معروضی حالات اور وزیرعظم کا انتباہ!

وزیراعظم عمران خان نے عالمی اقتصادی فورم میں کووڈایکشن پلیٹ فارم سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا ”ترقی پذیر ممالک کیساتھ غربت کا مسئلہ درپیش ہے جس سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ نظام صحت کی بہتری اور دیگر اقدامات کیلئے مالیاتی انتظامات کی ضرورت ہے جبکہ موجودہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے قرضوں میں رعایت درکار ہوگی۔ کروڑوں لوگوں کو بھوک سے بچانے کیلئے معیشت کھولنا ضروری ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ترقی پذیر ممالک سے تعاون کریں، ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت لاک ڈائون ختم نہ کرتی تو لاکھوں لوگ بھوک سے مر جاتے، ہمارے حالات دوسرے ممالک سے مختلف نہیں”۔ یہ امر بجا طور پر درست ہے کہ ہمارے حالات دیگر ممالک سے قدرے مختلف ہیں، مجموعی آبادی کا تقریباً نصف حصہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے۔ کورونا وائرس کے اب تک کے پھیلائو سے پیداشدہ صورتحال سے لوگ برُی طرح متاثر ہوئے ہیں، وزیراعظم نے عالمی فورم سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں یہ بھی کہا کہ رواں سال بہت مشکل ہے۔ ادھر بدھ کو پنجاب اور بلوچستان کے ایک ایک رکن اسمبلی سمیت46 افراد کورونا سے وفات پاگئے جبکہ2123نئے مریضوں کیساتھ مجموعی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی۔ بدھ کا دن کوروناوبا کے حوالے سے دنیا بھر کیلئے بدترین ثابت ہوا، دنیا بھر میں ایک ہی دن میں ریکارڈ ایک لاکھ6ہزار کورونا مریضوں کی تشخیص ہوئی۔ 56دن کے بعد معاشی سرگرمیوں کا آغاز ہونے سے بازاروں میں لوگوں کا ہجوم جن خطرات کی نشاندہی کر رہا ہے ان کے تدارک کیلئے سوچنا بھی حکومت کا ہی فرض ہے۔ اپنے وسائل اور معروضی حالات کیساتھ آگے بڑھئے، پاکستان کو بھی شدید مسائل کا سامنا ہے، ان مسائل سے یقینا راتوں رات عہدہ برآ نہیں ہوا جا سکتا۔ مگر اس امر کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری ہے کہ جب وزیراعظم خود یہ کہہ رہے ہیں کہ رواں سال کورونا وباء کیساتھ بسر کرنا ہوگا تو پھر بہت ضروری تھا کہ لاک ڈائون ختم کرتے وقت دانشمندانہ حکمت عملی وضع کی جاتی۔ اس حوالے سے اطمینان کر لیا جاتا کہ کم خواندگی اور ٹوٹکوں پر یقین رکھنے والے شہری معاشی صورتحال کی مجبوری میں اُٹھائے جانے والے اقدامات کو کسی نجات یا جشن کا اعلان نہیں سمجھیں گے۔ لاریب ترقی یافتہ ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں کو موجودہ حالات میں ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کیساتھ تعاون کی پالیسی اپنانا ہوگی۔ خدشات سے ساری دنیا دوچار ہے ہم بھی دنیا اور موجودہ صورتحال سے کٹ کر نہیں جی سکتے۔ لیکن پچھلے چند دنوں کے دوران ملک بھر میں قدم قدم پر جو بے احتیاطی دیکھنے میں آئی اس سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ 56دن سے زیادہ سردوگرم لاک ڈائون کو اگر آغاز میں قدرے سخت انداز میں لیا گیا ہوتا تو عین ممکن ہے آج حالات قدرے بہتر ہوتے۔ بہرطور اب گزرے وقت اور غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔بہت افسوس کیساتھ اس امر پرمتوجہ کرنا پڑ رہا ہے کہ کورونا وباء کے حوالے سے ہمارے ہاں ہر شخص کی اور ادارے کی بات، فیصلوں اور حکمت عملی کو سنجیدگی سے لیا گیا مگر طبی ماہرین کی آراء کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔ اب بھی جب حکومت لاک ڈائون کھولنے جاری جارہی تھی طبی ماہرین سے مشورہ کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ سپریم کورٹ میں کورونا وائرس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ماہرین پر مشتمل کمیٹی بنانے کی درخواست مقرر کر دی گئی،بظاہر ایسا لگتا ہے کہیں کسی بھی سطح پر یکسوئی نہیں تھی۔پالیسی ساز جذباتیت کا شکار دکھائی دیئے۔بلا شبہ غربت ہمارے ہاں ایک سنگین مسئلہ ہے، وزیراعظم تواتر کیساتھ معاشرے کے کچلے ہوئے طبقات کا ذکر کرتے آرہے ہیں، انہوں نے گزشتہ روز عالمی فورم سے خطاب کرتے ہوئے بھی کہا کہ لاک ڈائون کروڑوں لوگوں کو بھوک سے بچانے کیلئے ختم کرنا پڑا۔قابل غور بات یہ ہے کہ گزشتہ روز ہی پنجاب کی خاتون وزیرصحت نے کہا کہ مئی کے اختتام تک ملک میں کورونا مریضوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ستم یہ ہے کہ معاشرے سنجیدہ حلقوں اور عام شہریوں میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو دنیا میں پھیلی ابتری کونظر انداز کرکے اپنی کہے جارہے ہیں۔ ان کے مطابق کورونا وباء نامی کوئی چیز نہیں یہ بھی ایک سازش، سازشی تھیوریوں کا منجن فروخت کرنے والوں کی غیر سنجیدگی اور اس کے اثرات ہمارے سامنے ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر طبی ماہرین کے خدشات کے عین مطابق حالات بنتے ہیں تو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہم کیا حکمت عملی اختیار کریں گے؟ غربت،کمزور معیشت، قرضوں کا بوجھ، روزگار کے کم مواقع یقینا یہ سارے مسائل ہیں اورانہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ56دنوں سے زیادہ کے لاک ڈائون میں غربت سے3افراد اور کورونا سے ایک ہزار9افراد جاں بحق ہوئے۔زمینی حقائق اور مجموعی صورتحال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔زیادہ مناسب یہ ہوتا کہ عملی زندگی کے آغاز سے قبل(لاک ڈائون کے خاتمے سے) ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے قانون بنالیا جاتا۔ اسے بد قسمتی ہی کہا جائے گا کہ لاک ڈائون کے دوران کی حکومتی پالیسیوں کے ناقدین کو دشمن سمجھ لیا گیا۔ہمیں سمجھنا ہوگا کہ حب الوطنی اور عوام دوستی حکومت کی تائید سے مشروط نہیں ہوتے آراء کے اختلافات کا حقیقت پسندانہ تجزیہ ایسے اقدامات میںمعاون بنتا ہے جس سے اجتماعی مفادات کا تحفظ ہو۔یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جسے سمجھنے کی ازبس ضرورت ہے۔لاک ڈائون کے دنوں میںوفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق اصلاح احوال کیلئے مربوط کوششیں کیں۔ یقینا وفاقی اور صوبائی حکومتیں آنے والے دنوں میں شہریوں کو بے آسرا نہیں چھوڑیں گی۔ضرورت البتہ اس امر کی ہے کہ عید الفطر کی تعطیلات کے بعد معمولات زندگی کے آغاز سے قبل اس امر کو یقینی بنالیا جائے کہ کورونا وباء سے محفوظ رہنے کیلئے جن باتوں پر عمل ضروری ہے وہ نظرانداز نہ ہونے پائیں۔ وزیراعظم کے بقول ہمیں ایک سال تک کروونا کیساتھ جینا ہے تو پھر یہ ضروری ہے کہ اس طور جینے کیلئے اصول بھی وضع کر لئے جائیں اور یہ محض کاغذی اور اعلانات تک نہ ہوں بلکہ خلاف ورزی کی صورت میں تادیبی اقدامات بھی لازمی ہوں۔ اندریں حالات یہ حقیقت ہر کس وناکس پر دو چند ہے کہ موجودہ حالات سے حکومت اور عوام کے مختلف طبقات مل کر ہی عہدہ برآ ہو سکتے ہیں ہر دو کو اپنے اپنے حصہ کی ذمہ داری سے منہ نہیں موڑنا چاہئے یہی ہمارے اجتماعی مفاد میں ہے۔