کورونا کی صورتحال اور حکومتی اقدامات

دنیابھر کی طرح پاکستان میں بھی کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میںدن بدن اضافہ کی صورتحال اس ضمن میںمزید اقدامات وانتظامات اور پابندیوں کی متقاضی ہیں، اگرچہ چاروںصوبوں میں فوج طلب کر کے بڑی حد تک پابندیاں لگادی گئی ہیں لیکن اس کے باوجود اس وباء پر قابو پانا تو کجا نئے کیسز سامنے آنے کی شرح میں بھی کمی نہیں آسکی ہے۔ کرونا وائرس سے بچائو کے جتنے بھی اقدامات سرکاری سطح پر کئے جائیں جب تک عوام اجتماعی وانفرادی حد تک احتیاط کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھیں گے اس مشکل سے چھٹکارا حاصل کرنے کی راہ ہموار نہیں ہوگی۔ اگرچہ سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں میں پابندیوں کو لاک ڈائون کا نام دینے سے نامعلوم وجوہات کی بناء پر احتراز کیا جارہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت سوائے کرفیو لگانے کے باقی ممکنہ اقدامات اُٹھا چکی ہے، اس کے بعد اب یہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی صورتحال کا ادراک کریں۔ کرونا وائرس کاپھیلائو اور اس سے متاثر ہونے کی صورتحال غیر مرئی اور ناقابل احساس ہے، یہ ایک ایسی اچانک دبوچ لینے والی بیماری ہے کہ اس کا علاج موجود نہیں، اس سے بچائو کی واحد صورت احتیاط ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کرونا وائرس سے بچاؤ اور تدارک کا مکمل حل عالمی طور پر کسی بھی ملک کے پاس نہیں، یہی وہ مشکل ہے جو دنیا کو درپیش ہے اور پاکستان جیسے معاشی مشکلات کا شکار ملک کیلئے یہ صورتحال دوہری مشکل کا باعث ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کی معاشی مشکلات سخت مرحلے میں ہیں اچانک اس صورتحال سے دوچار ہونے سے حکومت کی ساری توجہ، توانائیاں اور اقدامات کارخ تبدیل ہونے سے ملک پر جو معاشی واقتصادی بوجھ پڑا ہے اس کے اثرات سامنے آنے میںوقت لگے گا۔ معلوم نہیں کرونا وائرس کے پھیلائو اور اس سے بچائو کے اقدامات میں کتنا عرصہ لگے اور حکومت کو کس حد تک جا کر اقدامات وانتظامات کرنے پڑیں۔ وزیراعظم عمران خان نے جن اقدامات کا اعلان کیا ہے وہ ممکنہ غیرمعمولی اقدامات ہیں، توقع ہے کہ ان اقدامات کے باعث عوام کو ریلیف ملے گا۔ اس وقت جاری صورتحال میںمہنگائی اور اچھی حکمرانی کاسوال ثانوی ہوگیا ہے، ترقیاتی کاموں اور بڑے منصوبوں کاخطرے سے دوچار ہونا فطری امر ہے، حکومت اس امر پر مجبور ہوچکی ہے کہ وہ تمام تر معاملات کو ایک طرف رکھ کرصرف عوام کو شدید متاثر ہونے سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کرے۔عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کی شرح کے مطابق اگرچہ پاکستان میںپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہیںکی گئی ہے اور نہ ہی حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی شرح ختم کر کے عوام کو ریلیف دیا ہے اس کے باوجود پیٹرول ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں پندرہ روپے کی کمی سے رسد پر آنے والے اخراجات میں کمی کے اثرات سے مہنگائی میں کمی ہونی چاہئے اور اس کے اثرات عوام تک پہنچنے چاہئیں، البتہ فی الوقت مشکل امر یہ ہے کہ جب رسدی وسائل ہی بند ہیں اور پیٹرول وڈیزل کے استعمال میںنہایت کمی آئی ہے اسلئے اس کے اثرات کی منتقلی میں وقت لگے گا۔ اگرچہ یہ فوری ریلیف کا حامل شعبہ ہے اورماضی میں اس کے اثرات فوری سامنے آتے رہے ہیں اس مرتبہ مجموعی حالات کا اس پر اثرات کے باعث تاخیر ہو سکتی ہے، جب معیشت کا پہیہ چلنے لگے گا تبھی اس کے مثبت اثرات عوام تک پہنچیں گے، بہرحال حکومت نے اپنے ذمے واجب الادا قرض کی ادائیگی تاخیر اور جزوی طور پر کی ہے شاید موجودہ حالات میں اس سے زائد کی گنجائش ہی نہ تھی۔ دالوں، چاول، گھی پر ٹیکس، شرح سود میں کمی اور مختلف مدات میں جس امدادی رقم اور چھوٹ کا اعلان کیا گیا ہے اس کے اثرات آمد ہ چند دنوں میں سامنے آنے چاہئیں۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ حکومت اس امرکو یقینی بنائے کہ کٹھن حالات میں عوام کو مزید مشکل کا شکارہونے سے بچانے کیلئے جو اقدامات کئے جارہے ہیں اور جو رعایتیں دی جانی ہیں ان کا غلط استعمال نہ ہواور ان مراعات سے کسی کو فوائد سمیٹنے کا موقع نہ ملے، وزیراعظم نے جن اقدامات کا اعلان کیا ہے اس کے ثمرات عوام کو پوری طرح ملنے چاہئیں۔