ڈاکٹر اُسامہ ریاض ”شہیدِ فرض”

کورونا کی وبا پاکستان میں داخل ہوئی تو اس کیساتھ پہلے شکاروں کی فہرست میں گلگت بلتستان کی سرزمین کے ایک جوان رعنا اُسامہ ریاض کا نام بھی شامل ہوگیا۔ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر اسامہ ریاض ان مجاہدوں کی اگلی صفوں کا حصہ تھا جنہیں ایران سے لوٹنے والے متاثرین کورونا کی دیکھ بھال کرنا تھی۔ اُسامہ اپنے محاذ پر ایک بہادر سپاہی اور نڈر جرنیل کی طرح لڑے اور آن واحد میں اس مرض کا شکار ہوکر وینٹی لیٹر پر منتقل ہوئے۔ چند دن موت وحیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد پاکستانی معاشرے کیلئے ہی نہیں کورونا کے عذاب کا شکار پورے کرۂ ارض کیلئے ایک مثال بن گیا۔ چند ہی دن پہلے ہم چین میں ڈاکٹروں کی قربانیوں کو حیرت کیساتھ سنتے تھے۔ ان کی بے جگری سے اگلے محاذوں پر لڑنے کی داستانوں کو چینیوں کے عزمِ لازوال اور جفاکشی اور انتھک مزاج کیساتھ جوڑا جاتا ہے مگر ایک نوخیز مسیحا نے خطرناک مرض میں مبتلا مریضوں کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان قربان کی تو بے ساختہ علامہ اقبال کی نظم فاطمہ بنت عبداللہ یاد آگئی۔ طرابلس کی ایک عرب لڑکی جو طرابلس کی جنگ میں مجاہدوں کو پانی پلاتے ہوئے شہید ہوئی تھی اور علامہ نے اسی کی یاد میں کچھ اشعار یوں لکھے تھے
فاطمہ تو آبروئے ملتِ مرحوم ہے
ذرہ ذرہ تیری مُشتِ خاک کا معصوم ہے
کچھ اور اشعار کہنے کے بعد علامہ فرماتے ہیں
یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یا رب اپنے خاکستر میں تھی
ڈاکٹر اُسامہ جیسے لوگ ہمارے خاکستر میں دبی ہوئی چنگاریاں ہوتی ہیں جو معاشرے کے ایک مجموعی ماحول اور عمومی مزاج کے برعکس راکھ میں چنگاری کی مانند لپک کر اپنا جلوہ اپنے کام اور قربانی کی صورت میں دکھاتے ہیں اور پھر ان کا انجام کبھی شعلے تو کبھی پھر راکھ بن جانے کی صورت میں ہوتا ہے۔ کورونا ایک بھوت بن کر دنیا میں رقص کناں ہے اور دنیا بلاتفریق رنگ ونسل اور مذہب وملک اس رقص کو دیکھنے پر مجبور ہے۔ ایک زمانہ اس سے خوفزدہ ہے۔ اس خوف کی وجہ اس موت کی اذیت اور تنہائی ہے، اس کی سفاکی اور اُداسی ہے۔ انسان نے موت کو بھی ایک شان اور ادا کیساتھ منانے کا رواج دیا ہے۔ ایک انسان کو الوداع کہنے کا بھی ایک دکھی مگر تقریب کا سا انداز اپنایا ہے مگر کورونا نے انسان سے جینے کا انداز تو چھین لیا تھا موت کو ماتمی انداز میں ”سلیبریٹ” کرنے کا انداز اور رسوم ورواج بھی چھین لئے ہیں۔ اس پہلو نے کورونا کا شکار ہونے کے تصور کو مزید خوفناک اور تاریک بنا دیا ہے۔ غسل نہ کفن، جنازہ نہ جنازہ گاہ میں اجتماع، منہ دیکھنے کی روایت نہ دعاؤں کی صدائیں، کورونا کا شکار افراد کی تدفین کے مناظر اس مرض سے بھی زیادہ دل دہلا دینے والے ہیں۔ ایران میں ایک اجتماعی قبر میں دو چار رضاکار لاشوں کو ڈال رہے ہیں اور ایک دو خواتین کے ماتمی بین فضاء میں بلند ہو رہے ہیں۔ اس ماحول میں ڈاکٹر اسامہ نے نہایت جرأت اور دلیری کیساتھ کورونا کے مریض کی دیکھ بھال کی ہوگی۔ فرض کی ادائیگی میں اس نوجوان مسیحا نے اپنے خوبصورت مستقبل، خوابوں، پرانے رشتوں اور نئے بننے والوں رشتوں، ترقی کی منازل سب کچھ کو وقتی طور پر فراموش کر دیا ہوگا جبھی تو وہ اپنے کام میں اس قدر گم ہوگیا کہ ایک روز دنیا سے اپنا حقیقی وجود ہی گم کر دیا مگر اس نوجوان کا معنوی وجود زمانوں تک زندہ رہے گا۔ عین ممکن ہے اپنے آپ کو بھول کر کام کرتے ہوئے جوان لہو سے کوئی بے احتیاطی ہوئی ہو مگر جوانی تو پھر جوانی ہے۔ ڈاکٹر اسامہ کی شہادت بلاشبہ قابل فخر ہے مگر معاشرے کے ہر طبقے کو مسیحاؤں اور رضاکاروں کو جو اس وقت اس محاذ جنگ کے اگلے مورچوں پر کھڑے ہیں احتیاط کا دامن ترک نہیں کرنا چاہئے۔ جس قدر کم تعداد میں انسان اس موذی وائرس کا شکار ہوں گے وہی ہماری حقیقی جیت کا اعلان اور اظہار ہوگا۔ یہ ایک طویل لڑائی ہے، اس مرحلے پر کوئی بھی شخص یہ کہنے پر قادر نہیں کہ اس لڑائی کا اختتام کب اور کیسے ہوگا۔ سردست احتیاط ہی اس لڑائی میں سب سے موثر اور کارگر ہتھیار بھی ہے اور ڈھال بھی۔ آگے چل کر کیا ہوتا ہے؟ کسی کو علم نہیں، اسلئے ایک پیچیدہ اور چکرا دینے والی لڑائی میں احتیاط کا دامن ہر قدم پر تھامے رہنا چاہئے۔ اسامہ ریاض نے فرض کی ادائیگی کے دوران جاں قربان کر دی۔ ملک وقوم اور معاشرہ اس جوان مسیحا کی قربانی کو فراموش نہیں کرے گا۔ حکومت بھی اسے قومی ہیرو کا درجہ دیکر اس عظمت کردار کو نوجوانوں کیلئے مشعل راہ بنائے گی۔ معاشرے کے دل بھی اس قربانی کی یاد میں ڈوبے اور اس کی نگاہیں جوانِ رعنا کی قربانی کے احترام میں نیچی رہیں گی۔ احتیاط لازم ہے مگر اس کا کیا کیجئے کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے جو فیض نے یوں بیان کی ہے
انہی کے فیض سے بازارِعقل روشن ہے
جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے