ یہ وہ حالات تھے جب قائداعظم نے سیاست کو خیرباد کہا اور دوسری گول میز کانفرنس کے بعد وطن واپس آنے کی بجائے لندن میں رہنے کا فیصلہ کیا۔
علامہ اقبال کی خصوصی درخواست پر قائداعظم1935ء میں وطن واپس تشریف لائے اور مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے مسلمانوں کی قیادت انہوں نے دوبارہ سنبھالی۔ مسلم لیگ کی جدوجہد کا یہ تیسرا دور تھا، یہ دور بھی دو حصوں پر مشتمل ہے، اول’ 1937ء سے قبل کا دور اور دوم 1937ء کے الیکشن کے بعد کانگریسی وزارتوں کا دور۔ قائداعظم نے 1935ء میں مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے منصب تو دوبارہ سنبھال لیا مگر مسلم لیگ کی پالیسی میں خاطرخواہ تبدیلی دیکھنے میں نہ آئی۔ مسلم لیگ نے 1937ء کے الیکشن کیلئے جو منشور پیش کیا وہ تقریباً کانگریس کے منشور جیسا تھا۔ مسلم لیگ کے مرکزی الیکشن بورڈ نے انڈین نیشنل کانگریس کے پروگرام سے ملتے جلتے معاشی وسماجی پروگرام پیش کئے۔ عمومی تاثر تھا کہ مسلم لیگ کانگریس سے ملکر کام کرنے کی خواہش مند ہے’ اس خواہش کا اظہار الیکشن کے نتائج آنے کے بعد باضابطہ طور پر مسلم لیگ کی جانب سے کیا گیا۔ انتخابات کے نتائج مسلم لیگ کیلئے حوصلہ افزاء نہ تھے۔ مسلمانوں کیلئے وقت نشستوں کی کل تعداد کا محض ایک چوتھائی(1/4th)مسلم لیگ کے حصہ میں آیا۔ کل 489نشستوں میں سے مسلم لیگ 104نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو سکی اور یہ نشستیں بھی زیادہ تر ان علاقوں میں تھیں جہاں ہندو اکثریت تھی۔ مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں کے عوام نے مسلم لیگ کے امیدواروں کو ووٹ نہ دئیے۔ بنگال کی 119مسلم نشستوں میں سے 37 جبکہ پنجاب کی 86مسلم نشستوں میں سے فقط ایک نشست مسلم لیگ کے حصے میں آئی۔ سندھ اور سرحدی صوبے کا حال تو نہایت برا تھا۔ سندھ کی 37 اور سرحد کی 36مسلم نشستوں میں سے ایک نشست پر بھی مسلم لیگ کا امیدوار کامیاب نہ ہو سکا۔ ووٹوں کی شرح کے لحاظ سے یہ تصویر اور بھی زیادہ بھیانک تھی۔ مسلم لیگ نے کل مسلمانوں کے ووٹوں کا محض 4.6فیصد ووٹ حاصل کیا تھا یعنی 95.4 فیصد مسلمانوں نے مسلم لیگ کو اپنی نمائندگی کے قابل نہ سمجھا۔ یہ وہ مسلم لیگ تھی جس کے پلیٹ فارم سے تین سال بعد 1940ء میں ایک الگ وطن پاکستان کا مطالبہ کیا گیا اور جس کی جدوجہد کے نتیجے میں صرف سات سالوں کے اندر پاکستان معرض وجود میں آ گیا۔ 1937ء اور 1940ء کے درمیان تین سالوں میں ایسا کیا ہوا کہ مسلم لیگ مسلمانوں کی پسندیدہ ترین جماعت بن گئی اور ہندوؤں اور انگریزوں نے اُسے مسلمانوں کی واحد مختار جماعت سمجھ کر اس سے مذاکرات کئے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہمارے لئے یقینا دلچسپی کا باعث ہوگا اوراس سے ہمیں سمجھنے میں مدد ملے گی کہ قیام پاکستان کے درست محرکات کیا تھے اور مسلمانوں کیلئے الگ وطن کی ضرورت کیوں پیش آئی۔انشاء اللہ اگلے کالم میں اس سوال کا تفصیلی جواب آپ کے سامنے پیش کروں گا۔