انیس بیس کا فرق

پی ٹی آئی کیلئے پاکیزہ شخصیت جہانگیر ترین نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے عمران خان سے جیسے تعلقات پہلے تھے اب ویسے نہیں رہے ہیں، یہ بات انہوں نے ایک نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں کہی، تاہم انہوں نے عمر ان خان سے تعلقات میں خرابی کی نشاندہی نہیں کی البتہ عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے بارے میں بتایا کہ چھ ماہ سے بیوروکریسی کے معاملے پر ان سے اختلافات چل رہے ہیں، کسی ادارے یا تنظیم میں اختلاف رائے پایا جانا کوئی اچنبے کی بات نہیں ہوا کرتی، ہر شخص خودمختارانہ رائے کا مالک ہوا کرتا ہے مگر پی ٹی آئی کے رہنماؤں کیلئے یہ مشکل رہی کہ وہ اپنے لیڈر کی ہاں میں ہاں ملانے کے سوا پارٹی کیلئے اور کچھ کرنے سے عاجز ہی رہے ہیں جبکہ ان کے لیڈر نے سیاسی تقاضوں کی اونچ نیچ کو نہیں سمجھا اور ہر سیاستدان سے پنگا لینے کو سیاست کا ہنر جانا چنانچہ پی ٹی آئی اتحادیوں کے ذریعے حکومت قائم کرنے کے باوجود سیاست میں تنہا کھڑی نظر آتی ہے، یہی جہانگیر ترین پارٹی کا ناسفتہ بہ نگینہ تھے گویہ بات ماننے کو وہ تیار نہیں ہیں کہ ان کی فراغت کا سبب آٹا چینی فضیحتہ ہی ہے، ایک وقت یہ تھا کہ پارٹی کے ایسے بڑو ں نے اپنے طور پر یہ سوچ رکھا تھا کہ حکومت سازی میں وہ ایسا کردار ادا کریں گے کہ عمران خان کو زرداری کی طرح ملک کا صدر بنوا دیا جائے گا اور وہ خود وزیراعظم کی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے، ان شخصیات میں دیگر کے علاوہ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین بھی پیش پیش تھے مگر عمران خان کی بیس سالہ وزیراعظم کی خواہش کے آگے ان میں سے کوئی نہ ٹیک سکا لیکن جب حکومت سازی کا مرحلہ آیا تو عمران خان کو وزارت عظمیٰ کی بگّی میں سوار کرنے کی مساعی میں جہانگیر ترین کا کردار اوج ثریا پر ہی نظر آیا، وہ خان کی ناک کے ایسے بال بنے کہ عدالت عظمیٰ سے صادق وامین رد کئے جانے کے باوجود وہ پی ٹی آئی کے پاکیزہ ترین رہنما قرار پائے جاتے تھے، کابینہ کے اجلاسوں میں بھی ان کی سر کی جنبش سے فیصلے ہوتے یا رد ہو جایا کرتے، یہ انقلاب زمانہ ہی تو ہے کہ آج وہ بزبان خود اعتراف کر رہے ہیں، خان صاحب کے سامنے ان کی پاکیزگی بھی دھل گئی ہے۔ حضرت علی کا فرمان ہے کہ زمانہ استاد سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے، استاد سبق دیکر امتحان لیتا ہے جبکہ زمانہ امتحان لیکر سبق دیتا ہے، خیر اب بھی حالت کے پلٹنے کے وقت موجود ہے کیونکہ وہ چینی کے بحران میںخود کو شفاف قرار دیتے ہیں البتہ آٹا بحران کا ذمہ دار سندھ حکومت کو قرار دے رہے ہیں۔ اب آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟ آٹے چینی کا جو سکینڈل سامنے آیا اس میں بہت سی باتیں ابھی حل طلب ہیں، پہلی بات تو یہ ہے کہ اس بارے میں کہا جا رہا ہے کہ عمران خان نے یہ سکینڈل رپورٹ عوامی منظر میں کی جبکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نہیں ایسا نہیں ہوا بلکہ کسی اور نے لیک کی ہے اسی طرح جس طرح ڈان لیک ہوا۔ رپورٹ ایف آئی اے کی جانب سے آئی ہے جس کے سربراہ وہی واجد ضیاء ہیں جنہوں نے پانامہ لیکس سے اقامہ لیکس ڈھونڈ نکالا تھا اور کئی بڑوں کی خواہش پوری کر دی تھی۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی چینی اور آٹا بحران سے متعلق رپورٹ کے بعد وفاقی کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ کا سلسلہ شروع ہوا ہے جبکہ پی ٹی آئی کے اہم مرکزی رہنما جہانگیر ترین اور شہباز گل میں ”لفظی جنگ” بھی چھڑ گئی ہے۔ وفاقی وزیر برائے فوڈ سیکورٹی خسرو بختیار سے ان کا قلمدان واپس لیکر سید فخر امام کو دیدیا گیا ہے جبکہ اقتصادی امور کا قلمدان اب خسرو بختیار کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ حماد اظہرکو وزارت صنعت وپیداوار دے دی گئی ہے، اس سے قبل وہ وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور تھے۔ امکان ہے کہ آنے والے ہفتوں میں مزید تبدیلیاں بھی لائی جا سکتی ہیں۔ پی ٹی آئی کے اراکین اور اتحادی جماعتوں کے گلے شکوؤں میں بھی شدت آسکتی ہے۔ کئی حلقوں کا خیال ہے کہ اس رپورٹ کے منظرعام پر آنے کی وجہ سے وزیراعظم عمران خان بہت بڑی مشکل میں پھنس گئے ہیں اور اس مشکل کی وجہ سے ملک سیاسی عدم استحکام کا بھی شکار ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ ابھی صرف کابینہ میں تبدیلیاں ہوئی ہیں لیکن رپورٹ میں نام آنے والے افراد کیخلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی۔
نون لیگ کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر سینیٹر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کی اس رپورٹ میں عمران خان کے قریبی لوگوں کے نام منظر عام پر آنے سے کرپشن کیخلاف لڑنے والے چیمپن کیلئے مسائل کے پہاڑ کھڑے ہو گئے ہیں، ”پی ٹی آئی کی پارلیمنٹ میں عددی برتری جہانگیر ترین، مونس الٰہی اور خسرو بختیار جیسے لوگوں کی وجہ سے ہے۔ کئی اراکین قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے اراکین جہانگیر ترین کے قریب ہیں، خسرو کیساتھ بھی کچھ ارکان ہیں جبکہ مونس الٰہی اہم اتحادی ہے۔ اگر عمران خان نے ان افراد کیخلاف ایکشن لیا تو اس کی اکثریت ختم ہو جائے گی اور ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا لیکن پاکستانی سیاست میں یہ منظرنامہ بھی رہا ہے کہ وقت کی ضروریات وفاداریاں تبدیل کرنے میں سب سے زیادہ چاق وچو بند ثابت ہوئی ہیں۔ پاکستان کے کئی حلقوں میں یہ باتیں بھی چل رہی ہیں کہ سول وملٹری تعلقات میں اتنی گرم جوشی نہیں رہی جتنی کہ حکومت کی تشکیل کے وقت موجود تھی۔ اس رپورٹ کا آجانا اتنا معمولی نہیں، سب کو معلوم ہے کہ واجد ضیاء کس کا آدمی تھا اور ہے۔ پانامہ انکوائری میں اسے دس والیومز کس نے دلوائے تھے اور موجودہ انکوائری میں بھی واجد ضیاء نے جو پھرتی دکھائی ہے، وہ اس کی نہیں بلکہ کسی اور کی ہے، تو لگتا ہے اسے لانے والے خوش نہیں ہیں۔ معروف تجزیہ نگار جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان میں دوریاں پیدا ہو رہی ہیں، ابھی تو فوج نے انہیں کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بنا کر دیا ہے۔