لاک ڈاؤن کی مدت میں اضافہ، قومی اتفاق رائے ضروری ہے

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے اجلاس کے بعد دی گئی بریفنگ میں وفاقی وزیر اسد عمر نے بتایا کہ ملک بھر میں کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے لاک ڈاؤن کی مدت 14اپریل تک بڑھا دی گئی ہے، مزید سختی یا نرمی کا فیصلہ 14اپریل کو کریں گے۔ این سی سی نے بیرون ملک پھنسے ہوئے 2ہزار پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کیلئے پی آئی اے کے خصوصی فلائٹس آپریشن کی بھی منظوری دی، اُدھر وزیراعظم عمران خان نے بدھ کے روز کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا ابھی مزید بڑھنی ہے تاہم اس کی شرح کا پتہ نہیں۔ کورونا ایک آزمائش ہے قوم ملکر مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ ٹائیگر فورس سے غیرسیاسی کام لیا جائے گا۔ این سی سی کے اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے اس امر پر زور دیا کہ کسی بھی طبقے کو حالات کے رحم وکرم پر نہ چھوڑا جائے۔ ان کاکہنا تھا کہ انتظامات بروقت کر لئے تو پورا معاشرہ محفوظ رہے گا، ہمیں بلاتفریق رنگ ونسل ایک قوم بن کر وباء سے لڑنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سندھ کے وزیراعلیٰ نے بھی این سی سی کے فیصلوں کی تائید کرتے ہوئے صوبے میں جاری لاک ڈاؤن کی مدت 14اپریل تک بڑھا دی ہے۔ سندھ میں جمعہ کے روز 12بجے سے 3بجے دوپہر تک مکمل لاک ڈاؤن ہوگا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے بدھ کو این سی سی کے اجلاس کے بعد جن اقدامات کا اعلان کیا وہ نہ صرف بجا طور پر درست ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ این سی سی کو روزاول سے ہی اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہئے تھا تو یہ غلط نہیں ہوگا۔ اُس وقت جب ملک بھر میں صوبائی حکومتیں لاک ڈاؤن سے اصلاح احوال کیلئے سرگرم عمل تھیں وزیراعظم کا تواتر کیساتھ اس کی مخالفت کرتے چلے جانا درست نہیں تھا، اس سے نہ صرف وفاق اور صوبوں میں بداعتمادی بڑھی بلکہ سیاسی تلخیوں میں اضافہ ہوا۔ بدھ کے روز این سی سی کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر نے لاک ڈاؤن کی مدت بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کی بجائے”موجودہ بندش” کے الفاظ استعمال کئے جس سے ایک بار پھر یہ تاثر اُبھرا کہ وفاق نے نہ چاہتے ہوئے یہ فیصلہ قبول کیا ہے۔ پچھلے دو روز کی پریس بریفنگز اور چند بیانات سے عوام میں پھیلنے والے تاثر کا ازالہ کیسے ہوگا اور وہ کیا اقدامات ہوں گے جن سے یہ دکھائی دے کہ وفاق اور صوبے پوری طرح متحد ہیں، این سی سی اور وفاقی کابینہ کو اس پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہئے۔بہرطور صد شکر کہ بدھ کے فیصلوں اور ان کے اعلانات کے بعد اب سارا ملک یکسوئی کیساتھ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر توجہ دیں گے۔ 206ملکوں میں پھیل جانے والے کورونا وائرس کی وجہ سے اب تک دنیا میں ہوئی ہلاکتیں 46ہزار سے بڑھ چکی ہیں جبکہ مریضوں کی تعداد 9لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ بدھ کے روز پاکستان میں اس وائرس نے مزید پانچ افراد کو زندگی سے محروم کر دیا یوں اب تک اس وباء سے 31افراد جاں بحق ہوئے جبکہ مریضوں کی تعداد 2222تک پہنچ گئی۔ پچھلے چند دنوں کے دوران کورونا وائرس کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ بدقسمتی سے اس وباء کے تیزی سے پھیلنے کی وجوہات پر غور وغوض کی بجائے ایسی خبریں اور تجزئیے نشر ہوئے جن سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا۔ حکومتی اکابرین، سیاستدانوں اہل دانش، علماء ان کے پیروکاروں اور دیگر طبقات کو سنجیدگی کیساتھ یہ بات سمجھنا ہوگی کہ قومیں اور ممالک جب بدترین حالات سے دوچار ہوں تو ایسے وقت میں من پسند راگ الاپتے چلے جانے سے مسائل بڑھتے ہیں۔ موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ سب ملکر اجتماعی جدوجہد کریں، ہر ادارہ اور شخص اپنے حصہ کا فرض ادا کرے۔ یہ عرض کر دینا بھی بہت ضروری ہے کہ وزیراعظم نے جس فورس کے قیام کا اعلان کیا اس کی سیاسی شناخت کسی بھی طور درست نہیں۔ پاکستان کی عمومی سیاسی فضا جس عدم برداشت اور نفرت سے عبارت ہے اسے دیکھتے ہوئے ان (وزیراعظم) کی توجہ اس امر کی جانب دلانا ضروری ہے کہ ایک خاص سیاسی جماعت اور اس کی حکومت کے زیراہتمام قائم کی جانے والی فورس سماج کے اجتماعی ضمیر کے مطابق کردار ادا نہیں کر سکے گی بلکہ اس سے دوریاں مزید بڑھنے کے خطرات ہیں۔ زیادہ مناسب یہ ہوگا کہ خدمت خلق کے ملک گیر کام کیلئے بلدیاتی اداروں کے منتخب ارکان سے کام لیا جائے، پنجاب میں جہاں تحریک انصاف نے حکومت سنبھالتے ہی یہ ادارے تحلیل کر دیئے تھے متبادل انتظام بارے غور کیا جائے۔ ہمیں کھلے دل سے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ نفرت، عداوت، سیاسی عدم برداشت اور دوسرے مسائل نے جو تقسیم پیدا کردی ہے اس میں اصلاح احوال اور بلاامتیاز خدمت خلق کیلئے سب کو متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔ یہاں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتوں کے اعلانات کے باوجود بعض وفاقی اور صوبائی (چاروں صوبوںکے) اداروں کے ملازمین کو ابھی تک تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی نہیں ہو پائی، وفاق اور صوبے اس صورتحال کا نوٹس لیں۔ مکرر اس امر کی جانب توجہ دلاتے ہوئے یہ عرض کرنا ازبس ضروری ہے کہ کرونا وبا سے پیدا شدہ حالات سے نکلنے اور نقصان کو محدود کر دینے کیلئے بہت ضروری ہے کہ سیاسی قیادت باہم متحد ہو، ثانیاً یہ کہ ملک گیر تنظیمی ڈھانچہ رکھنے والی جماعت اپنی علاقائی حلیف جماعتوں کیساتھ مل کر عوام اور خصوصاً سفید پوش ومحنت کش طبقات کو مشکلات سے نجات دلوانے کیلئے مؤثر کردار ادا کریں۔ چاروں صوبوں میں کم ازکم 6ماہ کا پراپرٹی وپروفیشنل ٹیکس معاف کیا جائے، اوقاف سمیت دیگر محکموں کے کرایہ داروں اور لیز برداروں کو خصوصی رعایت دی جائے۔ اس حوالے سے وفاقی حکومت کسی تاخیر کے بغیر صوبوں کو مناسب اقدامات کیلئے ہدایات جاری کرے۔