سندھ حکومت اور اپوزیشن سے مؤدبانہ درخواست

18ویں ترمیم کے معاملے اور دسویں مالیاتی کمیشن کی تشکیل پر وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کی کوکھ سے سندھ میں گورنر راج کا مطالبہ برآمد ہوگیا، سندھ اسمبلی کے اپوزیشن ارکان نے گزشتہ روز اپنا اجتماعی اجلاس بھی منعقد کیا۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک اور عوام شدید مسائل سے دوچار ہیں، سیاسی محاذ آرائی کے بڑھاوے کی ضرورت کس نے اور کیوں محسوس کی اس پر بحث میں اُلجھے بغیر موجود سیاسی عمل میںشریک تمام فریقوں سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ وہ ان حالات میں اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی شعوری کوشش کریں۔گورنر راج کا مطالبہ انتہائی غیر دانشمندانہ ہے، سندھ میں حکومت اور اپوزیشن کو متحد ہو کر عوام کی مشکلات اور مسائل میں کمی لانے کے ٹھوس اقدامات کرنا چاہئیں، اسی طرح اس امر کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری ہے کہ کسی صوبے کی منتخب حکومت کیخلاف محض سیاسی انا کی تسکین کیلئے غیر آئینی اقدامات کا مطالبہ یا اس کی ہمنوائی جمہوریت دوستی ہر گز نہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ سندھ حکومت اور اپوزیشن کے سیاسی اختلافات سے بعض حلقے لسانی تعصبات کی آگ کو بھڑکانے میںمصروف ہیں، یہ صورتحال تشویشناک ہے۔پاکستان کے معروضی حالات کسی ایڈونچر کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ زیادہ مناسب یہ ہوگا اختلافات کو طے کرنے کیلئے جمہوری قدروں سے رہنمائی لی جائے۔ یہاں ہم وفاق میں حکمران جماعت اور وفاقی حکومت سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرے جو اپنی منفی سرگرمیوں اور جمہوریت دشمن طرزعمل سے اس کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس
سیمنٹ کی قیمتوں میں پچھلے ایک ماہ کے دوران ہونے والے اضافے کا مسابقتی کمیشن نے نوٹس لیکر تحقیقات شروع کر دی ہے۔ گویہ اعلان خوش آئند ہے لیکن اس سوال کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ تحقیقات ماضی کی طرح بے نتیجہ ہوگی یا اس سے صارفین کو ریلیف بھی ملے گا۔ اس سوال کی وجہ ادویات کی قیمتوں میں پچھلے سال ہونے والے اضافے کی تحقیقات اور صارفین کو اضافی رقم واپس دلوانے کے اعلانات کا بے نتیجہ رہناہے۔ انتہائی افسوس کیساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستانی سرمایہ دار طبقے میں کبھی حکومتی سرمایہ دارار بننے کی سوچ نہیں پنپ پائی، اپنے منافع میں صارفین کو شریک کرنے یا منفی عمل کو زندگی فراہم کرنے والے کارکنوں کی فلاح وبہبود کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا بلکہ ظلم یہ ہوتا آرہا ہے کہ جسے بھی موقع ملے قیمتیں بڑھالی جائیں ۔ چینی کی قیمتوں میں پچھلے دو ماہ کے دوران اضافہ بھی اس منفی سوچ کا زندہ ثبوت ہے، بہرطور سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافے کا مسابقتی کمیشن نے نوٹس لے ہی لیا ہے تو یہ دروخواست کی جانی چاہئے کہ اس امرکو یقینی بنایا جائے کہ قیمتوں میں بلاجواز اضافے کی حوصلہ شکنی ہو، لوٹ کھسوٹ کے ذمہ دار سرمایہ داروں کیخلاف قواعد کے مطابق کارروائی اور صارفین کو حقیقی معنوں میںریلیف دلوایا جائے۔