مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کے حقوق کی پامالی

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے لاک ڈاؤن تو اب کی بات ہے مگر مقبوضہ کشمیر کے عوام گزشتہ چھ سات ماہ سے بلکہ ایک طرح سے دیکھا جائے تو برصغیر پاک وہند کی تقسیم کے بعد سے محاصرے کا برابر شکار چلے آرہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام پر جبر وتشدد کا بازار عرصہ دراز سے گرم ہے۔ بھارتی وزیراعظم مودی مسلسل ہندوتوا کے اپنے نظرئیے کو نفاذ کرنے کی سعی میں ہیں، اب موقع سے فائدہ اُٹھا کر مودی نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں غیرکشمیریوں کو شہریت دینے کا آغاز ان کو ڈومیسائل کے اجراء سے شروع کر دیا ہے جس کے تحت جموںوکشمیرمیں کم سے کم 15برس سے رہائش پذیر یا7برس تک تعلیم حاصل کرنے والا کوئی بھی شخص مقبوضہ علاقے کا ڈومیسائل حاصل کرنے کا اہل سمجھا جائیگا اور ملازمت حاصل کر سکے گا۔مقبوضہ علاقے میں10برس تک خدمات سرانجام دینے والے بھارتی حکومت کے اہلکاروںکے بچے بھی جموںوکشمیر کا ڈومیسائل حاصل کرسکیں گے۔ پانچ اگست کو مودی نے مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے جس غیراخلاقی اور غیرقانونی عمل کا آغاز کیا تھا یہ اس کا بدترین مرحلہ ہے، افسوسناک صورتحال تو یہ ہے کہ پوری دنیا میں اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا کو کورونا کے باعث اپنی پڑی ہے مودی موقع غنیمت جان کر مقبوضہ کشمیر کے عوام کے بنیادی شہری حقوق بھی ہڑپ اور سلب کرنے کی کوششوں میں ہے۔ ایک ایسے وقت جب پوری دنیا میں حکومتیں اپنے شہریوں کو ممکنہ سہولتوں اور تحفظ کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں، مقبوضہ وادی کے عوام کو ادویات وخوراک کی ناپیدگی کا سامنا ہے، انٹرنیٹ سمیت تمام مواصلاتی رابطے منقطع ہیں، ایسے میں انسانی ضروریات کی اشیاء کی ترسیل وحصول وفراہمی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مودی کے اقدامات اتنے سخت ہیں کہ بھارتی اراکین پارلیمان تک کو مقبوضہ وادی میں داخلے کی اجازت نہیں۔ اس قسم کی صورتحال میں دنیا کی بے حسی اور پاکستان کی جانب سے بھی کشمیری بھائیوں سے سردمہری کا رویہ نظرثانی کا متقاضی ہے جس پر توجہ کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو اس حد تک تغافل نہیں کرنی چاہئے کہ کشمیری بھائی مایوس ہو جائیں اور بھارت مقبوضہ کشمیر پر اپنا تسلط پوری طرح مستحکم بناسکے۔
آن لائن تدریس وامتحانات کا معاملہ
جامعات کی جانب سے تعلیمی بندش کے تدارک کیلئے آن لائن کلاسز شروع کرنے کی جو مساعی جاری ہیں اس میں قباحت یہ سامنے آئی ہے کہ دوردراز علاقوں کے طالب علم انٹرنیٹ اور بجلی نہ ہونے کے باعث تدریسی عمل سے استفادے سے یکسر محروم ہو رہے ہیں۔ جامعات آن لائن کلاسز کے نقصان دور نہیں کر پارہی ہیں لیکن فیسوں کی ادائیگی ومعطلی پر تیار نہیں۔ نجی اداروں کی جانب سے تو باقاعدہ طور پر فیسوں کی ادائیگی پر زور دیا جارہا ہے۔ ایک مشکل یہ بھی ہے کہ اساتذہ اور طلبہ کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی زیادہ سوجھ بوجھ بھی نہیں، جامعات کی انتظامیہ اس امر کیلئے کوشاں نظر آتی ہے کہ مڈٹرم امتحانات اسائنمنٹس کی بنیاد پر لئے جائیں جس سے اس امر کا واضح اظہار ہوتا ہے کہ ان کو معاملے کی سنگینی اور اس نظام کے ناقص ہونے کا ادراک ہی نہیں۔ اس طرح کے ادھورے انتظامات اور ناکافی تدریسی عمل وقتی طور پر طلبہ کیلئے مفید ضرور ہے لیکن جب تک سارے طلبہ کو اس عمل میں باقاعدہ شریک کرنے اور پوری طرح تدریس کے تقاضے پورے نہ کئے جائیں اس وقت تک اس بنیاد پر امتحانات کا انعقاد نہیں ہونا چاہئے تاکہ محروم رہ جانے والے طلبہ پیچھے نہ رہ جائیں اور ان کی حق تلفی نہ ہو۔
سڑکوں کنارے بیٹھے محروم افراد کی دستگیری کی جائے
کورونا وائرس کی صورتحال اور بارشوں کے باعث روز کما کر روزی روٹی کا بندوبست کرنے والا طبقہ جس بری طرح متاثر ہوا ہے اس کا اندازہ سڑکوں کے کنارے مختلف ٹولیو اور جگہ جگہ سڑکوں پر امداد کے منتظرین کی تعداد اور ان کی ضرورت مند آنکھوں اور ملتجیانہ نظروں سے ہر آنے جانے والے کو دیکھنے سے لگایا جا سکتا ہے۔ حکومت اور سرکاری اداروں سے ہر ضرورت مند کی دستگیری کی توقع نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی حکومت کے پاس اتنے وسائل ہوتے ہیں کہ وہ ہر ضرورت مند تک پہنچ کر اس کی دست گیری کر سکے۔ آزمائش کی یہ گھڑی ایثار وقربانی کی متقاضی ہے۔ ہر کسی کو مقدور بھر ان افراد کی مدد کرنی چاہئے، مخیر اور صاحب ثروت حضرات کو امداد، صدقات اور زکوٰة ہر مد میں ان افراد کی مدد کرنی چاہئے۔ صدقات سے بلاؤں کے ٹل جانے کا جو درس دین نے ہمیں دیا ہے ان حالات میں اس درس پر پوری طرح عمل کرنا ہی بہتر اجر وثواب اور تحفظ کا باعث عمل ہوگا۔
عدم احتیاط اور اپنی مدد آپ کے دونمونے
ایک جانب جہاں حفاظتی تدابیر اختیار کئے بغیر سبزی وفروٹ اور اشیائے صرف کی خرید وفروخت اور شہریوں کا عام طور پر احتیاط کے تقاضوں سے عاری اجتماعی رویہ تشویش کا باعث امر ہے وہاں تیمرگرہ رباط درہ ڈنڈا میں شہریوںکا اپنی مدد آپ کے تحت بیریئر لگا کر اور رضاکارانہ طور پر پہرہ دے کر سیاحتی مقام اور علاقے میں آمد ورفت کو محدود سے محدود تر کرنے کی سعی قابل تقلید مثال ہے۔ صوبہ بھر میں اسی نظیر پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک شہریوں کی جانب سے ہر جگہ اس طرح کے طرزعمل کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا اور اعانت وتعاون کا رویہ اختیار نہیں ہوگا آمد ورفت کو رضا کارانہ طور پر محدود اور حفاظتی اقدامات کا شہری خود خیال نہیں رکھنے لگیں گے حکومتی اقدامات کی کامیابی خطرے سے دوچار رہے گی۔