اپوزیشن نے چینی بحران کی انکوائری رپورٹ مسترد کرتے ہوئے گمراہ کن قرار دے دی

مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے چینی اسکینڈل کا اصل ذمے دار وزیراعظم عمران خان کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے چینی برآمد کرنے کے اصل ذمے دار عمران خان کا بیان ریکارڈ نہیں کیا۔

ایس ایف سی کی رپورٹ کے ردِ عمل میں علیحدہ علیحدہ بیان جاری کرتے ہوئے پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے وزیراعظم عمران خان، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے نام رپورٹ میں نہ ہونے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے اس وقت چینی کی برآمدات کی اجازت دی جب ملک میں اس کی قلت تھی۔

سندھ حکومت کے ترجمان بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ چینی بحران کی انکوائری رپورٹ جس کے بارے میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے بتایا ہے وہ جھوٹ پر مبنی گمراہ کن ہے، ایسا لگ رہا ہے کہ انکوائری رپورٹ میں کسی کو بچانے کی کوشش کی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ اگر انکوائری کا مقصد سیاسی مخالفین کو پن پوائنٹ کرنا ہے تو ہمارا اعتراض ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں چینی کے بحران کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ 4 اپریل کو عوام کے سامنے پیش کی گئی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ چینی کی برآمد اور قیمت بڑھنے سے سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین کے گروپ کو ہوا جبکہ برآمد اور اس پر سبسڈی دینے سے ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا تھا۔ معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم کا نقطہ نظر یہ تھا کہ کہ چونکہ انہوں نے عوام سے رپورٹ منظر عام پر لانے کا وعدہ کیا تھا اس لیے اب یہ وقت ہے کہ وعدہ پورا کیا جائے۔

بعد ازاں 5 اپریل کو وزیر اعظم عمران نے عوام کو یقین دہانی کروائی تھی کہ 25 اپریل کو اعلیٰ سطح کے کمیشن کی جانب سے آڈٹ رپورٹ کا تفصیلی نتیجہ آنے کے بعد گندم اور چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔تاہم فرانزیک رپورٹ میں تاخیر ہوتی رہی اور بالآخر اسے گزشتہ روز کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا گیا تھا جہاں اسے عوام کے سامنے پیش کرنے کی منظور دے دی گئی تھی۔ رپورٹ میں پی ٹی آئی کے سابق سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کی مِل اور اس مل کا نام بھی شامل تھا جس کے شریک مالک مونس الٰہی تھے۔