منتشر خیالات وافکار

اس میں شک نہیں کہ اس وقت پوری عالم انسانیت تکلیف میں ہے اور اس عالم میں بھی کہ مستقبل کا تو انسان کو ویسے بھی پتہ نہیں ہوتا لیکن اس وباء کے بعد کیا ہوگا؟ صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے، البتہ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کی تعلیمات کی روشنی میں اگر اہل ذکر (فاسئلو اھل الذکر) سے پوچھا جائے تو کچھ ایسی چیزیں ہاتھ لگ سکتی ہیں جو اس دنیا میں باعث اطمینان اور آخرت میں توشہ ثابت ہوسکتا ہے۔
احادیث مبارکہ کی کتاب الفتن کی احادیث میں سے اس وقت یہ حدیث کہ فتنے (آزمائش، وباء وغیرہ) کے ایام میں بیٹھا ہوا (گھر میں) کھڑے ہووے سے کھڑا ہوا، چلنے والا دوڑنے والے کے مقابلے میں ”خیر میں ہوگا” یعنی امن وعافیت میںہوگا، لہٰذا اللہ ہم سب کو توفیق دے کہ وباء کے ان دنوں میں ہم سب حکومت کی منشاء کے تحت گھروں میں وقار کیساتھ تعمیری کاموں بالخصوص تلاوت قرآن کریم اور پانچ وقتہ باجماعت نماز (گھروں میں) اور دیگر اذکار وظائف اور گھر کے ضروری کاموں میں مشغول رہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اُمید واثق ہے کہ یہ آزمائش بہت جلد ختم ہوگی اور اُمت مسلمہ اس سے بہت جلد نکل آئے گی اور مقتدر طبقات کو احساس ہوگا کہ مسلمانوں کیلئے ایک ہی طرزحکمرانی ہے اور وہ ہے نقش پاء مبارکہ رسولۖ اللہ پر چلنا۔ کتنی ستم ظریفی بلکہ ظلم ہے کہ دو صدیوں سے کسی مسلمان ملک میں شریعت مطہرہ کے مطابق کوئی حکومت نہیں ہے جس کے مفسدات اہل دانش سے زندگی کے ہر شعبہ میں پوشیدہ نہیں۔ سیکولر اور لبرل طبقات کو اگرچہ لفظ اُمت سے سخت چڑ ہے لیکن یہ قرآن وحدیث کی اصطلاح ہے اسی طرح جاری رہے گی اور یہ اُمت بہرحال انسانیت کی خیر وفلاح کے نکالی (اُخرجت) یعنی پیدا کی گئی ہے۔ اس وقت بھی ہم پر اللہ تعالیٰ کی مہربانیاں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں کہ شکر ہے کہ کرونا کے وار اور وائرس بقول معروف سائسندان ڈاکٹر عطاء الرحمن ویسے نہیں ہیں جیسے دیگر ملکوں میں ہیں۔ بیماری لگنے کی طبی حیثیت شریعت میں مسلم ہے، بعض اوقات ایک بیماری ایک شخص سے دوسرے کو لگ جاتی ہے لیکن یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے اور کوئی بیماری اللہ کی مرضی کے بغیر نہیں لگ سکتی کیونکہ اس وائرس کیساتھ یہ تجربہ ہوا ہے کہ یہ بہت تیزی سے پھیلتا ہے اس لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہمارا فرض ہے اور سنت رسول اللہۖ کے عین مطابق ہے۔ یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے کہ تم پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ تمہارے کرتوت کی وجہ سے آتی ہے، اللہ تعالیٰ کئی چیزوں کو معاف کرتے ہیں لیکن کسی گناہ پر پکڑ ہوجاتی ہے اور اس کے نتیجے میں تم پر مصائب آتے ہیں، یہ وبا بھی درحقیقت ہمارے لئے تنبیہ ہے۔ ایک اور حدیث مبارکہ ہے کہ ”سیدھے رہو اور دوام اختیار کرو ضو پر اور ارض (زمین) کے حوالے سے تحفظ اختیار کرو” اسلام کا کمال یہی ہے کہ ایک آیت (آیات) یا حدیث کسی خاص موقع کے حوالے سے نازل ووارد ہوئی ہو، لیکن ہر زمانے کیلئے ہونے کے سبب قیامت تک رشد ورہنمائی ہے۔ ان ایام میں خصوصی طور پر باوضو رہنا بہت ضروری ہے جبکہ اسلام میں ویسے بھی باوضو رہنے کے بڑے فضائل بیان ہوئے ہیں۔ جہاں تک سیدھا رہنے کی بات ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ آج تک جو ہوا سو ہوا۔ نادانی، غفلت، جہالت لیکن اب توبة النصوح کی اشد ضرورت ہے۔ لہٰذا پاکستان کے حکمران اور عوام اور اُمت کو خصوصی طور پر سیدھا، ہونے کی ضرورت ہے۔ دوسرا نکتہ اس حدیث کا تحفظ ارض ہے جو بہت تفصیل طلب ہے لیکن مختصر بات یہ ہے کہ زمین کو خالق مہربان نے جس مقصد کیلئے تخلیق کیا ہے اسے اُسی کے مطابق استعمال کرو اور اس سے ناجائز فوائد نہ سمیٹو” اس کا استحصال نہ کرو۔ اس پر اعمال قبیحہ کے ذریعے اتنا بوجھ نہ ڈالوکہ ہلنے لگے۔ آلودگی سے اس کی پشت پر بے جا وزن نہ ڈالو، سائنسی تحقیقات اور ایٹمی اسلحہ کی تخلیقات سے اس کو زخمی کر کے چورچور نہ کرو ورنہ ردعمل ضرور ہوگا۔ انسان اپنی غایت ومقصد پیدائش کو بھول کر اس دنیا کو عیش وعشرت (بالخصوص امریکہ اور مغرب) کی آماجگاہ بنا چکا تھا۔ ہم بھی کم نہیں، اپنی بساط کے مطابق ہمارے ہاں کے سرمایہ دار وجاگیردار یہی کچھ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو تو اپنی اس عظیم وشاہکار تخلیق کو عدل وفطرت ہی پر چلانا ہے، انسان نے اپنے خالق کو بھول کر نفس، عقل اور مرضی کی راہ پر چلتے چلتے ایسا وائرس (بقول بعضے) ایجاد کر لیا جو جن کی شکل اختیار کرچکا اب شاید وہ اتنی آسانی بوتل میں بند نہیں ہورہا۔ اس جن نے دنیا کو قرنطین میں ڈال دیا ہے، کہیں پڑھا ہے کہ قرنطینہ یا قرنطین کی اصطلاح بھی مغرب کی ایجاد ہے اور یہ فرنچ لفظ ہے جسکے معنی چودہ دن کے ہیں، سترھویں اٹھارھویں صدیوں میں جب مغرب بحری بیڑوں کے ذریعے دنیا پر قبضہ کرنے جارہے تھے تو بعض اوقات اُن کو وبائی امراض کا سامنا کرنا پڑ جاتا تھا، جس سے علاج کی غرض سے مریض کو سوا حل پر 14دن کیلئے الگ کر لیتے تھے تاکہ بیماری دوسروں کو نہ لگے، واللہ اعلم۔ ویسے اسلامی اصطلاح میں بھی مراقبہ وغیرہ قرنطینہ سے مشابہ ہے، لہٰذا ہمیں چاہئے کہ اپنے گھروں میں قرنطینہ کے ایام صبر وہمت کیساتھ گزاریں اور اس دوران اپنے آقائے نامدار حضرت محمد رسولۖ اللہ کی حیات مبارکہ کے غار حرا، شعب ابی طالب اور غارثور اور سفر ہجرت کے واقعات پر غور کریں اور برصغیر کی تاریخ میں شیخ الہند مولانا محمد حسن مدنی اور محمد جوہر کی مالٹا کی ایام اسیری اور کراچی جیل کی قید کے واقعات سے ہمت حاصل کریں۔