عیدالفطر، گداگر اور کرونا وائرس

حجاج بن یوسف کے زمانے میں ایک مقبول حق بزرگ تشریف لائے، حجاج بن یوسف نے بھی ان سے دعا کی استدعا کی کہ وہ ان کیلئے دعا فرمائیں، بزرگ نے ہاتھ اُٹھا کر دعا کی یا خدا اس کی جان لے لے! حجاج نے حیران ہوکر کہا حضرت یہ آپ کیا دعا فرما رہے ہیں؟ بزرگ نے جواب دیا کہ درحقیقت تمہارے اور تمہاری رعایا کیلئے یہی بہترین دعا ہے تاکہ رعایا تمہارے ظلم سے اور تم اپنے ظلم کی سزا سے بچ سکو! آج بھی ظالموں کیخلاف لوگ اس قسم کی دعائیں مانگ رہے ہیں، بازاروں میں جب اہلکار کسی کے پھلوں کی گاڑی اُلٹ دیتے ہیں یا اس کی سبزی کا ٹھیلا گرا دیتے ہیں تو اس کے دل سے یقینا بددعائیں ہی نکلتی ہیں۔ جب آپ نے لاک ڈاؤن میں نرمی کردی ہے تو پھر غریب لوگوں کیساتھ بھی نرمی کریں، لوگوں کو سمجھا بجھا کر بھی کام نکالا جاسکتا ہے، ان بیچاروں سے سبزیاں اور پھل مفت میں وصول کئے جاتے ہیں، افطار سے کچھ دیر پہلے بعض قانون نافذ کرنے والے اہلکار ان پھل فروشوں سے اپنے افطار کا حصہ وصول کرلیتے ہیں، بدبختی کا یہ عالم ہے کہ ذہن میں ایک مرتبہ بھی یہ خیال نہیں آتا کہ ظلم سے حاصل کئے گئے پھلوں سے روزہ افطار کیا جارہا ہے! یہ نوشیروان عادل کا قصہ ہے کہ ایک دفعہ وہ کسی شکارگاہ میں تھا کہ کباب بنانے کیلئے نمک کی ضرورت پڑ گئی، نوشیروان نے غلام سے کہا کہ قریبی گاؤں جاکر نمک لے آئے لیکن نمک کی قیمت ادا کرکے نمک لینا ورنہ گاؤں اُجڑ جائے گا۔ غلام نے حیرت سے پوچھا کہ حضور تھوڑا سا نمک مفت لینے سے بھلا گاؤں کیسے اُجڑ سکتا ہے؟ نوشیروان نے کہا کہ تھوڑا سا نمک مفت لینے میں بھی بڑا اثر گاؤں پر پڑے گا، خوب یاد رکھو کہ دنیا پر پہلے ظلم بہت کم کیا جاتا تھا جو کوئی آیا اس نے ظلم میں زیادتی کی اور اب تم دیکھ رہے ہو کہ نوبت کہاں تک پہنچ گئی ہے۔ اگر رعایا کے باغ سے بادشاہ ایک سیب توڑ کر کھا لے تو اس کا لشکر اس کے غلام درختوں کو جڑ سے اُکھاڑ کر رکھ دیں گے، اگر سلطان ایک انڈہ مفت میں کھا لے تو اس کا لشکر ہزاروں مرغیوں کو چٹ کر جائے گا۔ کیا آج یہی کچھ نہیں ہو رہا؟ یہ حکایت پڑھنے کے بعد ذہن میں خیال آتا ہے کہ پہلے نصاب میں گلستان سعدی پڑھائی جاتی تھی تو طلبہ کی روحانی تربیت بھی ہوجاتی تھی، دولت کی ہوس بھی کم تھی لوگ قناعت پسند تھے لیکن آج کل بینک بھرے ہوئے ہیں جائیداد کی کوئی حد نہیں ہے، بڑے بڑے محلات میں لیڈر صاحبان رہائش پذیر ہیں لیکن ہوس ہے کہ بڑھتی ہی چلی جارہی ہے اور یہ سلسلہ اوپر سے شروع ہوکر ایک تسلسل کیساتھ نچلے اہلکاروں تک پہنچ رہا ہے۔ اس قسم کی حکایتوں میں بڑی مفید نصیحتیں ہوتی تھیں، حقیقت یہ ہے کہ نصیحت یا اچھی بات کو دل کے کانوں سے سنو اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرو جو دیوار پر ہی کیوں نہ لکھی ہو یعنی یہ نہ دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے بلکہ یہ دیکھو کہ کیا کہہ رہا ہے۔ ایک نیک انسان ایک مدرسے کے دروازے پر آیا تو اس سے پوچھا گیا کہ کہاں سے آئے ہو تو اس نے جواب دیا کہ میں تو ایک خانقاہ سے آیا ہوں، اس سے پھر پوچھا گیا کہ ایک صوفی اور دانشور میں کیا فرق ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ دانشور صرف اپنے کمبل کو دریا کی لہروں سے بچاتا ہے جبکہ صوفی ڈوبتے ہوئے انسان کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ظلم وستم یہ لوٹ مار سب مال ودولت کی ہوس کا نتیجہ ہیں، ایک بادشاہ کسی پریشانی میں متلا ہوگیا اور اس نے دعا کی یا اللہ مجھے اس پریشانی سے نجات دلا دے، میں تیری راہ میں ایک خطیر رقم زاہدوں میں تقسیم کروں گا۔ جب بادشاہ کی وہ پریشانی دور ہوگئی تو اس نے رقم اپنے غلام کو دیکر کہا کہ جاؤ اور یہ رقم زاہدوں میں تقسیم کردو۔ غلام واپس آیا تو اس کے پاس رقم جوں کی توں موجود تھی پھرکہنے لگا جہاں پناہ میں نے بہت تلاش کیا مگر اس رقم کو لینے والا مجھے کوئی بھی نہیں ملا۔ بادشاہ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ بھلا کیسے ہوسکتا ہے، میرے خیال میں تو اس شہر میں چارسو زاہد رہتے ہیں۔ غلام نے عرض کی حضور جو زاہد ہیں وہ روپیہ نہیں چھوتے اور جو زاہد نہیں ہیں ان کو روپیہ میں نے نہیں دیا۔ یہ تو پرانے دور کے اچھے لوگوں کی اچھی باتیں تھیں ہمارے لئے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ عیدالفطر کی آمد آمد ہے اور پشاور شہر میں گداگر مافیا سرگرم ہو چکا ہے، سینکڑوں پیشہ ور بھکارنیں پشاور پہنچ چکی ہیں ان میں دس برس کی بچی سے لیکر ساٹھ سالہ عورتیں ہوتی ہیں انہوں نے اپنے اپنے علاقے تقسیم کر رکھے ہیں، یہ مختلف بازاروں میں لوگوں سے لپٹ کر زبردستی خیرات مانگتی ہیں، چھوٹی چھوٹی بچیاں آپ کو چاروں طرف سے گھیر لیتی ہیں، جوان لڑکیاں بچے سب اپنے کام میں طاق ہیں انہیں جیب کاٹنے کا ہنر بھی آتا ہے، یہ بڑی صفائی کیساتھ آپ کو اپنی رقم سے محروم کرسکتے ہیں۔ اس طرح کے بہت سے واقعات پشاور میں ہوچکے ہیں، خواتین کے بازاروں میں رش کی وجہ سے انہیں ہاتھ کی صفائی دکھانے کے مواقع بڑی آسانی سے مل جاتے ہیں۔ عید کی خریداریاں بھی عروج پر ہیں، کرونا وائرس کا جادو بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے، درمیان میں گداگر بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کیلئے موجود ہیں اللہ کریم سے یہی دعا ہے کہ ہم سب کی حفاظت فرما۔ آمین۔