شاہد آفریدی کا پاؤں مودی کی دُم پر

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی جو اب اپنی فاؤنڈیشن بنا کر سماجی بھلائی کے کاموں میں سرگرم ہیں کورونا بحران میں آزادکشمیر کے عوام کی دلجوئی اور خبرگیری کیلئے کچھ علاقوں کا دورہ کیا۔ اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس سے اندازہ ہوا کہ ان کے دورے کا اہتمام ملک کی معروف سماجی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن نے کیا تھا جو مختلف بحرانوں اور حادثات وآفات میں حکومتوں سے بڑھ کر عوامی خدمت کا ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ شاہد آفریدی نے مختلف مقامات پر عوام میں راشن تقسیم کیا اور عوامی اجتماعات سے خطاب بھی کیا۔ شاہد آفریدی نے اپنے خطابات میں مقبوضہ کشمیر کے حالات پر بھی بات کی اور انہوں نے ایک مقام پر کہا کہ کورونا سے زیادہ خطرناک وائرس مودی کے دماغ میں گھس گیا کہ وہ مذہب کی بنیاد لوگوں میں تفریق پیدا کر رہا ہے۔ شاہد آفریدی نے کشمیری عوام کی مظلومیت اور بھارتی جبر وستم کی بات بھی کی اور کہا بھارت کے حکمرانوں کو اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا حساب دینا ہوگا۔ شاہد آفریدی کی اس باتوں پر سوشل میڈیا میں ایک طبقہ چیں بہ جبیں ہوا جنہیں ان کی کھلی ڈلی باتیں پسند نہیں آئیں اور انہوں نے شاہد آفریدی کیخلاف سوشل میڈیا پر ایک محاذ کھول دیا ۔کسی نے ماضی میں قبائلی یلغار کی بات چھیڑی تو کسی کو اپنا کوئی اور دکھ یاد آیا۔ شاہدآفریدی ایک عالمی شناخت کے حامل کھلاڑی ہیں اور ان کا آزادکشمیر کی سرزمین پر کھڑے ہونا اپنا ایک معانی اور مفہوم رکھتا ہے۔ یہ بات بھارت کے ایک اخبار نے بھی تسلیم کی۔ روہان راج نامی بلاگر نے لکھا کہ شاہد آفریدی صرف کرکٹر ہی نہیں ایک ایسے ہیرو بھی ہیں جو اپنے بیانات اور اظہار خیال سے نوجوانوں کا ذہن بھی بدل سکتے ہیں۔ وہ بائیس کروڑ عوام کی رائے سازی میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بھارتی فوج کے ریٹائرڈ میجر گوریو آریا نے ایک ٹویٹ میں اسی دورے کے دوران کمانڈو ٹی شرٹ پہنے اور فوجی جوانوں کے آگے کھڑے شاہد آفریدی کے خطاب کی ویڈیو اس تبصرے کیساتھ ٹویٹ کی ہے ”کہ پاکستان تو ہندوؤں کی نفرت میں ہی قائم ہوا تھا۔ جب ایک پاکستانی فلم، کھیلوں اور کاروبار کے ذریعے پیسہ بنانے کیلئے بھارت آتا ہے یا سیاحت کی غرض سے سہی تو اس کے چہرے پر محبت اور انسانیت کا ماسک ہوتا ہے یہ اس ماسک کے پیچھے اصل چہرہ ہے” موجودہ حالات میں بھارت کی پوری کوشش ہے کہ کشمیر کے حالات پر دنیا میں کہیں سے آواز ہی نہ اُٹھے۔ اسی لئے وہ بیرونی دنیا میں ہر اس آواز کو دھونس دھمکی یا منت سماجت کسی بھی حربے سے دبانا چاہتا ہے جو کشمیر کی حالت زار کی عکاس اور ترجمان ہوتی ہے۔ بھارت نے یورپ سے امریکہ تک کشمیر کیلئے بلند ہونے والی بہت سی آوازوں کو انہی حربوں کے ذریعے دبانے کی کوشش کی ہے۔ بھارت کی یہ خواہش ہے کہ پاکستان اور آزادکشمیر کے عوام بھی اپنے مسائل اور معاملات میں اس قدر پھنسے رہیں کہ انہیں مقبوضہ کشمیر کے حالات پر توجہ دینے یا بولنے کا خیال ہی نہ آسکے۔ یوں وہ کشمیر کے معاملے پر قبرستان جیسی خاموشی چاہتا ہے اور اس خاموشی کی آڑ میں وہ کشمیر میں آپریشن کلین اپ کرکے مجاہدین کا قتل عام چاہتا ہے اور بھارت کے وہ تمام قوانین لاگو کرنا چاہتا ہے جو اس کی آنیوالے زمانوں کی حکمت عملی یعنی آبادی کے تناسب اور تشخص کی تبدیلی کے مضبوط بنیاد بن سکتا ہے۔ پروگرام کے شریک طارق فتح بھی دانش کنیریا کے روئیے پر مایوس اور حیران دکھائی دئیے کیونکہ دانش کنیریا کی طرف سے بھارتی میڈیا کی ضرورت پوری نہ کرنے کے بعد اس کام کا سارا بوجھ طارق فتح پر آن پڑا تھا جو مسلمانوں، اسلام اور پاکستانیوں کیخلاف بات کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔ طارق فتح کی صورت میں بھارتی میڈیا کے ہاتھ میں چابی والا کھلونا آگیا ہے اور وہ جب چاہیں چابی بھر کر کسی بھی اسلام اور پاکستان مخالف پروگرام میں کھلا چھوڑ دیتے ہیں اور پھر طارق فتح یہ ضرورت پوری دیانت داری سے پوری کرتے ہیں۔ شاہد آفریدی کیخلاف بھی طارق فتح نے اپنا یہ کردار نبھایا۔ ٹی وی اینکروں کی چیخ وپکار سے شاید مطلوبہ فضاء نہ بن سکی اسی لئے بھارتی حکومت نے اپنے سابق اور موجود کھلاڑیوں سے بیان بازی کرانے کی حکمت عملی اختیار کی۔ ان میں کئی ایسے کھلاڑی بھی تھے جو کچھ عرصہ قبل شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کی مدد کی اپیلیں کرچکے تھے اور اب ظاہر ہے کسی دباؤ پر وہ ان اپیلوں پر معذرت کررہے تھے۔ ان میں یوراج سنگھ، سوادیشی موجیٹو اور ایک کشمیری پنڈت سریش رینا بھی شامل تھے۔ اول الذکر کھلاڑیوں نے تو آفریدی پر تنقید سے گریز کرتے ہوئے ان کی سماجی خدمات کی حمایت کی اپیل پر معذرت کا انداز اپنایا جبکہ پنڈت سریش رینا نے کہا آفریدی اپنے ناکام ملک کی فکر کریں اور کشمیر کو معاف کریں۔ ان کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ آفریدی نے ہمارے معزز وزیراعظم کی توہین کی ہے۔ صاف لگتا ہے کہ ان کھلاڑیوں نے یہ بیان مودی کی صفائی میں مگر کسی دباؤ پر دیا ہے۔ شاہد آفریدی کی آزادکشمیر میں کھری کھری باتوں پر بھارتی میڈیا کی چیخ وپکار بتا رہی ہے کہ تیر صحیح نشانے پر جا لگا ہے۔ بھارت کی خواہش ہے کہ پاکستان کے لوگ کشمیر کا ذکر کرنا بھول جائیں تاکہ وہ وادی کے عوام کو باور کرائے کہ پاکستان کے عوام نے انہیں فراموش کر دیا ہے اب وہ بھارت کے قبضے کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کر لیں۔ اس کے برعکس ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ کشمیر اور کشمیری عوام ہماری لوح حافظہ پر قائم اور دائم رہیں اور آفریدی جیسے نامور لوگ اس معاملے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔