ڈبلیو ایس ایس پی والو خدارا توجہ دو

ہم لاکھ شور مچائیں مگر ہماری حیثیت تو اس ”خوار ملا” کی ہے جس کے بانگ پر کوئی کلمہ تو خیر کیا پڑھے گا کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، بلکہ رینگنا بھی بہت بڑی بات ہے وہ جوں اگر اس کے کان کے پاس کھڑی ہو کر ہاتھ بھی ہلائے تو بہت بڑی بات لگتی ہے، مگر اپنے 6مئی کے کالم میں پیسکو اور ڈبلیو ایس ایس پی سے جڑے مسائل پر تبصرہ کرنے کے باوجود آج تک اس ڈبلیو ایس ایس پی کے ذمہ داروں نے اس بارے میں توجہ دینے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی جس مسئلے پر محولہ کالم میں توجہ دلانے کی کوشش کی تھی، تاہم ایسا لگتا ہے کہ چونکہ اب کی بار یہ بانگ ہم جیسے کسی ہمہ شمہ خوار ملا نے نہیں بلکہ عالمی ادارہ صحت جیسے اہم ادارے کی جانب سے دی جارہی ہے تو یقیناً اس پر توجہ دینے کی ضرورت کا شدت سے احساس کیا جائے گا۔ گویا بقول شکیب جلالی
کیا ہو بیان قامت دلدار کا شکیب
تجسیم کر دیا ہے کسی نے الاپ کو
جی ہاں عالمی ادارہ صحت نے خیبر پختونخوا میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث پولیو مہم ملتوی ہے، جو تشویش کا باعث ہے۔ خبر میں تو پوری تفصیل درج ہے تاہم اس کے صرف اس حصے پر چند معروضات ضروری ہیں جس کا تعلق ہمارے اپنے علاقے گلبہار کالونی اور خاص طور پر رشید ٹاؤن سے ہے اور جہاں اس پولیو کی جڑیں اس قدر مضبوط ہیں کہ ہر بار جب شہر میں پولیو مہم چلانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے خواہ دوسرے علاقے وہ اہمیت اختیار نہ بھی کریں شاہ ڈھنڈ کے جانوروں کے باڑوں سے نکاسی آب کیلئے تعمیر کردہ بڑے نالے سے جو گندہ پانی گل بہار سے باہر نکل کر آگے کھیتوں کی جانب جاتا ہے اس کو پورے رشید ٹاؤن کے اندر اسی بڑے نالے سے گزارا جاتا ہے اس نالے میں گوبر اور گھروں سے خارج ہونے والا گندہ اور گدلا پانی چلتا رہتا ہے جس کے نمونے متعدد بار لیبارٹری میں ٹیسٹ کراکر یہ بتایا جا چکا ہے کہ اس نالے میں پولیو وائرس کی موجودگی ثابت ہوچکی ہے، اب اسی نالے کی شاخیں پورے رشید ٹاؤن میں چھوٹی نالیوں کیساتھ منسلک ہونے کی وجہ سے پولیو وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جا سکتا، جبکہ رشید ٹاؤن کے اندر ٹیوب ویلوں سے بڑے چھوٹے پائپ لائنوں کی مدد سے جو پینے کا پانی گھروں کو فراہم کیا جاتا ہے، ان پائپوں کے جگہ جگہ کٹے پھٹے ہونے، ان میں سوراخ ہونے کے کارن یہی پائپ لائن نالیوں کے کنارے یا بعض جگہ پر نالیوں کے اندر سے گزرنے کی وجہ سے آلودہ پانی کی فراہمی کا باعث بن رہے ہیں، جس سے خطرناک بیماریاں پھیلنے کے خدشات واضح ہیں وہ جو حبیب جالب نے کہا تھا تو صورتحال اس کے اُلٹ دکھائی دیتی ہے یعنی
اگر تشویش لاحق ہے تو سلطانوں کو لاحق ہے
نہ تیرا گھر ہے خطرے میں نہ میرا گھر ہے خطرے میں
کیونکہ یہاں تو وقت کے سلطانوں کو منرل واٹر وافر مقدار میں مہیا ہے، آلودہ پانی تو ہم عوام کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے، اس حوالے سے تازہ ترین انتہائی خطرناک صورتحال عشرت سینما روڈ سے چند گز کے فاصلے پر رشید ٹاؤن کے اندر مڑنے والی گلی کے ابتدائی حصے میں جو ٹیوب ویل ہے اس سے گزشتہ ڈیڑھ دو ماہ کے عرصے سے انتہائی آلودہ اور ناقابل برداشت حد تک گندہ پانی قریبی گھروں کو سپلائی کیا جارہا ہے، مگر کوئی نہیں جو اس صورتحال کا نوٹس لے، قریبی گھروں کے مکینوں نے اپنے طور پر کاریگر (پلمبر) بلوا کر اپنے اپنے گھروں کے پائپوں کا جائزہ لیا ہے، مگر اصل خرابی کہاں ہے؟ کچھ پتہ نہیں چل رہا ہے، یا تو ٹیوب ویل کیساتھ منسلک 4انچ کی بڑی پائپ لائن کہیں سے لیک ہے جس میں نالیوں کا گندہ اور آلودہ پانی شامل ہوتا رہتا ہے اور گھروں میں جب یہ پانی پہنچتا ہے تو پورے گھر میں بدبو پھیل جاتی ہے یا پھر کسی نے ایسی جگہ سے کنکش لیکر کھلا چھوڑ دیا ہے جو ٹیوب ویل چالو ہوتے ہی قریبی نالے کا گندہ پانی ساتھ لیکر آگے سپلائی کرتا رہتا ہے، اگر صورتحال یہی رہی اور اس کا فوری تدارک نہیں کیا گیا تو خطرہ ہے کہ نہ صرف پولیو بلکہ ہیپاٹائٹس بی اور دوسری متعدی بیماریاں بھی علاقے میں تیزی سے پھیلنی شروع ہو جائیں گی۔ یعنی بقول فضل احمد خسرو
فیصلوں میں فاصلے ٹھہرے ہوئے ہیں ہر کہیں
پیاس بھی بستی میں ہے دریا بھی بہتا ہے یہی
مرنے والوں کیلئے ماتم میں سب مصروف ہیں
ہاتھ ظالم کے گریباں پر کسی کا بھی نہیں
ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈبلیو ایس ایس پی کا متعلقہ عملہ اس ٹیوب ویل سے رشید ٹاؤن کی جانب آنے والے بڑے پائپ لائن کا فوری جائزہ لیکر اس زہر آلود پانی کے پھیلاؤ کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے، اگرچہ پہلے ہی بہت دیر ہوچکی ہے اور ڈیڑھ دو ماہ کے دوران نہ جانے کتنے لیٹر آلودہ پانی لوگ پینے پر مجبور کئے جا چکے ہیں مگر اب بھی اگر اس طرف توجہ دی جائے تو مسئلے کا تدارک کیا جا سکتا ہے۔ صرف پانی کے بل بھیج دینے سے ڈبلیو ایس ایس پی کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی بلکہ ہم تو صوبائی وزیربلدیات سے بھی گزارش کریں گے کہ لوگوں کو خطرناک وائرس والے آلودہ پانی سے بچانے کیلئے اس جانب توجہ دی جائے۔ بقول ازہر درانی
گوالا لاکھ کھائے جائے قسمیں
مگر اس دودھ میں پانی بہت ہے