پراکسی قوتوں کا جواز

پاکستان کو دہائیوں سے اپنے ریاستی سطح پر شدت پسند گروہوں سے تعلقات رکھنے کے الزام میں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ان گروہوں میں افغانستان سے طالبان اور حقانی نیٹ ورک، کشمیر سے جیش محمد اور بھارت سے لشکر طیبہ کے ناموں کی عالمی سطح پر مستقل بازگشت سنائی دیتی رہی۔ اس سب کے بعد اگر ہمارے پاس ایٹمی طاقت اور محکمہ خارجہ کے ایسے قابل اور دانشمند افسران کا ساتھ نہ ہوتا جو اپنے ہم منصبوں کو اُلجھائے رکھنے میں کبھی نہیں چوکتے تو ہم کب کے ریاستی سطح پر دہشت گردی کے سپانسر ملک قرار دے دئیے گئے ہوتے۔ ہمارے ہاں ان مبینہ پراکسی قوتوں کیساتھ تعلقات پر تنقید کرنے والوں میں دوطرح کے لوگ ہیں، پہلے تو پاکستان کے وہ لبرل ہیں جو ان شدت پسند گروہوں کے پاکستان کے اپنے اوپر رونما ہونے والے نقصانات کے حوالے سے لمبے عرصہ تک فکرمند رہے۔ ان لبرل ناقدین کی بات اس وقت بالکل ٹھیک معلوم ہوتی ہے جب ہم اپنی افواج کی ان شدت پسند عناصر کے خاتمے کیلئے دی جانے والی لاتعداد قربانیوں پر نظر ڈالتے ہیں۔ ہمارے سپوتوں کا اتنی بڑی تعداد میں اس جنگ کی بھینٹ چڑھنا اس لبرل طبقے کی اس فکر کو درست ثابت کرتا ہے کہ ایسی جنگ ہمارے ریاستی اثاثوں کو بھاری نقصان سے دوچار کر دیتی ہے۔ دوسری طرح کے ناقدین البتہ کسی اور چیز کے بارے میں فکرمند دکھائی دیتے ہیں۔ افغانستان، امریکہ، بھارت اور ایران سے تعلق رکھنے والے بیشتر لوگ یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ ہمارے ہاں پلنے والی یہ پراکسی قوتیں خطے میں عدم استحکام کیساتھ، پاک بھارت تعلقات کو مزید کشیدہ اور افغانستان کو غیرمستحکم رکھنے کا سبب بنتی چلی آرہی ہیں۔ پاکستان نے عام طور پر ان الزامات اور تنقید کو ہمیشہ رد ہی کرنے کی پالیسی اپنائی ہے البتہ جنرل مشرف، عمران خان اور آصف زرداری جیسے رہنماؤں کے شدت پسندوں کی ریاستی سطح پر پشت پناہی کرنے کے حوالے سے وقتاً فوقتاً دئیے جانے والے اقراری بیانات نے ہمارے مؤقف کو کمزور کر دیا۔ یہ سب اب اس مقام تک پہنچ گیا ہے جہاں ریاست پاکستان کے پاس ان الزامات کو رد کرنے کیلئے کوئی قابل یقین دلیل بھی باقی نہیں بچی۔
ممکن ہے کہ راولپنڈی میں بیٹھے عسکری دانشوروں کا یہ خیال ہو کہ ریاستی سطح پر ایسی عناصر کی سرپرستی کو قبول کرنے سے وہ یہ تاثر دینے میں کامیاب ہو سکیں کہ سرزمین پاکستان اپنی طاقت کا اظہار کرنا خوب جانتی ہے مگر یہ سوچ بلاشبہ کئی طرح کے نقصانات کا سبب بھی بنتی ہے۔اس سب کے باوجود یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے کہ آخر پاکستان ایسی پراکسی قوتوں کی سرپرستی سے کیوں باز آجائے؟ آخر دنیا میں گرین لینڈ اور ایسی ہی کچھ چھوٹی ریاستوں کے علاوہ تمام ممالک کا ایسے گروہوں کو پالنا ایک معمول کی بات ہے جو ان کیلئے بیرونی محاذ پر برسرپیکار رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ ایران کی مثال لیجئے، یہ ملک دہائیوں سے ایسی عالمی پابندیوں کا شکار رہا ہے جو اسے بطور ریاست کمزور کر دینے کیلئے عائد کی گئیں تھیں مگر اس کے باوجود ایران اس وقت خطے کی سیاست میں تاریخ کے مضبوط ترین مقام پر کھڑا ہے۔ ایران کے حزب اللہ، عراق کے شیعہ شدت پسند اور یمن کے حوثی باغییوں نے نہ صرف ایران کو حملے سے محفوظ رکھا بلکہ ان کی بدولت یہ اپنے تمام دشمنوں کو بھی ایک قدم پیچھے دھکیلنے میں کامیاب رہا۔ اگرچہ تہران میں بیٹھے مذہبی رہنما اس طریق کو اپنانے کیلئے پوری دنیا میں تنقید کا نشانہ بنے مگر ان میں سے کوئی بھی اس کی افادیت سے انکار نہیں کر سکتا۔ پراکسی قوتوں کو اپنے حق میں استعمال کر کے ایران کچھ نیا نہیں کر رہا۔ سردجنگ کے دوران امریکہ اور روس بھی ایک دوجے کیخلاف براہ راست آمنے سامنے آنے کی بجائے ایسے ہی عناصر کو استعمال کرکے باغی تحریکوں کو جلا بخشتی رہے ہیں۔ ایران تو صرف ان کی نقل کر رہا ہے اور آج بھی شام میں جاری کشیدگی یہی ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ اور روس اب تک ان عناصر کو استعمال کرنا ترک نہیں کر سکے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ اس کے علاوہ ان پراکسی قوتوںکی جانب سے ہمارے حق میں کسی خاطرخواہ کامیابی کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ کشمیر میں 1989میں شروع ہونے والی مسلح جدوجہد تب سے اب تک وقتاً فوقتاً جاری رہی مگر اس کے باوجود اس وقت کشمیر پہلے سے زیادہ مضبوطی کیساتھ بھارت کے ہی قبضے میں ہے۔ اس کے علاوہ بھی بھارت کیخلاف کی جانے والی کاروائیوں سے اب تک ہمیں بھلا کونسا فائدہ پہنچا ہے؟ ہم پاکستانیوں کو دوسروں پر منافقت کے فتوے لگانے کا بے حد شوق ہے ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ بھلا دنیا بھر میں جمہوریت کا چمپئن بنا پھرتا امریکہ کشمیریوں کیلئے کچھ کیوں نہیں کرتا؟ یایہ پوچھتے سیخ پا ہوتے ہیں کہ بھلا افغان عوام پاکستان کی افغان طالبان کی حمایت پر کیوں معترض نظر آتے ہیں جبکہ ان کی حکومت خود پاکستانی طالبان کی کابل میں میزبانی کر چکی ہے؟ مزید یہ کہ بھارت جو ہمیشہ ہی ممبئی حملوں کے بارے شور مچاتا رہتا ہے، یہ کیسے بھول گیا کہ اس نے کس طور ہمارے ہاں بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی حمایت اور مالی امداد کر کے انہیں مستحکم کیا یا کس طرح وہ دہائیوں تک کراچی میں موجود اپنی پراکسی ایم کیو ایم کیساتھ رابطہ استوار کیے متحرک رہا۔ گلے شکوے شکایتوں کی فہرست تو بہت لمبی ہے البتہ پاکستان خود بھی اس سب میں دوہرے معیار کا حامل رہا ہے۔ہم نے تمام عمر دوسرے ممالک کے پراکسی قوتوں کیساتھ تعلقات کی شکایت کرتے گزاری ہے البتہ ہم یہ قبول کرنے کو تیار نہیں کہ ہم نے بھی ان ممالک سے کچھ مختلف نہیں کیا مگر یہ تمام مباحثے اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کا سبب بنتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ہمیں اب سنجیدگی سے یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ پراکسی قوتیںاپنی ناکامیوں اور کچھ خاطرخواہ حاصل نہ کرپانے کے باعث پاکستان کومزید کمزور کرنے کی ذمہ دار نہیں؟
(بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)