چند اہم اور قابل توجہ معروضات

اب ہمیں یہ حق تو حاصل نہیں ہے کہ پشاور کے 59ہزار گھروں میں کلورونیشن سپرے کے حوالے سے چھپنے والی خبر کو غلط قرار دیدیں بلکہ اس میں کسی شک وشبہے کی گنجائش بھی ہمیں نظر نہیں آتی، تاہم اس بات پر حیرت کا اظہار کرنے کا تو کم ازکم ہمیں حق ضرور ملنا چاہئے کہ کیا اس نیکی کے کام میں بھی متعلقہ ادارہ ”سفارش” پر عمل پیرا ہے؟ کیونکہ گھر کو تو رکھئے ایک طرف اس سلسلے میں گل بہار کالونی میں واقع ایک انتہائی اہم علاقہ رشید ٹائون کو کیوں نظر اندازکیا گیا ہے، ہماری معلومات کے مطابق رشید ٹائون کی ان گلیوں میں اب تک کلورونیشن سپرے نہیں کیا گیا حالانکہ سپرے کے حوالے سے ترجیحات کا کوئی جواز نہیں بنتا اور دوسری طرف کورونا وائرس کے حوالے سے عوام میں دن بہ دن خوف میں اضافہ ہونے کیساتھ حکومتی اقدامات بھی اہمیت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ حکومت نے جہاں لاک ڈائون کو سنجیدگی سے لے رکھا ہے وہاں جن اداروں کے ذمے ضروری اقدامات پرزور دیا جارہا ہے ان میں اگر کسی بھی طور کوئی غفلت کا مرتکب ہوتا ہے تو عوام میںتشویش کا بڑھنا لازمی ہو جاتا ہے اس لئے یہی وجہ ہے کہ ہم اور ہم جیسے درجنوں افراد جو رشید ٹائون میں رہائش پذیر ہیں کلورونیشن سپرے اب تک نہ کئے جانے پر فکرمند ہیں، اس صورتحال کو اگر اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے کہ شاید ہمارا علاقہ پشاورشہر کے اہم علاقے گل بہار کالونی کاحصہ ہی نہیں ہے تو شاید درست ہو،اور اگر ایسی بات نہیں تو اُمید ہے کہ متعلقہ ادارہ اس ضمن میں ہماری تشویش کو اہمیت دیتے ہوئے ضروری اقدامات میں مزید تاخیر نہیں کرے گا۔
کوئی وعدہ، نہ دلاسا، نہ تسلی، نہ دعا
اس نے جاتے ہوئے اس بار قیامت کر دی
جنگوں کے کچھ اُصول ہوتے ہیں، ہمیں کچھ کچھ یاد ہے کہ1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران کاکول کی اکیڈمی میں جن کیڈٹس نے لانگ ٹرم کے دوران اتنی تربیت حاصل کر لی تھی جن کو ملکی دفاع کی خاطر بقیہ تربیت ضروری نہ سمجھتے ہوئے ان کے کورسز کوشارٹ ٹرم میںتبدیل کر کے دفاع وطن کیلئے مختلف محاذوں پر بھیج دیا گیا تھا جبکہ مزید کیڈٹس بھرتی کرنے پر بھی بھرپور توجہ دی گئی تاکہ افواج پاکستان میں نیا خون شامل کرنے کا سلسلہ جاری وساری رہے اور کوئی خلاء پیدا نہ ہونے پائے، اس حوالے سے دوسری جنگ عظیم کے دوران متحارب ملکوںنے تو اپنی افواج میں بالکل نوخیز لڑکوں کو بھی جن کی عمریں بہ مشکل بارہ تیرہ برس کی تھیں میدان جنگ میں جھونک دیا تھا، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب قوموںپر جنگیں مسلط کر دی جائیں تو بعض صورتوں میں لگے بندھے اصول بھی تج دیئے جاتے ہیں اور دشمن سے مقابلے کیلئے قربانیوں کی نئی داستانیں رقم کرنا شروع کر دی جاتی ہیں۔ اس وقت صرف ہمیں ہی نہیں پوری عالم انسانیت کو ایک ہی مشترکہ دشمن کا سامنا ہے اور ایک ایسے دشمن کا مقابلہ پوری دنیا کر رہی ہے جو نظر بھی نہیں آتا، اس لئے ہر قوم اپنے اپنے طور پر اس اندیکھے دشمن کیساتھ نبردآزما ہے اور اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق اس کا مقابلہ کررہا ہے۔ اس میں ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جارہا ہے جبکہ افرادی قوت کو بھی متعلقہ شعبوں میں فعال بنا کر یہ جنگ جیتنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ ماضی میں جھانکنے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ ہمارے ہاںاس جنگ کو جیتنے کیلئے (فوجی طرز پر) جن اقدامات کی ضرورت ہے ان پر بھرپور توجہ دینے سے اجتناب کی کیفیت دکھائی دے رہی ہے، یعنی جس طرح جنگ میں فوج کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے اسی طرح اس غیرمرئی دشمن کیخلاف حالات کو مضبوط بنانے کیلئے جن ٹولز کی ضرورت ہے ان سے اغماض بر تا جارہا ہے۔ یہ خیال آج کے اخبار مشرق میں پہلے صفحے پر اپیل کے نام سے چھپنے والے ایک اشتہار کو دیکھ کر آیا، جس میں پیرا میڈیکل انسٹی ٹیوٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیراعظم،گورنر خیبرپختونخوا، وزیراعلیٰ اور وزیر صحت کے علاوہ اہم سرکاری حکام سے درخواست کی گئی ہے کہ دیگر تعلیمی اداروں کیساتھ ساتھ صحت کے شعبے میں ٹیکنیشنز اور ٹیکنالوجسٹ کی تربیت مکمل کر کے متعلقہ شعبے کو فراہم کرنے والے اداروں کو بھی بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے تربیت یافتہ ٹیکنیشنز کی تربیت کا عمل رک جانے سے موجودہ صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، اگرچہ تربیتی اداروں نے بعض دیگر امور کی جانب بھی توجہ دلائی ہے تاہم جس نقطۂ نظر سے ہم نے اس اشتہار کو پرکھنے کی کوشش کی ہے وہ اس شعبے کا استدلال ہے کہ موجودہ ایمرجنسی صورتحال میں صحت کے شعبے میں پیرا میڈیکل کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ ایک طرف حکومت نے اس قدرتی آفت سے لڑنے کیلئے ڈاکٹروں کو بھرتی کرنے پر بھرپور توجہ دیکر اہم اقدام کیا ہے کیونکہ موجودہ صورتحال میں کورونا کے مریضوں کو ضروری طبی امداد فراہم کرنے کیلئے ڈاکٹروں کی اشد ضرورت تھی، تاہم جہاں تک پیرا میڈیکل سٹاف کا معاملہ ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مختلف شعبوں میں ٹیکنیشنز کی بھی اشد ضرورت ہے اور اگر ان تیکنیکی ماہرین کی تربیت بند ہو جائے تو ممکن ہے آج ان کی اتنی ضرورت محسوس نہ ہو تاہم پیرا میڈیکس کے شعبوں میں آنے والے دنوں میں جس قدر افرادی قوت کی ضرورت ہو اتنی تعداد میں بعد میں اس کمی کو آسانی سے پورا نہ کیا جاسکے۔ اس لئے ایسے ادارو ں میں تربیتی عمل جاری رہنا چاہئے تاکہ مستقبل میں ہمیں کسی مشکل کا شکار نہ ہونا پڑے، کہ بقول قیصر وجدی
ابھی تیشہ سلامت ہے، ابھی تو سنگ باقی ہے
ابھی ہارا کہاں ہوں میں، ابھی تو جنگ باقی ہے