لاک ڈاؤن غیر مؤثر کیوں؟

a خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس سے شرح اموات دیگر صوبوںسے بڑھتی جارہی ہے۔ دم تحریر 37نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں، پشاور میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آگئی ہے۔ پشاور میں سترہ نئے مریضوں کا رپورٹ ہونا خطرناک شرح ہے، اس وباء سے نمٹنے میں حکومت کی مشکلات، آلات طب اور علاج معالجہ سے متعلق مسائل کی تو گنجائش موجود ہے اس حوالے سے بساط بھر کوششیں ہورہی ہیں جس میں تیزی اور بہتری لانے پر مزید سرعت سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومتی مساعی سے قطع نظر قابل صدافسوس امر شہریوں کا عدم تعاون اور عوام کا حکومتی اقدامات کا پاس نہ رکھنا ہے۔ شہریوں کو اس امر تک کا احساس نہیں کہ ایک دن کیلئے بھی کارروبار روزگار کی معطلی کے کیا نتائج ہوتے ہیں، حکومت کے پاس عوام کو اس وباء سے بچانے کیلئے لوگوں کو ان کے گھروں تک محدود کرنے اور روابط کو کم سے کم بلکہ یکسر ختم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ ایسا صرف ہمارے ہاں ہی نہیں ہو رہا بلکہ عالمی سطح پر یہی نسخہ مجرب ومستعمل ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ پشاور کے شہریوں نے لاک ڈاؤن کو مذاق بنا دیا ہے، چوبیس لاکھ کی آبادی کو گھروں تک محدود کرنے کیلئے حکومت کے پاس قوی قوت نافذہ نہیں جبکہ کرفیو کا نفاذ حکومت اور عوام دونوں کیلئے کوئی اچھی صورت نہیں۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کا یہ عالم ہے کہ اشرف روڈ، باچاخان چوک، کریم پورہ، تحصیل گورگھٹڑی، چارسدہ روڈ، جی ٹی روڈ، گنج اور فقیر آباد میں دکانیں کھول دی گئیں جبکہ جی ٹی روڈ سمیت پشاور کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہوں پر ٹریفک بحال رہی، نوجوان آزادانہ طور پر کھیل کے میدانوں کیلئے مقامات اور گلیوں وسڑکوں پر کھیل کود اور مجمع لگا رکھے ہوئے ہیں۔ کاروبار کی بندش سے دکانداروں کو نقصان اپنی ایک جگہ مسئلہ ہے، ٹریفک کی بندش سے بھی مسائل ومشکلات فطری امور ہیں، نوجوانوں کا گھروں میں دم گھٹتا بھی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے اور وباء کے پھیلاؤ در پھیلاؤ کی صورت کی بھاری قیمت کی ادائیگی کی گنجائش ہے۔ کیا کسی انسانی معاشرے اور حکومت کیلئے انسانی جان اور صحت سب سے قیمتی متاع نہیں، اگر یہ نکتہ سمجھ میں آجائے تو صرف گھروں سے نہ نکلنے کی اپیل ہی کافی تھی مگر ہمارے ہاں سختی سے کام لینا ہی مؤثر قدم رہتا ہے۔ حکومت کی بساط بھر کوشش کے باوجود اگر شہری سدھریں گے نہیں تو کرفیو بھی لگانا پڑے گا۔ قبل اس کے کہ اقدامات کی پابندی ہی شہریوں کا مفاد ہے جس کا احترام اور پابندی کی جانی چاہئے، جاری صورتحال میں پولیس گرفتاری اور حوالات کی سیر کرانے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ایسے میں خلاف ورزی کرنے والوں کو موقع پر ہی مختلف قسم کی سزائیں دینا ہی واحد حل ہے، البتہ پولیس تشدد اور مرغا بنانے سے گریز کرے۔ ایسے افراد کو تادیر کھڑا رکھنے کی سزا دی جاسکتی ہے، ان کو روک کر گھروں کو نہ جانے دینا اور بندش کا احساس دلانا اس امر کیلئے کافی ہوگا کہ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کے کیا نتائج ہوسکتے ہیں۔ دکانداروںکو بندش کی خلاف ورزی پر جرمانہ کی سزا کا تو حق بنتا ہے مگر جاری حالات میں مالی بوجھ ڈالنے کی وکالت نہیں کی جا سکتی، ان کی دکانیں بند کرانا اور ان کو بھی کچھ دیر کھڑا رکھنے کی علامتی سزا کافی ہوگی۔ انتظامیہ کو اس امر کی سختی سے ہدایت کی جائے کہ وہ لاک ڈاؤن کو مؤثر بنانے کیلئے موقع کی مناسبت سے مؤثر اقدامات اُٹھائیں، ایسے اقدامات کی بہرحال ضرورت ہے کہ ہر قیمت پر لاک ڈاؤن کو کامیاب بنایا جائے اور اس کی خلاف ورزی نہ ہونے دی جائے۔ عوام کو اس امر پر قائل کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کے تعاون سے ہی ان کے جان وصحت کا تحفظ ممکن ہے اس کے علاوہ حکومت کے پاس کوئی اور مؤثر ذریعہ نہیں۔