مثال آئینہ بے رُو ریا ہوں

یہ شاید کورونا وائرس کا خوف ہے کہ وہ جو موم بتی خالائیں معمولی معمولی معاملات پر بینر، جھنڈیاں اُٹھائے مطالبات کرتی سڑکوں پر دندناتی پھرتی دکھائی دیتی تھیں، اب ایسے غائب ہیں جیسے محاورے والے گدھے کے سر سے سینگ، یعنی کورونا کا خوف نہ ہوتا تو ان کا غل غپاڑہ دیدنی ہوتا، البتہ جو یہ ٹک ٹاک بریگیڈ والے ہیں انہوں نے تھوڑی بہت انت ضرور مچا رکھی ہے اور شور وغوغا کرتے ہوئے انہیں ذرا بھی اللہ کا خوف نہیں ہے اور تبلیغی جماعت کے بارے میں ان لوگوںکی دریدہ ذہنی کچھ حد سے زیادہ ہی ہورہی ہے۔ کیا یہ بیماری صرف تبلیغی جماعت والوں نے پھیلائی ہے یا پھر اس کے دیگر کچھ عوامل بھی ہیں؟ چین کے علاقے ووہان میں اس بیماری کے پھیلانے کے حوالے سے اب تو کئی سازشی تھیوریاں گردش میں ہیں جبکہ جو پاکستانی تعلیم کے حصول یا کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے اب تک چین ہی میں مقیم ہیں اور جن کی واپسی کی اجازت تک نہیں دی گئی، ان کی صحت کے حوالے سے تو ان کے اہل خاندان جس تشویش میں مبتلا ہو کر ان کی واپسی کیلئے دہائیاں دے رہے تھے اب انہیں بھی یقین ہوگیا ہے کہ ان کے پیارے وہاں ہر طرح حفاظت میں ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران میں یہ وبا کیسے پھیلی جہاں اس نے تباہی مچا رکھی ہے اور وہاں سے جس طرح زائرین کے واپس آنے اور تفتان بارڈر پر احتیاطی تدابیر اختیار نہ کئے جانے کی وجہ سے جو صورتحال بنی اور خاص طور پر سندھ کے مختلف علاقوں میں ان کے پہنچنے سے جو تشویشناک صورتحال پیدا ہوئی اس کی وجہ سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے سخت اقدامات اُٹھانے کے بعد ہی معاملات اب بھی مکمل کنٹرول میں نہیں آسکے، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کیا یہ جو زائرین ایران سے واپس آئے ان کا تعلق بھی تبلیغی جماعت کیساتھ تھا؟ جبکہ تبلیغی جماعت نے حکومت کیساتھ ہر ممکن تعاون کرتے ہوئے اپنی مجلس شوریٰ کی ہدایات کے تحت نہ صرف اجتماعات روکنے کی ہدایات جاری کیں بلکہ جماعتوں کو واپسی کا پیغام بھی دیا مگر بعض عاقبت نااندیش تبلیغی سرگرمیوں سے دل میں نفرت اور بغض کے جذبات رکھتے ہوئے جو منفی پروپیگنڈہ کر رہے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ سے معافی کا خواستگار ہونا چاہئے۔ بقول شوکت واسطی
ہوئے حریف بھی چھوٹے دل ودماغ کے لوگ
اب ایسے لوگوں سے اپنا معاملہ کیا ہو
سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا اور وہ جو ایک عرصے سے ہماری سیاست میں ایک نیا ٹرینڈ متعارف ہوا ہے جس کو ”ایک پیج” کے نام سے پکارا جاتا ہے تو حزب اختلاف کی جماعتوں کو تو خیر جانے دیں کہ ان کا کام ہی ہر ”اچھے کام” میں کیڑے نکالنا ہوتا ہے، مگر یہاں تو معاملہ خود حکومتی حلقوں کے متضاد بیانات میں آکر اٹک گیا ہے یعنی آٹے کی قلت اور مقررہ قیمت سے زیادہ پر فروخت کرنے کے حوالے سے سرکار والا تبار کے حلقوں کی جانب سے مختلف بیانات سامنے آرہے ہیں ان کو سن اور پڑھ کر ناطقہ سر بہ گریباںہے۔ اس تضاد بیانی سے عوام بے چارے حیران وپریشان ہیں کہ وہ کس وزیر باتدبیر کی بات کو درست مان لیں، وہ جو دودھ اور شہد کی نہروں کی طرح آٹے کے انبار کا تذکرہ کرتے ہیں یا پھر ان کی بات درست مان لی جائے جو مہنگائی مسلط کرنے والے مٹھی بھر تاجروں کو تنبیہ کرتے پھر رہے ہیں، یہ لوگ بلیک میں آٹا فروخت کرنے سے باز رہیں اور ان سب سے قطع نظر یہ جو اخبارات کے کالم عام غریب لوگوں کے آٹے کے حصول کیلئے خجل خوار ہونے کے حوالے سے خبروں سے بھرے ہوئے ہیں ان پر یقین کیا جائے، حالانکہ ایک ہی روز پہلے آٹا فیئر پرائس شاپس کی تفصیل ایک سرکاری اشتہار میں سامنے آچکی ہے، تو پھر کس بات کو سچ سمجھا جائے، کس پر جھوٹ کا گمان کیا جائے کہ بقول نیاز سواتی مرحوم
میرا بیٹا بات سچی ایک بھی کرتا نہیں
میرے بیٹے کو سیاستدان ہونا چاہئے
تازہ ترین خبروں کے مطابق بلدیاتی نظام کی بحالی کے حوالے سے مطالبہ ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے اور چند گھنٹوں میں 23ہزار سے زیادہ ٹویٹس اور ساتھ ہی ہیش ٹیگ کے طور پر لوکل گورنمنٹ بحال کرو کے مطالبات سامنے آئے، صبح ہی صبح لوگوں نے ٹرینڈ کرنا شروع کیا جو دوپہر تک پاکستان کے طول وعرض میں سب سے اوپر آگیا، یہ دراصل حکومت کی جانب سے شہریوں کو راشن پہنچانے اور ضرورتمندوں کی مدد کے حوالے سے اقدامات اُٹھانے کے نتیجے میں ایک نئے ٹرینڈ کی صورت سامنے آیا۔ حکومت نے اس ضمن میں جو ٹائیگر فورس قائم کرنے کا اعلان کیا ہے اور امدادی پیکج تحریک انصاف کے کارکنوں کے ہاتھ میں دینے کا پروگرام بنایا ہے، اس پر حزب اختلاف کی جماعتیں بھی معترض ہیں اور اسے پی ٹی آئی کے مبینہ بیروزگاروںکو نیا روزگار فراہم کرنے سے تعبیر کررہی ہیں جبکہ بلدیاتی نظام کی مدت ختم ہونے کے بعد نئے بلدیاتی انتخابات کی کوئی صورت بھی دکھائی نہیں دیتی جسے آئین سے انحراف قرار دیا جارہا ہے اس لئے لاک ڈاؤن کے دروان گھروں میں بیٹھ جانیوالے غریب، نادار دیہاڑی دار مزدوروں کو خوراک اور نقد امداد پہنچانے کیلئے پرانے بلدیاتی نمائندوں کی مدد لینے کے مطالبات پر گومگو کی کیفیت سامنے آرہی ہے، یعنی جو نظام اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے اسے کیسے اور کس قانون کے تحت واپس کیا جائے، تو پھر کیوں نہ یہ کام مولانا طارق جمیل کی سرکردگی میں تبلیغی جماعت کے حوالے کیا جائے تاکہ ہر اس ضرورتمند تک امداد پہنچ سکے جو واقعی اس کا حقدار ہو۔
ہر اک کو اس کی صورت ہوں دکھاتا
مثال آئینہ بے رو ریا ہوں