کورونا کے بعد کی دنیا!

بیس ویں صدی عیسوی کو ترقی اور ٹیکنالوجی کی صدی قرار دیا جا رہا تھا کہ اس صدی میں دنیا کا پورا نظام ٹیکنالوجی کی بدولت ڈیجیٹل ہو جائے گا، اور اس میں کوئی شبہ بھی نہیں ہے کیونکہ جو کام آج سے چند سال قبل سینکڑوں ہزاروں لوگ کئی دنوں میں مشکل سے کرتے تھے وہی کام اب مشنری سے محض چند گھنٹوں میں لیا جا رہا ہے بلکہ اس سے بھی ایک قدم آگے آج کی دنیا ڈیجیٹل کی دنیا کہلاتی ہے جس میں آپ گھر بیھٹے اپنے امور نمٹانے کیساتھ ساتھ شاپنگ بھی کر سکتے ہیں لیکن دنیا اس سے غافل تھی کہ چشم زدن میں ان کی ساری کی ساری ٹیکنالوجی بری طرح ناکام ہو جائے گی، کسے معلوم تھا کہ بیس ویں صدی میں محض ایک وائرس پوری دنیا کا نظام جامد کر کے رکھ دیگا۔ اس وقت کورونا وائرس نے پوری دنیا کے سیاسی، سماجی، نفسیاتی، انتظامی اور معاشی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس وقت موضوعِ بحث کورونا وائرس ہے کہ اس مرض سے کیسے پوری دنیا سمیت اپنے اپنے ملکوں میں موجود لوگوں کو بچایا جائے۔ ٹیکنالوجی میں پاکستان کا شمار ترقی یافتہ ممالک کے اعتبار سے بہت پیچھے ہے لیکن کورونا وائرس کے حملے نے دنیا کے بڑے بڑے ملکوں کی صلاحیتوں کو بھی بری طرح بے نقاب کیا ہے کہ وہ بڑے حادثات سے نمٹنے کی کیا صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کا سماجی، انتظامی اور معاشی ڈھانچہ کس طرح ان بڑے حادثات سے ان کو بچاسکتا ہے۔ اس وقت دنیا بھر کے سیاسی، سماجی اور معاشی امور کے ماہرین میں یہ بنیادی نکتہ زیربحث ہے کہ مستقبل کی دنیا کیا ہوگی اورکیا اس کورونا وائرس کے بعد کی دنیا میں ہمیں کوئی بڑی تبدیلی روایتی حکمرانی اور فیصلوں کے تناظر میں نظر آئے گی یا ہم اس بحران کے بعد کچھ نیا سبق حاصل کرنے کے بجائے وہی غلطیاں دہرائیں گے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں کی بات چھوڑیں، اس وقت ترقی یافتہ اور دولت مند ممالک بھی ان معاملات میں بری طرح بے نقاب ہوئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ عالمگیریت یا سرمایہ داری پر مبنی دنیا کے سامنے اب ایک بڑا چیلنج سیکورٹی یا جنگوں پر مبنی ریاستوں کے بجائے انسانوں سے جڑی ریاستیں ہونی چاہئیں۔ ایسی ریاستیں جن کو دنیا میں ہم فلاحی ریاستوں کا نام دیتے ہیں، جہاں عملاً انسانوں سے جڑے بنیادی نوعیت یا حقوق کے مسائل اہم ہوتے ہیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے عالمی مالیاتی ادارے بھی اس وقت یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ہمیں کورونا سے متاثر غریب ممالک کیلئے کچھ غیرمعمولی اقدامات کرنے ہوں گے جن میں قرضوں کی واپسی معطل کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے اور رعایتی قرضوں کیلئے بھی جی20 رہنماؤں سے رجوع کیا جائے گا۔ غریب ممالک اس وقت امیر ملکوں کی طرف دیکھ رہے ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ خود امیر ممالک بھی اس وبا کا شکار ہوئے ہیں اور ان کی اپنی معیشت بھی تباہ ہوئی ہے۔ ایسے میں بڑے مالیاتی ادارے کیا کچھ کرسکیں گے یہ خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کورونا نے پاکستان جیسے ملکوں کو بھی شدید مشکل میں ڈال دیا ہے کہ ہم کیسے اپنی معیشت کو بچا سکیں گے اور ان برے حالات میں جب دنیا لاک ڈاؤن میں ہے، کمزور لوگوں کو کیسے اورکتنا بڑا ریلیف دیا جاسکے گا؟ بنیادی طور پر پوری دنیا کے سماجی، سیاسی اورمعاشی نظام میں اس وقت ایک بڑی تبدیلی ناگزیر ہوگئی ہے۔ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ دنیا کے بڑے ممالک اور اداروں کی سیاسی اور معاشی پالیسیوں نے لوگوں کو جنگوں، تنازعات، جھگڑوں کے نتیجے میں غربت، محرومی اور عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا کر دیا ہے، اب یہ نظام ایسے نہیں چل سکے گا، ہمیں امن اور ترقی کے بیانیے کو بنیاد بنانا ہوگا۔ کورونا وائرس جیسی وبا کا پوری دنیا کیلئے بڑا سبق یہ ہے کہ وہ انسانوں پر سرمایہ کاری کرے اور اپنے اپنے معاشروں میں سماجی اور معاشی شعبوں میں عوام سے جڑے معاملات میں ایسے ڈھانچے، انتظامات اور ادارے تشکیل دے جو لوگوں کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرسکیں۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام جس کی بنیاد انسان کم اور منافع زیادہ ہے، اس نے غریب اور کمزور ملکوں کو جکڑ لیا ہے اوران غریب ملکوں کے سماجی سطح پر موجود ڈھانچے قابل رحم ہیں۔ پاکستان جو خود کورونا وبا کا شکار ہوا ہے، اس سے نمٹنے میں ہمارے سماجی اور معاشی ڈھانچے ظاہر کرتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور یہاں تمام حکومتوں سمیت ریاست کی ترجیحات میں عام آدمی سے جڑے مسائل یا لوگوں کو بااختیار کرنا بہت پیچھے نظر آتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کو اپنے موجودہ طرزِعمل پر بہت کچھ نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور بھارت کو حالیہ بحران کے نتیجے میں سیکھنا ہوگا کہ نہ صرف ان دونوں ممالک بلکہ اس خطے کی ترقی، سلامتی، خوشحالی اور عام طبقے کی طاقت کا بڑا انحصار دوطرفہ سیاسی، انتظامی، سفارتی، معاشی اور سماجی تعلقات کی بہتر ی میں ہے۔ اس وقت خطے کی سیاست میں پاکستان اور بھارت پہل کرکے ایک بڑے سماجی چارٹر کی طرف بڑھیں جس کا مقصد عام لوگوں کو طاقت دینا اوراپنے اپنے ملکوں میں سیکورٹی یا جنگوں پر سرمایہ کاری کرنے کے بجائے سماجی اور معاشی ڈھانچوں کو مضبوط کرنا ہونا چاہئے۔ ہمیں لوگوں کو محض نجی شعبوں پر چھوڑ کر ان کی زندگیوں میں بڑی مصیبتیں پیدا نہیں کرنی چاہئیں بلکہ بنیادی ضرورتوں کی فراہمی میں ریاست اور حکومتوں کے کردار، سمیت وسائل کی منصفانہ تقسیم کے فارمولے کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کی بحث کو طاقت دینا ہوگی کیونکہ لوگوں کو سماجی اور معاشی تحفظ دے کر ہی ہم قابلِ قبول معاشرہ بن سکتے ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کو نئی پالیسی بنانی ہوگی کہ ان کی کمزور ملکوں کی پالیسی طاقت ور ملکوں کے مقابلے میں مختلف ہو۔ انہیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کی موجودہ پالیسیوں نے کمزور ملکوں میں محرومی اور غربت کی سیاست کو مضبوط کیا ہے۔ ایک جیسی پالیسی کی بنیاد پر دنیا سے نمٹنا درست حکمت عملی نہیں۔ جہاں تک ہمارا خیال ہے کورونا وائرس میں ترقی پذیر ممالک کیلئے آگے بڑھنے کے بے شمار مواقع پیدا ہوئے ہیں، آئی ایم ایف اور عالمی اداروں کی جانب سے چھوٹے ممالک کیلئے خصوصی ریلیف پیکج اور قرضوں کی معافی یا ادائیگی میں نرمی سے فائدہ اٹھا کر پاکستان جیسے چھوٹے ممالک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔