مسائل بے شمار، انٹرنیٹ کا رونا اور بنوں کی بیٹی

\آج کالم کی ابتداء ایک ایسے مسئلے پر مبنی برقی پیغام سے کرتی ہوں جو کوئی مسئلہ تو نہیں لیکن سارے مسائل کا مجموعہ ہے۔ برقی پیغام میں کہا گیا ہے کہ کوئی ایک مسئلہ ہو تو بیان کروں، یہاں تو مسائل ہی مسائل ہیں اور ہر مسئلہ اتنا سنگین وطویل کہ ہر مسئلے پر دم نکلے۔ واقعی مسائل اتنے ہیں کہ میں نے جب سے یہ ہفتہ وار کالم شروع کیا ہے، سال دوسال ہونے کو ہے مختلف قسم کے مسائل سامنے آتے ہیں، بعض عوامی مسائل اتنے مستقل ہیں کہ ان مسائل پر لکھ لکھ کر دم گھٹنے لگتا ہے۔ بار بار ایک ہی جیسے مسائل سے صوبے کے مختلف علاقوں کے لوگ نشاندہی کر رہے ہوتے ہیں مگر مجال ہے کہ ان مسائل میں کمی آئے۔ یہاں مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی والا معاملہ ہے، مستقل مسائل میں سے ایک مسئلہ ورکر ویلفیئر بورڈ خیبرپختونخواکے ملازمین کا بھی ہے جس کا واٹس ایپ کالم لکھتے وقت دستیاب نہ ہوسکا بہرحال مسائل وہی پرانے اور اس کالم میں دو تین بار چھپ بھی چکے ہیں، ایک برقی پیغام کئی بار آیا ہے جس میں کہنے کی کوشش یہ کی گئی ہے کہ قبائلی اساتذہ کا رٹ پٹیشن عدالت عالیہ میں طویل عرصے سے سماعت کا منتظر ہے، مسئلہ کیا ہے یہ نہیں لکھا۔ ہر مسئلے کا حل عدالت ہی سے لینے کی مجبوری بے شمار مقدمات کا باعث بنتی ہے اور تاخیر ہو جاتی ہے۔ مسئلے کی تشریح ووضاحت اور معلومات نہ ہونے پر اس سے زیادہ کچھ کہنے کی گنجائش نہیں۔ محمد نعمان شنواری جویو ای ٹی پشاور کے طالب علم ہیں، کہتے ہیں کہ قبائلی نوجوانوں کو سوشل میڈیا سے دور رکھنے کیلئے انٹر نیٹ کی بندش سے اس کو اور اس جیسے دیگر طالب علموں، روزگار اور کاروبار کے متلاشی افراد کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ یہی مسئلہ بہت سارے دیگر قبائلی اور دوردراز اضلاع کے طالبعلموں کا بھی ہے اور یہ ایک اجتماعی مسئلہ ہے، خاص طور پر اب جبکہ کورونا کے باعث ادارے بند اور آن لائن کلاسز کا جو تجربہ ہو رہا ہے، طالبعلموں کیلئے انٹرنیٹ کی سہولت لازمی ہوگئی ہے۔ پہلے بھی لازمی ہی تھی مگر اب مزید لازم ہوگیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ان کو صرف ایک آن لائن کلاس کیلئے میلوں دور بازار جانا پڑتا ہے اور وہاں بھی انٹر نیٹ سگنل اتنے کمزور ہوتے ہیں کہ سٹریمنگ ناممکن ہوتی ہے۔ اس میں ٹیچرز کویز بھی دیتے ہیں اور اسائمنٹ بھی مانگتے ہیں جو آن لائن جمع کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔یہ مسئلہ اتنی بار کالم میں شامل ہو چکا ہے اور اس پر بات ہوچکی ہے کہ مزید کی گنجائش نہیں، آخر ہمارے حکام کو کب سمجھ آئے گی اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کب ہوگا۔ آخر کب تک ہمارے بچوں کو اس اذیت کا شکار رکھا جائے گا۔ کالم لکھتے ہوئے ایک ایسا برقی پیغام موصول ہوا جسے پڑھنے کو میں نہ چاہتے ہوئے بھی رکی اور جب پیغام پڑھا تو ہمدردی اور افسوس کے جذبات اتنے غالب آگئے کہ میرے لئے کالم آگے بڑھا نا مشکل ہورہا ہے، بنوں سے ایک بیٹی ہیں جن کے والدین میں طلاق ہوچکی ہے اور وہ ماموں کے زیرکفالت ہیں۔ ماں نے دوسری شادی کرلی ہے، ماموں بیروزگار ہیں، احساس پروگرام کے تحت بارہ ہزار روپے ان کے نام پر آگئے ہیں لیکن والد کا انگوٹھا لگانا اور دستخط ضروری ہے اور اس کا باپ انکاری ہے جس کی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ اس بیٹی کی کفالت کرے، کفالت تو درکنار وہ ضابطے کی رسمی کارروائی پوری کرنے سے انکاری ہے۔ مجھے ذاتی طور پر تجربہ ہے کہ بعض سرکاری قواعد وضوابط اور شرائط اس طرح کی ہوتی ہیں جو معمول کے حالات میں تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن بعض حالات میں ان شرائط کو پوری کرنے کی راہ بہت مشکل سے نکل آتی ہے۔ اسی مسئلے کو دیکھ لیں حکومت امدادی رقم دے رہی ہے لیکن شرط پوری کرنا امداد لینے والی بیٹی کیلئے ناممکن ہے۔ سرکاری ضابطے کی کارروائی کی تبدیلی تو بہت مشکل ہے اس کی پابندی متعلقہ عملے کی ذمہ داری ہے جس قسم کا معاملہ ہے اس میں اخلاقیات کی تو توقع نہیں اور قانونی راستہ طویل ہے۔ سپریم کورٹ میں تطہیر فاطمہ کیس اس کی مثال ہے، اس کا قانونی طریقہ تو عدالت سے ہی رجوع ہے بااثر جرگہ رکن اسمبلی اور علاقے کی سماجی شخصیات وعلمائے کرام سے رجوع ہی کرنا ہوگا۔ علاقے کے کسی اچھے شخص کی وساطت سے علاقہ تھانہ سے رابطہ کر سکیں تو پولیس یہ نیک کام کرواسکتی ہے۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے اور یہ تو ہے ہی کارثواب، پولیس والے جہاں اور دیگر کام کر سکتے ہیں تو یہ تو کوئی کام ہی نہیں۔ میں آپ کو یہ مشورہ بھی دوں گی کہ آپ اپنے والد سے کفالت کے اخراجات کیلئے بھی کوشش کریں، آپ ان کی بیٹی اور ان کی ذمہ داری ہیں، ماموں کی نہیں۔ تھانوں میں مصالحتی عدالتیں ہوتی ہیں، اس کی معلومات کر کے ان سے رجوع کریں تو بغیر وکیل اور پریشانی کے مسئلے کا حل نکل آئے گا۔ میں آپ کیلئے دعا گو ہوں اور اپنے قارئین سے بھی آپ کیلئے دعائووں کی درخواست کرتی ہوں۔ کوئی نیک دل شخص، عوامی نمائندہ اور ضلعی پولیس کا کوئی خداترس افسر چاہے تو بچی کا فون نمبر ان کی اجازت کے بعد دیا جا سکتا ہے تاکہ اس کی مدد ہوسکے۔ شبقدر سے سیار محمد کا کہنا ہے کہ ان کے والد پوسٹ آفس میں سیکورٹی گارڈ تھے جن کے انتقال کو بیس ماہ ہوگئے مگر ان کے واجبات سے خاندان کو کوئی رقم نہیں ملی۔ سرکاری واجبات کی وصولی کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے پیچیدہ اور مشکل، اوپر سے آڈٹ اعتراضات ودستاویزات قسم کے مسائل الگ سے ہوتے ہیں، جب تک معمولی سے معمولی کمی بھی رہ جائے واجبات کا اجراء نہیں ہوتا۔ ممکن ہے اس میں کسر رہ گئی ہو آپ کے پاس بہتر راستہ ان کاغذی کاررائیوں کی تکمیل ہے، محکمہ ڈاکخانہ جات کے حکام سے اپنے فوت شدہ ملازم کے خاندان کی مدد کی درخواست ہے۔
قارئین اس کالم میں شکایات ومسائل میسج اور واٹس ایپ کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔مسائل وشکایات کا واضح لکھا ہونا ضروری ہے۔نمبر یہ ہے۔ 0337-9750639