کورونا وائرس اور سازشی تھیوریاں

مکرر عرض ہے سماجی وحدت کو مخصوص مقاصد کیلئے نون لیگ ایک میڈیا ہاؤس اور چند دیگر خواتین وحضرات وباء کے اس موسم میں جتنا نقصان پہنچا چکے اس کی تلافی ممکن نہیں۔ مارچ کے مہینے میں یورپ، برطانیہ، امریکہ، خلیجی ممالک عراق، شام، سعودی عرب اور ایران سے کتنے پاکستانی واپس آئے؟ کسی تاخیر کے بغیر حکومت کو یہ اعداد وشمار عوام کے سامنے رکھنا ہوںگے۔ دستیاب اطلاع یہی ہے کہ 5ہزار افراد تین مرحلوں میں ایران سے پاکستان داخل ہوئے، ان میں زائرین اور ایران سے کاروباری روابط رکھنے والے تاجران شامل تھے۔ زائرین عراق، شام براستہ ایران بذریعہ سڑک گئے تھے ان کے پاس ایک ایک ماہ کا ویزہ تھا، عراق اور شام کی زیارت کے بعد یہ قافلے ایران پہنچے اور ویزے کے آخری روز انہیں تفتان میں ایرانی سرحدی حکام نے پاکستان داخلے کیلئے کلیئر کردیا ،15مارچ کے بعد حکومت سعودی عرب سے 9ہزار عمرہ زائرین کو ہنگامی طور پر واپس لائی کیونکہ ان کے ویزوں کی مدت ختم ہو چکی تھی اور سعودی حکام باضابطہ طور پر عمرہ زائرین کو واپس لے جانے کیلئے حکومت کو کہہ چکی تھی۔ 20فروری سے 20مارچ یا انٹرنیشنل فلائٹس پر پابندی تک یورپ، امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک سے آنیوالے پاکستانیوں کی تعداد بارے 41ہزار سے 53ہزار تک کی اطلاعات ہیں، درست اعداد وشمار کیساتھ بریفنگ کے نام پر بھاشن دیتے ہوئے حکام عوام کو اعتماد میں لیں۔ آگے بڑھنے سے قبل پھر ایک سوال ہے شام، عراق اور ایران تینوں ملکوں کے زائرین تفتان بارڈر کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوئے اور حکومت کی تحویل میں آگئے، انہیں پہلے تفتان کی خیمہ بستی نما قرنطینہ میں رکھا گیا پھر سکھر، ملتان ڈیرہ غازی خان اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بنائے گئے قرنطینہ مراکز تک حکومت نے سیکورٹی فورسز کی نگرانی میں پہنچایا، اب عمرہ زائرین اور یورپی ممالک برطانیہ، امریکہ اور خلیجی ممالک سے آنے والے شہریوں کو کہاں اور کس جگہ بنائے گئے قرنطینہ مراکز میں رکھا گیا؟ کیا وہ ہوائی اڈوں سے محض ٹمپریچر چیک کروا کے گھروں کو چلے گئے؟ بظاہر یہی لگتا ہے کہ وہ گھروں کو چلے گئے کیونکہ پنجاب میں اب تک کورونا کے جتنے مریض سامنے آئے ہیں ان میں70فیصد لوگوں کا تعلق یورپ سے آئے شہریوں اور ان کے مقامی عزیز واقارب کا ہے۔ اہم ترین مرکز گجرات بنا جہاں پچھلے دو روز باقاعدہ مساجد میں اعلان کروایا گیا کہ سپین ودیگر یورپی ممالک سے آنے والوں سے میل میلاپ نہ رکھا جائے بلکہ ایسے شخص کے بارے میں ڈپٹی کمشنر گجرات کو با قاعدہ اطلاع دی جائے۔
یہ بھی عرض کردوںکہ حکومت اور ادارے لاکھ دعوے کریں لیکن پاکستان کے پاس 20مارچ تک کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کٹس موجود نہیں تھیں (اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ موجود تھیں تو بہت محدود تعداد میں) غور طلب بات یہ ہے کہ جب ٹیسٹنگ کٹس ہی موجود نہیں تھیں تو کیسے فیصلہ ہوا کہ 20مارچ تک بیرون ملک سے آنے والے تمام شہری کورونا سے محفوظ ہیں؟ اب صورتحال یہ ہے کہ معاملات بگڑ رہے ہیں، پچھلے پانچ دنوں کے دوران سندھ اور پنجاب میں کورونا وائرس کے جتنے کیس سامنے آئے ان میں سے 95 فیصد افراد نے بیرون ملک سفر نہیں کیا بلکہ انہیں یہ بیماری مقامی طور پر لگی۔ ان سطور کے لکھے جانے سے کچھ دیر قبل تبلیغی جماعت کی مجلس شوریٰ کے رکن ندیم اشرف نے ایک تحریری بیان جاری کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ جماعت کی انتظامیہ نے ملک بھر میں موجود تبلیغی جماعتوںکو اجتماعات تبلیغ اور گشت سے فوری طور پر منع کر دیا ہے۔ یہ بیان رائے ونڈ شہر جہاں تبلیغی جماعت کا عالمی مرکز قائم ہے کو مکمل لاک ڈاؤن کئے جانے کے بعد جاری کیا گیا۔ پچھلے ماہ جب تبلیغی جماعت کے بزرگوں سے پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ذاتی طور پر درخواست کی تھی کہ اجتماع منعقد نہ کیا جائے تو یہ درخواست مسترد کر دی گئی، بعد ازاں موسم کی ابتر صورتحال کے باعث اجتماع کو مختصر کر دیا گیا۔ کاش اگر اُس وقت وزیراعلیٰ پنجاب کی دردمندانہ درخواست کو پذیرائی مل جاتی تو حالات خراب نہ ہوتے۔ کل شب حیدرآباد کے ڈپٹی کمشنر نے تصدیق کی کہ 126کورونا مریضوں میں 116کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے۔
بہت افسوس کیساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے یہاں ہر معاملے کو کفر واسلام کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کل 31مارچ کو ہالینڈ، ترکی اور سپین کی حکومتوں نے باضابطہ طور پر چینی ماسکوں اور کورونا وائرس ٹیسٹنگ کٹس کو غیرمعیاری قرار دیا، سپین میں چینی سفارتخانے نے ایک بیان میں تسلیم کیا کہ کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کٹس بنانے والی کمپنی ”شینجن بائیو ایزی بائیو ٹیکنالوجی” کے پاس اپنا سامان تیار کرنے اور عالمی طور پر فروخت کرنے کا لائسنس نہیں ہے۔ ہمارے یہاں اس پر بھی کہا جارہا ہے کہ یہ درحقیقت امریکہ اور اسرائیل کی سازش ہے، وہ چاہتے ہیں کہ مسلم دنیا چین سے انسداد کورونا میں معان طبی سامان نہ خریدیں۔ ارے خدا کے بندو اعتراض کرنے والے تین میں سے دوممالک غیرمسلم ہیں جس مسلم ملک ترکی نے چینی سامان کو غیرمعیاری قرار دیا اس کے ان دنوں امریکہ سے تعلقات گرم جوشی سے خالی ہیں۔ امریکہ کے سرمایہ کار اور طبی سامان فراہم کرنے والی کمپنیاں چینی کمپنیوں کو لگ بھگ 80کروڑ ڈالر کے آرڈر ماسک، ٹیسٹنگ کٹس اور دیگر سامان کیلئے دے چکی ہیں اور اب وہ شدید پریشانی سے دوچار ہیں۔ حقائق کو جانے اور سمجھے بغیر فتویٰ گیری کا شوق پورا کرنے والے انسانیت کی خدمت نہیں کر رہے بلکہ انسانیت کے مسائل میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارا نصاب، تاریخی کتب اور تاریخی رومانی ناولز ہر جگہ سازشوں کا چورن ہی بیچا جارہا ہے۔ چائے میں چینی کم ہو تو اسرائیلی سازش ہے، بہرطور حرف آخر یہ ہے کہ وفاقی وزارت داخلہ کو ان خبروں کی وضاحت کرنی چاہئے کہ سعودی عرب سے آنیوالے زائرین کی کل تعداد میں 2887ء افراد کا ریکارڈ (دستاویزات) درست ناہونے کی وجہ سے ان سے رابطہ ممکن نہیں کہ ان کا کورونا ٹیسٹ کروایا جاسکے۔