ملوکیت، حاکمیت اور قیادت

حاکمیت کیا ہے اور ملوکیت کسے کہتے ہیں، اس سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ قیادت کے معنی کیا ہیں یا رہنما کون ہوتا ہے، یہ جاننا اس لئے بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں سیاسی قائدین کی اکثریت رائے عامہ کیساتھ چلنا چاہتے ہیں جبکہ اکثر حالات تقاضہ کرتے ہیں کہ اگر رائے عامہ غلط ہے تو اسے درست بات سمجھائی جائے۔ قائداعظم کی مثال لیجئے، اس وقت کی مذہبی قیادت، گانگریس کے حامی اور بہت سے لیفٹ کے لوگ پاکستان بننے کے مخالف تھے، رائے عامہ بھی منقسم تھی، میڈیا بھی آج کی طرح مؤثر اور مضبوط نہیں تھا، مگر محمد علی جناح نے عوام کو اُردو سے نابلد ہونے کے باوجود اپنے مؤقف پر قائل کیا اور پاکستان بنا کر ہی دم لیا۔ ذوالفقار علی بھٹو بھی غیرمعمولی حالات میں سامنے آئے، ور رائے عامہ کے برخلاف بہت سے فیصلے لیکر عوام کو ان پر قائل کیا۔
یہ چند مثالیں ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ بہت سے معاملات میں رائے عامہ کا دھیان بھی رکھنا اور اسے تسلیم بھی کرنا پڑتا ہے، مگر ایسے معاملات جن میں ریاست یا پارٹی کی پالیسی اور مفادات اور کچھ خاص حالات درپیش ہوں رائے عامہ کی جہاں سننا پڑتی ہے وہیں انہیں عوم کو بعض امور پر قائل بھی کرنا پڑتا ہے۔ نپولین بونا پارٹ کی مثال لیجئے، کیسے اس نے اکیلے اباؤٹ ٹرن کا حکم دیکر پوری فوج کا رخ دوسری جانب کرنے پر مجبور کیا، سخت گیر سمجھے جانے والے پشتون اور افغان معاشرہ میں باچا خان نے سرخپوش تحریک کو عدم تشدد پر منظم کیا، ہمارے ہاں وزیراعظم عمران خان تویل عرصہ بعد اس صلاحیت کے حامل رہنما دکھائی دیئے جن میں ڈٹ جانے کی خوبی کا بڑا چرچا تھا، مگر جب سے وہ حکومت میں آئے ہیں اس صلاحیت سے عاری دکھائی دیتے ہیں، وہ پہلے کوئی اعلان کرتے ہیں، پھر شائد بعض سخت گیر مؤقف رکھنے والے علما اور حقائق اور اسٹیٹ کرافٹ سے نابلد چند مشیروں کے بہکاوے اور کسی کے دباؤ میں آکر یا تو یوٹرن لے لیتے ہیں یا پھر اپنے ہی ساتھیوں کو اسے ماننے پر قائل نہیں کر سکتے، لاک ڈاؤن کی صورتحال ہی دیکھ لیجئے، خان صاحب نے کہا لاک ڈاؤن کیا تو 25فیصد غریب لوگ کہاں جائیں گے، مگر چوبیس گھنٹے گزرنے سے پہلے جو اس کا حال ہوا وہ سب پر عیاں ہے۔
ہم تو خان صاحب سے گزارش ہی کر سکتے ہیں کہ اگر کوئی اور دستیاب نہیں تو سندھ حکومت سے ہی کچھ سیکھ لیں، کیسے انہوں نے سندھ میں اقدامات کئے حالانکہ رائے عامہ ان میں سے بہت سے کام کرنے کے حق میں نہیں تھی، لیکن ہماری قیادت کوئی سبق سیکھتی ہے کہ نہیں، اس سے زیادہ ایک اور اہم سوال اس وقت بطور ریاست پاکستان کو شدت سے درپیش ہے، یہ سوال ہے ملوکیت کا، بہت سے دانشور شائد ہماری اس بات سے نالاں ہوں اور بہت سے یہ دلیل بھی دیں کہ معاشرہ ابھی زندہ ہے، ایک دوسرے کے مددگار موجود ہیں، مگر چند حقائق اور حالات اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ پاکستان کو اس وقت بطور ریاست جن خطرات کا سامنا ہے ان میں ملوکیت بھی ایک ہے جس کی جانب معاشرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، اب آج ہی کی مثال لیجئے، اسپیکر قومی اسمبلی نے کرونا سے قومی سطح پر لڑنے کیلئے پارلیمانی قائدین کا جو اجلاس بلایا وزیراعظم اس میں اپنی مدعا سنا کر چلتے بنے اور پھر شہباز شریف وبلاول نے بھی واک آوٹ کر دیا، سودا سلف لینے گھر سے باہر نکلیں تو حالات عجیب دکھائی دیتے ہیں، این95 ماسک سے لے کر سیناٹائزرز تک ذخیرہ کر لئے گئے، ایک ایک ماسک 2000روپے تک کی قیمت میں بیچا جا رہا ہے اور چھاپوں کے ذریعے گوداموں میں ذخیرہ کئے گئے ماسک لاکھوں کی تعداد میں برآمد کئے جارہے ہیں اور سبزی فروٹ کی قیمتیں دو گنا اور تین گنا وصول کی جارہی ہیں، یہ ملوکیت نہیں تو کیا ہے؟
ذمہ دار اقوام کا طریق کار کیا یہی ہے؟ مردان کے گاؤں کی کہانی ہو، ماریہ بی کے شوہر کی جانب سے اپنے باورچی کو کرونا کی تصدیق کے بعد حکومت کو رپورٹ کرنے کے بجائے بس میں بٹھا کر وہاڑی روانہ کرنے کی کوشش ہو، اسپین سے واپسی پر امیگریشن حکام کو 6ہزار رشوت دیکر ایئرپورٹ سے نکلنے والے گجرات والے شہری کے بیٹے کو وائرس لگ جانے کا قصہ ہو یا پھر سینیٹر گلزار کی بہو کی دعوت کے قصے یا پھر ہوں علما کی جانب سے اس مشکل وقت میں بھی عوام کو باجماعت نماز پر مجبور کرنے کیلئے دلیلیں، یہ سب اس بات کی نشانی ہیں کہ ہم ایک قوم کے طور غیرذمہ دار اور کچھ نہ سمجھنے پر تیار افراد کا مجموعہ ہیں اور یہ حالات ہی ملوکیت کی جانب بڑھنے کی نشانیاں ہیں۔ بہارہ کہو کی یونین کونسل ہتھیال میں تبلیغی جماعت کے نمائندوں کی وجہ سے پھیلنے والا وائرس ہمیں وارننگ دے رہا ہے کہ بس بہت ہوچکا، احتیاط کریں، گھروں میں رہیں اور اگر اپنے والد، ماں، بہن، بھائی، بیوی، بیٹی بیٹے یا دیگر رشتوں سے محبت ہے تو یہ تقاضہ کرتی ہے کہ ان سے دور رہیں۔