پاک چین دوستی زندہ باد

ہم خوش تو نہیں اس بات پر، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ امریکہ کے غبارے سے ہوا نکلنے لگی اور پاک چین دوستی فتح وکامرانی کے جھنڈے لہراتی عروج آدم خاکی کے نغمے الاپنے لگی۔
عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہ کامل نہ بن جائے
عرض کیا نا کہ ہم خوش نہیں اس بات سے مگر یہ بات ہم تک اخبارات کی سرخیوں نے پہنچائی کہ نصیب دشمناں امریکہ میں دنیا بھر کے دیگر ممالک کی نسبت سب سے زیادہ کرونا وائرس کے شکار مریض سامنے آئے ہیں اور اموات بھی وہاں سب ممالک سے زیادہ ہو رہی ہیں۔ یقینا یہ بے حد چونکا دینے والی خبر ہے اور اب خبر آئی ہے کہ امریکن بحری بیڑے بھی کرونا وائرس کی زد میں آچکے ہیں، اگر اس خبر پر اس خبر کا تڑکہ لگا دیا جائے کہ عوامی جمہوریہ چین نے کرونا کے تباہ کن وائرس پر قابو پا لیا ہے تو ہم آپ کو بین السطور یہ بتاتے محسوس ہوں گے کہ پاکستان کے بہترین ہمسایہ اور آزمودہ دوست ملک چائنا نے اس امتحان میں امریکہ کو پچھاڑ کر اپنی فتح وکامرانی کے جھنڈے گاڑھ لئے۔ کہتے ہیں کہ آج سے کچھ ہی مہینے پہلے کرونا جیسے تباہ کن وائرس نے چائنا میں سر اُٹھایا تھا جس کی وجہ بتاتے ہوئے باتیں بنانے والوں نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ چائنا میں کرونا وائرس نے اس لئے تباہ کاریاں شروع کیں کہ وہاں کے لوگ کتے بلیاں چوہے سانپ اور چمگادڑ تک کھا جاتے ہیں اور ان کا سوپ بنا کر مزے لے لیکر پیتے رہتے ہیں۔ لوگوں کی اُڑائی ہوئی یہ ہوائیا ںسن کر ہمیں بھی گھن آنے لگی تھی چائنا کے گراں خواب چینیوں کی زندگی گزارنے کے اس انداز سے۔ ہمیں یہ بات سن کر وہ زمانہ یاد آنے لگا تھا جب ہم پشاور صدر کی مال روڈ پر چائنیز ریسٹورنٹ میں چائنیز سوپ پینے جایا کرتے تھے۔ کیا رومانٹک ماحول ہوا کرتا تھا، صاف ستھرے ماحول میں مدھم روشنی نے ماحول کو نہایت ہی سکون آور بنایا ہوتا۔ یوں لگتا جیسے چین اپنی ثقافت کے تمام تر رنگ سجائے چائنیز ریسٹورنٹ کو پاک چین دوستی کی مثال بنے بیٹھے ہوں۔ ان دنوں پاکستان کے شہر پشاور اور چائنا کے شہر’ ارومچی’ کو جڑواں شہر قرار دیا گیا تھا۔ ارومچی کی مقامی حکومت کے اعلیٰ منصب دار چینیوں کے ایک عظیم الشان وفد نے پشاور کے دورے پر آنا تھا۔ ان کے استقبال کی بھرپور تیاریاں جاری تھیں، راقم السطور نے رئیس بلدیہ پشاور جنہیں سٹی فادر کے علاوہ میئر بلدیہ پشاور بھی کہتے تھے جناب آغہ سید علی شاہ کیلئے ایک استقبالیہ تقریر لکھنی تھی۔ راقم السطور نے تقریر تو لکھ دی لیکن وہ چاہتا تھا کہ تقریر کا اختتام چینی زبان کے ان خیرسگالی جملوں پر کیا جائے جن سے بے مثال اور لاجواب پاک چین دوستی کی شان ہویدا ہوتی ہو۔ ایسے جملوں کی تلاش میں مجھے زبان یار من ترکی ولے من ترکی نہ دانم کا احساس لیکر چائنیز ریسٹورنٹ جانا پڑا اور یوں میں ریسٹورنٹ کے مینیجنگ ڈائریکٹر سے مل کر ایسے جملوں کا تحفہ تقریر کے اختتامی کلمات میں جڑنے لگا۔ ان دنوں ہمارے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ چین والے ایسی ایسی چیزیں مزے لے لیکر نوش جان کر جاتے ہیں جن کا نام سن کر بھی ہم پاکستانیوں کو گھن آنے لگتی ہے۔ اس بات کا اگر کچھ پتہ چلا تو ان ہی دنوں جب چائنا میں کرونا وائرس نے سر اُٹھا کر اپنا آپ منوانا شروع کر دیا تھا۔ خوب چرچا کیا گیا چمگادڑ کے سوپ بنا کر پینے اور اس قبیل کی دوسری اشیاء کو چائنیز کا من بھاتے کھاجے کے طور پر استعمال ہونے کا۔ مقصد اس ملک کو بدنام کرنا اور اس کی معیشت کو تباہ کرنا تھا اور یہ کام وہی ملک یا ایسے ممالک کرسکتے تھے جن کو پاک چین دوستی ایک نظر نہ بھاتی تھی، سو انہوں نے اس آڑھے وقت میں چائنا کو تباہ حال کرنے کی غرض سے اس کیساتھ ہاتھ کرنا شروع کر دیا لیکن باکمال چینیوں نے دنیا والوں کی کڑوی کسیلی باتوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور انہوں نے کرونا نامی بلا کو چاروں شانے چت کرکے ثابت کر دیا کہ چین ایک عظیم ملک کا نام ہے۔ یہ وہی ملک ہے جس کی علمیت کا اقرار کرتے ہوئے پیغمبر اسلام حصول علم کیلئے چین تک جانے کی ہدایت فرما گئے ہیں۔ چین والوں نے کہا کہ کرونا وائرس اسلحہ کے سوداگر اور جنگ وجدل کے رسیا امریکہ نے بھیجا تھا، جن پر وہ قابو پاچکے ہیں۔ اب امریکہ کے بعد اٹلی کی حالت بھی عبرتناک ہے، فرانس اور برطانیہ بھی اس کی زد میں ہیں لیکن پاکستان بھی اس خطرہ سے محفوظ نہیں، ہماری گلیوں اور بازاروں کی رونقوں کو کرونا وائرس کا خوف ہڑپ کرچکا ہے، حکومت اور عوام کو جس بات کا تردد ہے اس میں اولین فکر مزدور طبقہ کی روزی روٹی کا ہے، جس کیلئے سردست کوئی آؤٹ پٹ نظر آیا ہو یا نہ آیا ہو اوپر تلے اجلاس اور اعلانات ضرور ہو رہے ہیں، ان اعلانات اور اطلاعات میں یہ اطلاع نہایت حوصلہ افزاء ہے کہ چائنیز ڈاکٹرز دوائیوں اور کرونا وباء سے نپٹنے کیلئے چین سے ضروری امداد لیکر پاکستان پہنچ گئے ہیں لیکن دوسری طرف یہ جان کر افسوس بھی ہورہا ہے کہ ایران کی جانب سے کرونا وائرس دانستہ طور پر پاکستان کی جانب دھکیلا جارہا ہے
لوگ ڈرتے ہیں دشمنی سے تری
ہم تری دوستی سے ڈرتے ہیں