نئے حالات میں بھی پرانے اطوار؟

پنجاب حکومت نے کورونا لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کے جرم میں گرفتار افراد کی فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔ اس اعلان کے بعد ملک کے دوسرے حصوں میں دفعہ144 کی خلاف روزی کرنے کے الزام میں گرفتار افراد کی رہائی کو بھی یقینی بنانا چاہئے۔ کورونا بحران ملک ومعاشرے کیلئے یکسر نئی صورتحال ہے۔ موجود نسلوں کو ان حالات کا سامنا پہلے کبھی نہیں کرنا پڑا۔ اسی طرح حکومت اور انتظامی اداروں کو بھی ملک گیر سطح پر اس نوعیت کے حالات کا مقابلہ کرنے کا کوئی تجربہ نہیں۔ لاک ڈاؤن کا مطلب بازاروں کی مکمل تالہ بندی ہے، پاکستان کے معاشی حالات میں مکمل لاک ڈاؤن ایک قابل عمل تصور ہی نہیں رہا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان لاک ڈاؤن کی مخالفت کررہے تھے اور اب تک وہ اپنے اس موقف پر قائم ہیں۔ روزانہ بنیاد پر کمانے اور کھانے والوں کیلئے گھروں میں گھٹنے توڑ کر بیٹھ جانا ممکن ہی نہیں ہوتا۔ خود حکومت کی پسلی بھی اتنی نہیں کہ وہ گھروں میں بیٹھے افراد کو جن کی تعداد کروڑوں میں ہے تک مفت راشن پہنچائے۔ ہاتھ سے کمانے والا فرد ہاتھ نہیں پھیلا سکتا اس کی مدد کیلئے حکومت کو اس کے گھر تک جانا ہوتا ہے۔ سردست اس مرحلے میں حکومت یہ کرنے کے قابل نہیں اسلئے بہت مجبوری کے عالم میں لوگوں کو گھروں سے نکلنا پڑتا ہے۔ یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ باہر نکلنا ان کیلئے خالی ازخطرہ نہیں وہ باہر نکلنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے ملک کے کئی علاقوں میں لاک ڈاؤن کا تصور ناکام ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر بہت سی ویڈیو کلپس گردش میں ہیں جن میں پولیس اہلکار بازاروں میں عوام پر ڈنڈے برسا رہے ہیں اور لوگوں کو مرغا بنایا گیا ہے۔ قانون کا نفاذ اپنی جگہ مگر مجبور لوگوں کی عزت نفس کا خیال بھی رکھا جانا چاہئے۔ حالات سے نمٹنے کے حوالے سے ناتجربہ کاری کے باعث اگر نو روز سے قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے زیادتیاں ہوئی ہیں تو اب ایک نئی سوچ اپنا کر اس روئیے میں تبدیلی لانی چاہئے۔ پہلے سے خوف، ذہنی تناؤ اور بے یقینی کا شکار عوام کو مزید پریشان کرنے کی بجائے ان کیساتھ ہمدردانہ رویہ اپنانا چاہئے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لش پش بھی انہی زمین زادوں کے ٹیکسوں سے جاری ہیں۔ غریب عوام ٹیکس دیتے ہیں تو یہ ریاست چلتی ہے اور اسی سے وردیاں سلتی ہیں۔ اسلئے پولیس کو عوام کے حاکم ہونے کے فرسودہ اور نوآبادیاتی تصور کو بدل کر عوام دوست رویہ اپنا نا ہوگا۔ خود حکومت کو پولیس کے ادارے کی تشکیل ایک نئے مائنڈ سیٹ کیساتھ کرنی چاہئے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں پولیس کو عوام سے ڈیل کرنے کی قطعی تربیت نہیں ہوتی بلکہ وردی پوش سول کپڑوں والوں کو کیڑے مکوڑوں جیسی اہمیت بھی نہیں دیتے۔ رواں لاک ڈاؤن کے دوران بھی پولیس اور انتظامی اہلکاروں کے ایسے ہی روئیے نظر آرہے ہیں۔ یہ کوئی صحت مند روایت اور انداز نہیں۔ اس روئیے میں فوری تبدیلی لا کر عوام کی مشکلات کو ہمدردانہ انداز میں سمجھ کر ایسی پالیسی اپنانی چاہئے جس سے عوام کی عزت نفس کو مرکزیت حاصل ہو۔ اس دوران وزیراعظم عمران خان نے چند روز کے وقفے سے قوم سے اپنے دوسرے خطاب میں کہا ہے کہ کورونا کیخلاف جنگ اپنے ایمانی جذبے اور نوجوانوں کی طاقت سے جیتیں گے۔ انہوں نے اس جنگ میں امریکہ جیسے باوسیلہ ملکوں کی ناکامی کا بھی دبے لفظوں میں ذکر کیا ہے۔ ان ملکوں کے مقابلے میں ہمارے پاس وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہمارے ہاں عام بیماریوں کے مقابلے کیلئے خاطرخواہ سہولیات نہیں، وبائی امراض کی تو کوئی بات ہی نہیں۔ اس کے باوجود ہماری قوم کے پوٹینشل اور بحرانوں میں متحرک ہونے کی صلاحیت کا ایک زمانہ معترف ہے۔ اسی کو وزیراعظم عمران خان نے ایمانی طاقت کہا ہے۔ ایمانی طاقت اور عقیدے کی قوت ہمارے پاس ایک اضافی صلاحیت ہی نہیں بلکہ ہماری اصل طاقت ہے۔ ایک مسلمان کے پاس وسائل کی بجائے ایمانی دولت ہی اس کا سرمایہ ہوتا ہے۔ ماضی میں زلزلوں، سیلابوں، جنگوں میں ہم نے اپنے اس پوٹینشل کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ خیر اور بھلائی کے کاموں میں ہم من حیث القوم پوری دنیا سے آگے ہوتے ہیں۔ عمران خان نے شوکت خاتم ہسپتال کی تعمیر میں قوم کے اس جذبے اور صلاحیت کو بہت قریب سے دیکھا ہے اسی لئے وہ اپنی قوم کے حوالے سے ہمیشہ رجائیت پسندی کے قائل اور پراعتماد رہے ہیں۔ کورونا بحران میں بھی وہ قوم کو آواز دیتے اور اس کے پوٹینشل سے فائدہ اُٹھانے کی تگ ودو میں نظر آرہے ہیں ۔کورونا ریلیف ٹائیگرز فورس کا تصور ان کے اسی انداز فکر کی نشاندہی کر رہا ہے۔ اگر عمران خان قوم کے اس جذبے کو جگانے میں کامیاب ہوئے اور اس جنگ میں عوام اور نوجوانوں کو شریک کرنے میں کامیاب ہوئے تو پھر کسی بڑے نقصان کے بغیر جیت ہمارا مقدر ہوگی اور بہت جلد ہم لاک ڈاؤن اور کرفیو جیسے حالات سے اسی طرح نجات حاصل کر لیں گے جس طرح عوامی جمہوریہ چین نے مختصر مدت میں کامیاب حکمت عملی اور قومی جذبے کیساتھ مہلک وبا کو شکست سے دوچار کیا اور اب وہ اپنے وسائل پاکستان سمیت دوسرے دوست ملکوں کو اس وبا سے محفوظ رکھنے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ عوام کا حکومت کیساتھ پہلا تعاون حکومتی اقدامات کی حمایت اور ہدایات پر عمل درآمد کرنا ہے۔ عوام کا تعاون حکومت کو اپنی توجہ کرفیو اور لاک ڈاؤن جیسی انتظامی باتوں میں ضائع کرنے کی بجائے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے اور محفوظ رکھنے پر مرکوز کرنے میں مدد دیگا۔ حکومت زیادہ اعتماد کیساتھ کورونا کے نقصان کے ازالے کیلئے کام کر سکتی ہے۔