کرونا سے کتنے فیصد مریضوں کے گردے خراب ہونے کے امکانات ہوتے ہیں ؟

ویب ڈسک : دنیا بھر میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے اور اب تک متاثرین کی تعداد لاکھوں میں ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہیں، محققین کے مطابق دنیا میں کورونا سے متاثر ہونے والے 80 فیصد افراد میں اس کی معمولی علامات ہی دکھائی دی ہیں اور ایسے لوگ جن میں یہ علامات شدت سے پائی گئیں اقلیت میں ہیں۔

نیویارک کے طبی ماہرین نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کیسز پر تحقیق سے انھیں معلوم ہوا ہے کہ ایک تہائی سے زیادہ مریضوں کے گردے خراب ہوجاتے ہیں اور 15 فیصد کو ڈائیلیسس کی ضرورت پڑجاتی ہے۔

یہ تحقیق ریاست نیویارک میں صحت کی سہولتیں فراہم کرنے والے سب سے بڑے نیٹ ورک، نارتھ ویل ہیلتھ کے ماہرین نے کی ہے۔ اس میں ہزاروں مریضوں کے میڈیکل ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس کے نتائج طبی جریدے کڈنی انٹرنیشنل میں شائع ہوئے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ لکھنے والوں میں شامل ڈاکٹر کینار جھویری شامل ہیں جو ہوفسٹرا نارتھ ویل، گریٹ نیک میں نیفرولوجی کے معاون سربراہ ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ 36٫6 فیصد مریضوں کے گردوں میں اس قدر خرابی پیدا ہوئی کہ وہ کام کرنے اور جسم سے فضلہ خارج کرنے کے قابل نہیں رہے۔ ان میں سے 14٫3 فیصد مریضوں کو گردوں کی صفائی کے لیے ڈائیلیسس کی ضرورت پڑی۔

یہ کرونا وائرس کے مریضوں میں گردے کے مسائل پر اب تک کی سب سے بڑی تحقیق ہے۔ ڈاکٹر جھویری نے کہا کہ چونکہ دوسرے اسپتالوں کو بھی کیسز کی نئی لہر کا سامنا ہے اس لیے وہ ان کی تحقیق سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

اسپتالوں کے دوسرے نیٹ ورک بھی کرونا وائرس کے مریضوں میں گردوں کی خرابی میں اضافے کا مشاہدہ کر چکے تھے۔ ڈاکٹر جھویری اور ان کے کولیگز نے یکم مارچ سے 5 اپریل تک اسپتال میں داخل کرائے گئے 5449 مریضوں کے ریکارڈ کا جائزہ لیا۔

تحقیق کرنے والوں کو معلوم ہوا کہ بہت سے مریضوں کے گردے کرونا وائرس میں مبتلا ہوتے ہی خراب ہونا شروع ہوگئے۔ 37٫3 فیصد مریض اسی حال میں اسپتال پہنچے یا اسپتال میں داخلے کے 24 گھنٹوں کے اندر خرابی پیدا ہوگئی۔

بہت سے مریضوں کے گردے اس وقت بھی خراب ہوئے جب انھیں سانس لینے میں مشکلات کی وجہ سے وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا۔ وینٹی لیٹر پر منتقل کیے گئے ایک ہزار مریضوں میں سے 90 فیصد کے گردے خراب ہوئے۔ باقی مریضوں میں سے 21٫7 فیصد کے گردوں نے کام کرنا چھوڑا۔

ڈاکٹر جھویری نے بتایا کہ اکثر بہت زیادہ بیمار افراد کے گردے خراب ہو جاتے ہیں، کیونکہ ان کا جسم کام کرنا چھوڑ رہا ہوتا ہے۔ یہ کیفیت خاص طور پر کرونا وائرس سے متعلق نہیں بلکہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مریض کس قدر بیمار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود ان کی تحقیق اس لیے اہم ہے کہ اسپتال آئندہ مریضوں کا علاج کرتے ہوئے اس بات سے آگاہ ہوں گے کہ انھیں کس طرح کے آلات اور عملے کی زیادہ ضرورت ہوگی۔