مقبوضہ کشمیر میں ظالمانہ قوانین کا نفاذ

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور اسے بھارتی ریاست کا باضابطہ حصہ بنا لینے کے مودی حکومت کے اقدام کے بعد پچھلے 6ماہ سے بھارت کی مرکزی حکومت ریاست جموں وکشمیر کے اپنے زیرقبضہ علاقے میں ایسے کالے قوانین نافذ کر رہی ہے جس سے وادی اور ملحقہ علاقوں میں آبادی کا تناسب بگڑ سکے۔ بدھ کے روز بھارت کی مرکزی حکومت نے منظورشدہ نئے قانون کے تحت مقبوضہ کشمیر کی اعلیٰ ملازمتوں کو بھارت بھر کے شہریوں کا حق قرار دیتے ہوئے نان گزیٹڈ ملازمتوں پر مقامی آبای کے تقدم کا اعلان کیا۔ بظاہر یہ فیصلہ بھارت کی دوسری ریاستوں کی طرح ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ بھارت کی مودی سرکار اس فیصلے کی آڑ میں آر ایس ایس کے تربیت یافتہ نوجوانوں کو بھارت بھر سے لاکر مقبوضہ کشمیر میں اعلیٰ سرکاری منصبوں پر فائز کروانا چاہتی ہے۔ یہ فیصلہ کشمیری عوام کی قومی شناخت کو تبدیل کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔ حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں اور تین سابق وزرائے اعلیٰ نے مرکزی حکومت کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے مودی کی مسلمان دشمن کے ایجنڈے کا حصہ قرار دیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت والی شق کے خاتمے کے بعد سے اب تک پچھلے سات ماہ کے دوران بھارت کی مرکزی حکومت درجن بھر ایسے غیرمساویانہ قانون مقبوضہ کشمیر میں متعارف کروا چکی ہے جس سے ہندوتوا کے پھیلاؤ اور تسلط کی نشاندہی ہوتی ہے۔ قابل افسوس بات یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے ایک کروڑ باشندوں پر توڑے جانے والے مصائب اور بنیادی حقوق کے منافی قوانین کے نفاذ پر عالمی برادری مکمل طور پر خاموش ہے۔
اقوام متحدہ کا غریب ممالک کیلئے عالمی فنڈ کے قیام کا اعلان
اقوام متحدہ نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر غریب ممالک کیلئے عالمی فنڈ قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا کی شکل میں دنیا کو دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑے امتحان کا سامنا ہے، اس کے دنیا بھر کی چھوٹی بڑی معیشتوں پر بدترین اثرات مرتب ہوں گے۔ یواین او کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترس کا کہنا ہے کہ حالیہ وباء کے تباہ کن اثرات سے سماجی ومعاشی طور پر متاثر ہونے والے غریب ممالک کی مدد کیلئے قائم کئے جانے والے اس عالمی فنڈ کا مقصد مل جل کر اس بحران پر قابو پانا ہے جس کا کم ترقی یافتہ ممالک کو سامنا ہے۔ یو این او کا عالمی فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ بجا طور پر خوش آئند اور بروقت ہے، اس کیساتھ اگر اقوام متحدہ عالمی مالیاتی اداروں پر اس امر کیلئے زور دے کہ وہ کم ترقی یافتہ اور غریب ممالک کے قرضوں پر سود کی شرح میں دو سال کیلئے کمی کا اعلان کریں تو اس سے بھی ان ممالک کو مناسب ریلیف مل سکتا ہے۔ اُمید کی جانی چاہئے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اس حوالے سے عالمی مالیاتی اداروں اور ترقی یافتہ ممالک سے بات چیت کریں گے تاکہ کورونا وائرس کی وجہ سے بدترین مسائل کا شکار ریاستوں کو عالمی مالیاتی اداروں سے بھی ریلیف مل سکے۔
سانحہ ہلمند
افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں سڑک کنارے نصب بم دھماکے سے 7افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے، یہ دھماکہ عین اس دن ہوا جب طالبان کا وفد افغان حکومت سے مذاکرات کیلئے کابل پہنچ چکا تھا اور توقع کی جا رہی تھی کہ قیام امن کیلئے جاری کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔ ہلمند دھماکہ میں طالبان نے اپنے کردار کو یکسر مسترد کر دیا ہے، طالبان کا عسکری کارروائیوں کی بجائے مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کا اعلان خوش آئند ہے مگر اس امر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ داعش سمیت چند دوسرے مسلح دھڑے طویل المدتی قیام امن اور افغان قومی اتفاق رائے سے قیام کے منافی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، ان امن دشمن عناصر کی سرکوبی کیلئے بروقت اقدامات کی ضرورت ہے تو دوسری جانب یہ امر بھی اہم ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے مذاکرات کامیاب ہوں اور طرفین ایک ایسے قومی اتفاق رائے کا افغانستان کو تحفہ دیں جس سے عسکری جنون کی جگہ تعمیر وترقی کے نئے دور کا آغاز ہو اور افغانستان اقوام عالم میں باوقار انداز میں اپنے حصے کا کردار ادا کر سکے۔