آن لائن کلاسز، لاک ڈاؤن اور معذوروں کی فریاد

گرچہ اس وقت سوائے کورونا وائرس کے اور ذہن پر کوئی مسئلہ سوار نہ ہونے کا تاثر عام ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں، کورونا وائرس کی وباء سے خطرات اپنی جگہ ہر قسم کے حالات کے اپنے تقاضے اور مسائل ہوتے ہیں۔ قبائلی اضلاع، چترال، تورغر اور ان تمام علاقوں میں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت سرے سے دستیاب نہیں یا جزوی دستیاب ہے اور سروس بھی اتنا معیاری نہیں، علاوہ ازیں ان علاقوں سے جڑے مسائل کے حوالے سے ہر طالب علم کی اپنی اپنی کہانی اور مسائل ہیں۔ معمول کے دنوں میں بھی قبائلی علاقہ جات سے ہفتہ وار بنیادوں پر انٹرنیٹ کی بندش اور اس سے جڑے مسائل بارے برقی پیغامات تسلسل سے آتے رہتے تھے، لیکن اس مرتبہ شکایات کی نوعیت اور سوالات کی اہمیت کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر عدم توجہ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ محولہ علاقہ جات کے تقریباً تمام طلباء وطالبات کا ایک ہی مرکزی سوال یہ ہے کہ جب ان کے علاقوں میں نیٹ کی سہولت موجود ہی نہیں تو وہ آن لائن کلاسز کیسے لیں؟ جامعات کی انتظامیہ نے تو فیصلے کر لئے مگر اس امر کا کسی نے بھی جائزہ نہیں لیا کہ خیبر پختونخوا کے اکثریتی علاقوں میں انٹرنیٹ اور بجلی دونوں کا مستقل مسئلہ ہے جن علاقوں میں یہ سہولیات دستیاب ہیں وہاں کے طلبہ ملنے والے ٹاسک اور کریڈٹ آورز کسی طریقے سے پورے کرلیں گے، رہ گئے محروم طلبہ ان کیلئے جامعات کی پالیسی واضح نہیں بلکہ پالیسی سازوں نے اس کا سوچا تک نہیں۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ پوچھا جا رہا ہے کہ جامعات میں آن لائن کلاسز اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر کبھی توجہ نہیں دی گئی، یہ نظام متعارف ہی نہیں تو اسے چلایا کیسے جائیگا۔ طلبہ کی ان مشکلات اور جامعات کی استعداد کا البتہ ہائیرایجوکیشن کمیشن کو ادراک ہے، ایچ ای سی نے جامعات میں آن لائن کلاسز کے حوالے سے شکایات پر یونیورسٹیوں کی انتظامیہ سے کورس کے معیار اور اس کے پڑھانے کے انتظامات اور طالب علموں کے تحفظات بارے استفسار کیساتھ اس سارے عمل کے تفصیلی جائزے کا عندیہ دیا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ آن لائن کلاسز اور ورک فرام ہوم تدریسی ودفتری امور کی انجام دہی میں من حیث المجموع کبھی سوچا ہی نہیں گیا۔ یہ مسئلہ اپنی جگہ جامعات کی انتظامیہ اس سوال کا جواب دینے کے بعد ہی آن لائن کلاسز اور کورس کی تقسیم اور کریڈٹ آور پورے کرنے کے عمل کو آگے بڑھائے کہ محروم طلبہ کا کیا بنے گا۔ کیا وہ اپنے سمسٹر بچانے کیلئے شہروں میں لوٹ آئیں۔ جامعات نے ہاسٹلز بند کردیئے ہیں، ہوٹلز بند ہیں، اس ساری صورتحال میں کیا آن لائن کورس ورک کلاسز اور ٹاسک ممکن ہیں۔ طلبہ کی رہنمائی اور ان کو مشغول رکھنے کی حد تک آن لائن کلاسز کی گنجائش ہے لیکن اگر اسے کلاس روم کا متبادل اور کریڈٹ آورز پورے کرنے کا ذریعہ بنایا جائے تو بعید نہیں کہ متاثرہ طلبہ عدالتوں سے رجوع کریں۔ ان سارے عوامل پر غور اور ان مشکلات کا ازالہ کرنے پر جتنا ہو سکے جلد توجہ دی جائے، اس کے بعد فیصلے کئے جائیں۔ لاک ڈاؤن کی مشکلات اور مسائل سے انکار نہیں لیکن حکومت نے لاک ڈاؤن کے دوران عوام کو بنیادی اشیاء بالخصوص اشیائے خوردنی کی ترسیل ورسائی میں رکاوٹ نہ ڈالنے اور اس کی بہم رسانی یقینی بنانے کا جو دعویٰ کیا ہے اس پر سوالات اُٹھ رہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ لوئر اورکرزئی کے حسین گڑھی کے مکینوں نے مکمل لاک ڈاؤن کے باعث غذائی اشیاء کی ناپیدگی کی شکایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رسد کے تمام راستے مسدود کر دیئے گئے ہیں، حکومت ان کی مشکلات پر توجہ دے۔ حسین گڑھی ضلع اورکزئی کے عوام کی طرح صوبے کے دیگر کئی علاقوں میں بھی اس طرح کی صورتحال بعید نہیں اب جبکہ لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتے کی توسیع کر دی گئی ہے، حکومت اور انتظامیہ کو لوگوں کے مسائل کے حل پر بھی توجہ دینا چاہئے۔ بلاشبہ لاک ڈاؤن ہی آخری حربہ ہے، اس دوران کم ازکم عوام کو خوراک اور ادویات کی ترسیل یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ شبقدر سے ایک خصوصی فرد نے اپنے پیغام کو ”کورونا اور معذور” کا عنوان دیکر لکھا ہے کہ حکومت کورونا کے متاثرین کیلئے تو امداد دے رہی ہے، ہمارے جیسے لوگ امداد کے سب سے زیادہ مستحق اور ضرورت مند ہیں۔ حکومت کچھ معذوروں کا بھی خیال رکھے اور ان کی بھی مدد کرے۔ میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں فاروق کے اس پیغام میں مزید اضافہ کر سکوں، سوائے اس کے کہ حکومت کم سے کم ان افراد کے مستقل کفالت کی ہی ذمہ داری نبھائے۔ کہنے کو حکومت کے درجنوں محکمے اور نظامتیں ہیں، وسائل بھی مختص کئے جاتے ہیں لیکن خصوصی افراد محروم کے محروم ہی رہتے ہیں۔ وہ اپنی محرومی کی شکایت کرنے کسی کے پاس جا بھی نہیں سکتے، پھر بھی کبھی کبھار احتجاج کر کے فریاد سنانے کی کوشش کرتے ہیں مگر ان کے مسائل جوں کے توں ہی رہتے ہیں۔ اس وقت جبکہ حکومت نے عوام کی امداد کیلئے بھاری فنڈ مختص کرنے کا اعلان کیا ہے اور کام جاری ہے تو کوشش ہونی چاہئے کہ کوئی بھی معذور شخص امداد سے محروم نہ رہ جائے۔ محرومیوں کی داستان ابھی ختم نہیں ہوئی ایک قاری نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ کورونا وائرس اور بارشوں کے باعث اور کما کر روزی روٹی کا بندوبست کرنے والا طبقہ جس بری طرح متاثر ہوا ہے اس کا اندازہ جگہ جگہ سڑکوں پر امداد کے منتظرین کی تعداد اور ان کی ملتجیانہ نظروں سے ہر آنے جانے والے کو دیکھنے سے لگایا جا سکتا ہے۔ آزمائش کی یہ گھڑی ایثار وقربانی کی متقاضی ہے، صدقات سے بلائوں کے ٹل جانے کاہمیں جو درس دین نے دیا ہے ان حالات میں اس درس پر پوری طرح عمل کرنا ہی بہتر اجر وثواب اور تحفظ کاباعث عمل ہوگا۔
قارئین اپنی شکایات اور مسائل
اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔