بیروزگاری کا وائرس اور فنکار برادری کی کسمپرسی

سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کورونا وائرس کی وجہ سے بند نجی کمپنیوں کے ملازمین کو حکومت کی جانب سے 60فیصد تنخواہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملازمین کو ملازمتوں سے نہ نکالیں، ادھر ہمارے ہاں دیہاڑی داروں کی کسمپرسی کا جو حال ہے اس بارے میں ملک بھر کے اخبارات کے صفحے کے صفحے سیاہ ہورہے ہیں، دیہاڑی دار کا لفظ آتے ہی ہماری سوچ ان لوگوں کی طرف جاتی ہے جو روزانہ سڑک کنارے بیٹھ کر اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کوئی ان سے عمارت کی تعمیر، مرمت، سفیدی اور رنگ روغن کرانے، بڑھئی کا کام کرنے جیسی خدمات لینے آجائے، جبکہ دیگر ایسے بہت سے شعبے بھی ہیں جہاں ان دنوں کام کرنے والوں کو روزی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں، شادی ہالوں کی انتظامیہ کی ایسوسی ایشن والوں نے گزشتہ روز ایک اجلاس میںصورتحال کا جائزہ لیکر مطالبہ کیا ہے کہ14مارچ سے بند لاتعداد شادی ہالز کے ہزاروں ملازمین اور مالکان بے روزگاری کا شکار ہیں، اس لئے ہالز کے دروازوں پر سینی ٹائزر گیٹ لگا کر کھولنے کی اجازت دی جائے، ادھر دکانداروں نے بھی لاک ڈاؤن کو مسترد کرتے ہوئے دکانیں کھولنے کی اجازت طلب کی ہے، یہ صورتحال جبکہ حکومت نے لاک ڈاؤن میں مزید اضافہ کر دیا ہے آخر کیا شکل اختیار کرے گی؟ کیونکہ چند روز بعد رمضان کا مہینہ شروع ہو رہا ہے اور گزشتہ روز اخبارات میں ایسی خبریں بھی شائع ہوئی تھیں کہ نماز تراویح بھی متاثر ہونے کے امکانات ہیں، بہرحال بیروزگاری میں اضافے کے نتیجے میں ابھی سے لاتعداد خاندان جس فاقہ کشی کا شکار ہیں اس کا تدارک کیا ہے؟ اس پر ضرور سوچنا چاہئے۔ اگرچہ اعلانات تو کئے جا رہے ہیں مگر حکومتی سطح پر بیروزگاروں اور بناء رمضان کے ہی روزے رکھنے پر مجبور لوگوں میںسے کتنوں کو یہ سرکاری امداد اب تک ملی ہے اور اب بھی کتنے محروم ہیں یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔ البتہ بعض فلاحی تنظیمیں خدا ترس لوگوں کے تعاون سے حتی المقدور غریب اور نادار لوگوں کی امداد میں پیش پیش ہیں اور اس سلسلے میں جہاں کئی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں وہاں ایک نجی پیٹرولیم کمپنی نے پشاور کے 120فنکاروں میں راشن کی تقسیم کا اہتمام کر کے قابل تقلید کام کیا ہے، کمپنی کی جانب سے پشتو کے گلوکار، طبلہ نواز، شاعر اور شعبہ موسیقی سے وابستہ افراد میں راشن تقسیم کیا گیا، اس ضمن میں پشاور کی فنکار برادری کی سینئر عہدیدار کی جانب سے فراہم کردہ لسٹ کے مطابق راشن تقسیم کیا گیا، متعلقہ کمپنی نے خیبر پختونخوا میں 5ہزار گھروں میں راشن کی تقسیم کا عندیہ ظاہر کیا ہے جبکہ اس سے پہلے جمرود، لنڈی کوتل، چارسدہ، مردان اور پشاور میں مجموعی طور پر 1500گھرانوں کو راشن مہیا کیا جا چکا ہے۔
باراں کی طرح لطف وکرم عام کئے جا
آیا ہے جو دنیا میں تو کچھ کام کئے جا
فنکار برادری کو راشن کی تقسیم سے صوبہ خیر پختونخوا کے فنکاروں کی وہ فریاد یاد آئی ہے جو وہ موجودہ صورتحال پیدا ہونے یعنی کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد بار بار سوشل میڈیا کے ذریعے کر رہے ہیں اور صوبائی حکومت سے فنکار برادری کو بھی ریلیف پیکج میں شامل کرنے کی استدعا کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے، ان فنکاروں کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں کچھ عرصہ پہلے محکمۂ ثقافت کے زیرانتظام جن فنکاروں کو مالی امداد دی گئی تھی چونکہ ان کی فہرستیں محکمہ کے پاس موجود ہیںاس لئے ان کو بھی ریلیف پیکج کے تحت راشن فراہم کیا جائے جو لوگ ان دنوں بیروزگاری کے امتحان سے گزر رہے ہیں ان کی صورتحال میثم علی آغا کے اس شعر سے واضح ہوتی ہے کہ
تو تو رازق ہے تجھ سے کیا پردہ
کل سے بچوں نے کچھ نہیں کھایا
پشاور کی فنکار برادری اس لحاظ سے منفرد حیثیت رکھتے ہیں کہ کراچی، لاہور میں تو نہ صرف فلمیں بنتی ہیں، ڈرامہ پروڈکشن کے لاتعداد ادارے کام کر رہے ہیں جہاں ریکارڈ کئے ہوئے ڈرامے مختلف ٹی وی چینلز خرید کر نشر کرتے ہیں اور یوں فنکاروں اور تکنیک کاروں کو معقول معاوضے ملتے ہیں، اسی طرح چینلز مزاحیہ شوز کے ذریعے بھی فنکاروں کی سرپرستی کرتے ہیں جبکہ سٹیج ڈراموں سے بھی یہی فنکار اچھے معاوضے لیتے ہیں اور ان کے گھروں کے چولہے جلتے رہتے ہیں مگر وہاں کے برعکس نہ تو خیبر پختونخوا میں سٹیج ڈرامے اور شوز ہوتے ہیں نہ ہی سرکاری ٹی وی پر اب اُردو، پشتو اور ہندکو کے ڈرامے ریکارڈ ہوتے ہیں، لے دیکر ایک نشتر ہال ہے جہاں ثقافتی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں، اس لئے ان کے گھروں میں تو عام دنوں میں بھی بھوک نے ڈیرے ڈالے ہوتے ہیں چہ جائیکہ اس لاک ڈاؤن کے ہنگام ان کی کیا حالت ہو سکتی ہے اور ان کو روٹی روزی کے لالے پڑنے کی کیا صورت ہو سکتی ہے، اس بارے میں تو سوچنا ہی فضول ہے یعنی بقول میر عبدالولی عزلت
سدھارے گل کہاں، سونے پڑے ہیں گلستاں اپنے
گئی ہیں بلبلیںکیدھر، جلا کر آشیاں اپنے
فنکاروں کی دہائی اپنی جگہ تاہم اس حوالے سے اتنی گزارش بھی ضروری ہے کہ انہی فنکاروں میں تمام فنکار سرکاری پیکج کے حقدار نہیں بنتے، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب یہ امداد دی گئی تھی تو اس کیلئے ”ثقافت کے زندہ امین” کا لفظ استعمال کیا گیا تھا جن میں کچھ ایسے افراد بھی شامل تھے جن کی آمدن معقول تھی مگر زندہ امین کے ٹائٹل کی وجہ سے انہیں امداد کے قابل سمجھا گیا تھا، اس لئے صرف ان فنکاروں کو پیکج میں شامل کیا جائے جن کے کوائف کے مطابق واقعی ان کے ذرائع آمدنی محدود ہیں تاکہ معاشرے کے دیگر افراد کی حق تلفی نہ ہو۔