طالبان اورگلوبل ایجنڈے کا جھنڈا

امریکہ کے نمائندہ برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے بھارت کو طالبان کیساتھ مذاکرات کا مشورہ دیکر حقیقت میں ان کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ زلمے خلیل زاد کا یہ مشورہ الل ٹپ نہیں ہے اور اس کے پیچھے امریکہ کی سفارتکاری اور پاکستان کی شکایات بھی رہی ہوں گی۔ بھارت کی طرف سے اس کوشش کی مزاحمت کے بعد ہی امریکہ نمائندے کو برسرعام یہ مطالبہ دہرانا پڑا۔ اب بھارت میں اس مشورے پر کھلے بندوں بحث ہو رہی ہے۔ طالبان کیساتھ مذاکرات کرنے یا نہ کرنے کے فوائد اور نقصانات پر بات ہو رہی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ امریکہ نے یہ منصوبہ بھارتی رائے عامہ کے جائزے کیلئے مشتہر کردیا۔ کل تک بھارت جس بات کو بعید ازامکان اور ناممکن قرار دے رہا تھا اب ”اگر مگر” کیساتھ اس بات پر رضامندی ظاہر کی جانے لگی ہے۔ طالبان اور بھارت کا ایک میز پر بیٹھنا اب قطعی ناممکن نہیں رہا مگر اس کیلئے بھارت کو اپنے ماضی کے طور طریقے بدلنا ہوں گے۔ امریکہ افغانستان سے رخصتی کی راہ لے چکا ہے مگر اس خلاء کو کون پُر کرے گا؟ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ افغان حکومت میں امریکی خلاء کو پر کرنے کی رتی برابر صلاحیت ہوتی تو وہ امریکیوں کا دامن پکڑ کر ہرگز گڑگڑاتے ہوئے اپنا قیام افغانستان طویل کرنے کی درخواست نہ کرتی مگر امریکہ کی مجبوریاں آڑے آگئیں اور وہ ان درخواستوں کا بوجھ مزید اُٹھانے سے انکاری ہوا۔ امریکہ کی افغانستان میں آمد کا مقصد اسی وقت پورا ہوگیا تھا جب ایبٹ آباد آپریشن میں انہوں نے اسامہ بن لادن کو قتل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ کی افغانستان پر ساری چڑھائی کے پیچھے اسامہ بن لادن کو پکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں لانا تھا تاکہ وہ نائن الیون کے سب سے مرکزی کردار کو انجام تک پہنچا کر اپنی انا کی تسکین کر سکیں اور اپنے عوام کو یہ باور کراسکیں، ان پر حملے کا سب سے اہم مرتکب ان کے غیض وغضب کا شکار ہو گیا ہے۔ انا کی یہ تسکین حاصل ہونے کے بعد امریکہ کیلئے یہ جنگ قطعی بے مقصد ہو کر رہ گئی تھی۔ افغانستان میں ان کی موجودگی کی دوسری پرت کا تعلق چین پر نظر رکھنے سے تھا مگر نظر رکھنے کیلئے فوجیوں کا حالت جنگ میں رہنا اور مرنا مارنا ضروری نہیں ہوتا۔ یہ مقصد ساحل پر وہیل مچھلی کی طرح بے سُدھ پڑے رہنے سے زیادہ بہتر انداز میں حاصل کیا جا سکتا تھا۔ امریکہ اپنی واپسی کو ایک فاتحانہ نہ سہی تو شکست کا رنگ بھی نہیں دینا چاہتا تھا اور یہ اسی صورت ممکن تھا کہ وہ طالبان کیساتھ ایک ڈیل کرے اور اس ڈیل کا راستہ صرف پاکستان سے ہو کر ہی جاتا تھا۔ امریکہ اور پاکستان میں اعتماد کا بحران کم کرنے میں برسوں لگے تو افغانستان میں امریکہ طالبان ڈیل کی راہ ہموار ہو گئی۔ ایک دور میں امریکہ کی خواہش تھی کہ اس کے فوجی خلاء کو بھارت آگے بڑھ کر پُر کرے۔ بھارت اس حوالے سے ہمیشہ مخمصوں کا شکار رہا۔ بھارت نے اسی کی دہائی میں سری لنکا کی باقاعدہ فوج کشی سے حاصل ہونے والا سبق پلے باندھ لیا تھا۔ مشرقی پاکستان کی بات اور تھی جہاں ایک عالمی مفاہمت اور دنیا کا گرین سگنل ملنے اور پاکستان کے فیصلہ سازوں کی رضامندی کے بعد بھارتی فوج داخل ہوئی تھی۔ سر ی لنکا میں داخل ہونے والی بھارتی فوج کو اپنے ہی تراشیدہ تامل گوریلوں نے وہ سبق سکھایا تھا کہ اُلٹے پاؤں بھاگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ تامل گوریلے اپنی آتش انتقام کو اس وقت تک دہکتا اور بھڑکتا رہے جب تک کہ ایک خودکش حملے میں راجیو گاندھی قتل نہ ہوئے۔ سر ی لنکا سے حاصل ہونے والے اس سبق کی روشنی میں بھارت کیلئے افغانستان میں امریکہ کا خلاء عملی اور فوجی طور پر پُر کرنا ایک خوفناک تصور رہا ہے۔ شاید بھارت کے منصوبہ سازوں نے اس پہلو سے کبھی سوچا بھی نہیں۔ ان کیلئے کابل کے حکمرانوں کے پیچھے چھپنا اور پیسہ پانی کی طرح بہا کر عوامی سطح پر واہ واہ حاصل کرنا ایک آسان راستہ رہا۔ سڑکیں، پل اور پرشکوہ عمارات بنانے سے اپنا عوام دوستی کا امیج تو بنایا جا سکتا تھا مگر اس سے طالبان کے حملوں کا شکار کابل حکومت کی عملی مدد کیسے ہو سکتی تھی؟ امریکی تو ان کے تحفظ کیلئے سترہ برس میں چوبیس سو سے زیادہ جانیں گنوا بیٹھے تھے اور ہزاروں زخمی اور دوسرا نقصان اس کے علاوہ ہے۔ بھارت صرف پیسہ پھینک کر دوستی کا حق ادا کرنا چاہتا تھا۔ اب بھی جب امریکہ افغانستان سے رخصت ہو رہا ہے تو بھارت عملی طور پر اس خلاء کو پُر کرنے کی خواہش کا اظہار کرنے سے بھی قاصر ہے۔ امریکیوں کیلئے بھارت کی افغان دوستی محض کتابی بات ہے اور ٹرمپ بھارت کے اس کردار پر طنز کر چکے ہیں کہ جب امریکی جانیں دے رہے تھے تو بھارت افغانوں کے تحفظ کیلئے لائبریریاں تعمیر کر رہا تھا۔ یوں امریکہ خود کو افغانستان میں خون دینے والا اور بھارت کو دودھ پینے والا مجنوں سمجھنے لگا اور بھارت کے اس روئیے نے امریکہ کو افغانستان میں مایوس کرکے پاکستان اور طالبان کیساتھ معاملات طے کرنے پر مجبور کیا۔ اب عالم یہ ہے امریکہ بھارت کو بتا چکا ہے کہ وہ افغانستان میں اپنی غیرضروری موجودگی کو کم کرے۔ افغانستان میں اس کے چار قونصل خانے پاکستان کیلئے ہمیشہ وجہ اعتراض رہے ہیں اور بالخصوص جلال آباد کا قونصل خانہ پاکستان میں دہشتگردی کی منصوبہ بندی کا مرکز سمجھا جاتا رہا۔ اب کورونا کی وباء کے باعث بھارت نے جلال اور ہرات کے قونصل خانوں میں سرگرمیاں قریب قریب معطل کردی ہیں کیا عجب کہ اب یہ عمارتیں دوبارہ اپنے مکینوں کی راہ ہی تکتی رہیں۔
طالبان اس مرحلے پر کسی گلوبل ایجنڈے کا جھنڈا لہرانے کی وہ غلطی نہیں دہرانا چاہتے جس کے آڑ میں امریکہ نے ان کی حکومت کا خاتمہ کیا تھا۔طالبان کے لئے بڑی کامیابی یہی ہوگی اگر کہ وہ اپنی سرزمین کو بھارت کے پس پردہ مقاصد اور پراکسی وار کے بوجھ سے آزاد کرتے ہیں اور نہ صرف طالبان بلکہ امریکہ بھی یہ حقیقت پا چکا ہے کہ یہی افغانستان میں پائیدار امن کا راستہ ہے کیونکہ بھارت کی افغانستان سے اصل دلچسپی پاکستان کی چٹکی کاٹنے کی آسانی اور سہولت تک محدود ہے ۔