صدائے کن فیکون

میرے کمرے کی ایک کھڑکی باہر گلی میں اور دوسری کھڑکی گھر کے ٹیرس میں کھلتی ہے۔ ٹیرس میں ایک چھوٹا سا چمن ہے جس کے گرد ایک کیاری ہے۔ کرونا وائرس کے خوف سے میں اسی کمرے میں خودساختہ تنہائی کے لمحے گزارتا ہوں۔ جب تنہائی سے دل اوبھ جاتا ہے تو باہر صحن میں آجاتا ہوں یا پھر ٹیرس کی کیاری میں کسی نئے پھول کو کھلتا دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ بچے اپنے اپنے کمروں میں اور اپنے اپنے سیل فونز میں مگن رہتے ہیں۔ محترمہ کچن اور دیگر امورخانہ داری میں مشغول رہتی ہیں۔ بہرحال ان کی رسائی گھر کے تمام کمروں تک لامحدود ہے۔ گزشتہ بارہ دنوں سے سماج سے رابطہ فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے قائم ہے۔ دنیا جہان کی جھوٹی سچی خبریں، افواہیں، ٹوٹکے، علاج، سازشیں، بہتان، گالیاں، دعائیں، وظیفے، لطیفے اور نہ جانے کیا کیا کچھ اس سوشل میڈیا پر مہیا اور میسر ہے۔ انگوٹھے سے سیل فون کی سکرین کے مناظر کو تبدیل کرتا رہتا ہوں۔ کوئی اچھی پوسٹ ہو تو رک جاتا ہوں ورنہ انگوٹھا اگلی پوسٹ پر لے جاتا ہے۔ کتاب اور اخبار کا ساتھ میسر رہتا ہے۔ مطالعے سے گھنٹے آسانی سے گزر جاتے ہیں۔ اپنا گھر، اپنا کمرہ، اپنی فیملی، راشن میسر مگر پھر بھی ایک بے کلی سی ہے کہ دل ودماغ پر حاوی ہے۔ باہر کے مناظر بھی تو دیکھے بھالے ہیں مگر دل واپس زندگی کی اور جانے کو مچلتا ہے اور مچلتا بھی ایسے ہے جیسے کوئی بچہ کھلونے کیلئے۔ میری روٹین لائف بڑی ٹف اور تھکا دینے والی ہے، کبھی کبھی تو اتنا تھکا دیتی ہے کہ ٹوٹ سا جاتا ہوں اور پھر پوری کوشش سے خود تو سمیٹ کر اگلے دن کیلئے تیاری کرتا ہوں لیکن ان بارہ دنوں میں احساس ہوا کہ یہی روٹین لائف کتنی بڑی نعمت ہے۔ انسان انسان کیلئے کتنا ناگزیر ہے اور سماجی زندگی کی انسان کی زندگی میںکتنی اہمیت ہے۔ اس بات کا آئی سولیشن میں شدت سے احساس ہورہا ہے۔ ”اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے” بے شک جو زندگی اللہ نے دی ہے وہ شاندار ہے، انسان ہی ناشکرا ہے۔ گھرکے اندر بنے اس قرنطینہ میں سوچ کے امکانات اتنے زیادہ ہیں کہ کبھی کبھی تو سوچ سوچ کر تھکن سی ہوجاتی ہے۔ پوری دنیا اس وقت لاک ڈاؤن ہے۔ تمام انسان اس وقت ایک ہی بات سوچ رہے ہیں اور وہ ہے موت، کرونا وائرس سے ممکنہ موت۔ پوری انسانیت اس وقت بے بسی اور لاچاری کا شکار ہے، زندگی جیسے جمود کا شکار ہوگئی ہے۔ بے معنی شب وروز کا ایک سلسلہ ہے جو چلتا جارہا ہے۔ ہر بات حالات کے سازگار ہونے پر اُٹھا رکھی ہے۔ ایسے میں ڈاکٹر وزیر آغا مرحوم کا ایک انشائیہ ”روڈ رولر” رہ رہ کر یاد آرہا ہے کہ جس میں وہ روڈ رولر کی سواری کرتے ہوئے ایک عجیب تجربے سے گزرتے ہیں کہ روڈرولر کی کم رفتار نظارے کی جزیات تک دکھا دیتی ہے جو کسی تیز رفتار سواری میں دیکھ سکنا ناممکن ہیں کیونکہ تیزرفتار سواری پہلے نظارے کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور ایک نیا نظارہ سامنے آجاتا ہے۔ ہم زندگی میں اتنے مگن ہیں کہ اس کی تیز رفتاری ہمیں بہت سے نزدیک کے نظارے دیکھنے نہیں دیتی۔ صبح سویرے آفس جانے کیلئے جلدی جلدی منہ ہاتھ دھونا ہوتا ہے۔ جلدی جلدی شیو کرنی پڑتی ہے لیکن اس قرنطینہ نے کہ وقت کو سلوموشن میں کر دیا ہے۔ زندگی کی دوڑ میں میری پھولی ہوئی سانس کچھ بحال ہوئی تو کچھ نئے نظارے مجھے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کم ازکم مجھے اپنے چہرے کی جھریوں اور سفید بالوں کو دیکھنے کا موقع ضرور ملا ہے کہ وقت میری جوانی مجھ سے چھین لے گیا ہے اور میں زندگی کی تیزرفتاری سے قدم ملاتے ملاتے جوانی سے ادھیڑ عمری تک پہنچ آیا ہوں لیکن سود وزیاں کے چکر میں اب بھی بھمبھیری کی طرح چکر لگا رہا ہوں۔ اس قرنطینہ میں مجھے احساس ہوا کہ کتنے شاندار لوگ مجھے چھوڑ کر اگلے جہانوں کو چلے گئے ہیں۔ چاہتے ہوئے بھی ان پیاروں سے محبت بھرا وقت نہ گزار سکا۔ زندگی کی تیزرفتاری میں وقت میری محبتیں بھی کھا گیا۔ اب بھی بہت سے لوگ میرے دل کے بہت قریب ہیں کہ جنہیں میں اب بھی وقت نہیں دے پاتا مگر بہت سا وقت اپنی انا کا قیدی بن کر اپنے حریفوں اپنے دشمنوںکو دے دیتا ہوں۔ ان کے بارے میںسوچتا ہوں کہ کیسے انہیں زیر کیا جاسکتا ہے۔ محبتوں کو سمیٹنے کا وقت میرے پاس نہیں تھا مگر میں کیسے نفرتیں سنبھالتا رہا۔ عقیدے، مسلک، نسل، قومیت کے کیسے کیسے تعصب دل میں پال رکھے تھے۔ کتنے انسانوں کو حشرات الارض کی طرح حقیر جانتے رہے مگر قرنطینہ کے سلوموشن ورژن میں اپنا چہرہ دیکھ کر کتنا برا لگ رہا ہے کہ خالق نے انسان بنا کر اس دنیا میں بھیجا تو اور نہیں تو اس کی بندگی کا حق ہی ادا کر دیتے۔ ”میں” کی میم ہی میں پھنسے رہے اور اسے اگلا سبق یاد نہ کرسکے۔ بس اپنی ذات ہی کیلئے جیتے رہے۔ اس قرنطینہ پیریڈ میں اور کچھ نہیں تو اپنی ذات، اپنے عمل، اپنے رویوں اور آنے والے دنوں کے بارے میں سوچ تو سکتے ہیں۔ اس وباء سے قدرت شاید انسان کو ری ٹیون کرنا چاہتی ہے، پوری عالم انسانیت کو قدرت اپنے معاملات ٹھیک کرنے کا ایک موقع دینا چاہتی ہے۔ زندگی کا یہ جمود ضرور کسی مثبت تحرک کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ انسان جب بے بس اور لاچار ہوتا ہے تو اپنے معبود کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یہ یقیناً ایک موقع ہے کہ ہم اپنے اردگرد دیکھیں۔ اپنے اندر جھانکیں، جہاں جہاں سے مثبت چیزیں مل سکتی ہیں اگلی زندگی کیلئے اسے زاد راہ بنالیں۔ میں اپنا لیپ ٹاپ ٹیرس میں لے آیا ہوں۔ آسمان پر سفیدرنگ کی ایک پتنگ ہوا کے دوش پر اُڑ رہی ہے، سورج کی کرنیں زمین پر پڑ رہی ہیں، کچھ بادلوںکی ٹکڑیاں بھی فضا میں معلق ہیں، ٹیرس کیاری میں لگے گلاب کے پودے میں ایک نئی کلی کھلی ہے، گلابی رنگ کی کلی
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون