ذمہ دار کون۔۔ہم جانتے ہیں!

اُمید میں بڑی طاقت ہوتی ہے اور سردیوں کی صبح کی نرم دھوپ کی لچک، اُمید ایسے ہی ہے جیسے آسمان سے زمین کی طرف اُترتی کرنیں اپنا روپیلا پن اس ہاتھ کی اُنگلیوں کی پوروں پر چھوڑ جائے جو انہیں چھونے کیلئے پھیلا ہواہے۔ اُمید میں وہی ترنم ہے جو ایک خوبصورت وادی میں اپنی ادا میں گم’ گنگناتی ندی میں ہوتا ہے۔ اُمید میں وہی طاقت ہے جو ایک نوجوان بچے کے مضبوط مگر نوآموز ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ اُمید کی یہ کرنیں ہاتھوں سے گر کر حقیقت کی پتھریلی زمین پر گر کر ٹوٹ جائیں تو بڑی خوں رنگ ہو جاتی ہیں۔ کوئی نااُمیدی کا زہر اسی اُمید کی ندی میں بصورت تلاطم بھردے تو اس کی منہ زوری کئی جانیں لے لیتی ہے اور نو آموزی کی کوتاہ اندیشی معاملات میں ایسا بگاڑ پیدا کردیتی ہے کہ پھر راستوں کے مسدود ہو جانے کی جھنجھلاہٹ نظر کاپردہ بن جاتی ہے۔
اس وقت پاکستان بھی کچھ ایسے ہی دور سے گزر رہا ہے۔ حکومت سے وابستہ لوگوں کی اُمید مر رہی ہے۔ کورونا پر نظر اسی لئے کم ہے کیونکہ دنیا میں کورونا کی شروعات سے پہلے ہی پاکستانیوں کے دل ودماغ پر یہ وائرس حاوی ہونے لگا تھا۔ وہ لوگ جنہیں ایماندار اور عوام کاخیرخواہ سمجھ کر ووٹ دئیے تھے وہ بنا کسی تیاری حکومت کرنے آن وارد ہوئے تھے۔ انہیں یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ حکومت نوکری نہیں ہوتی’ حکومت ذمہ داری ہوتی ہے، اس میں On JOb training کی گنجائش بھی نہیں ہوتی لیکن اس حکومت کے معاملات ہی بالکل الگ تھے۔ نوکری کرتے ہوئے بھی وہی لوگ سیکھتے ہیں جنہوں نے دل ودماغ کے دروازے وا رکھے ہوں۔ جب کسی شخص کے دل و دماغ پر اپنی ایمانداری کے کامل یقین کی مہر ثبت ہو جائے پھر اس میں اس عقیدے کی مضبوطی شامل ہو کہ اس کے علاوہ ہردوسرا شخص بدعنوان ہے تو معاملے کے بگاڑ کااندازہ لگانا بھی مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ اس شخص میں حقائق کی قبولیت کی صلاحیت ہی مسدود ہوجاتی ہے۔ پھر یہ بھی طے ہے کہ ایمانداری اور ذاتی احتساب میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اپنے ہر ہر قدم کو ہر لمحہ کسوٹی پر پرکھنا پڑتا ہے۔ میزان پر تولنا پڑتا ہے وہ شخص جو اپنی نظر میں ایماندار ہوگا جبکہ اس کی نظر میں اس کے علاوہ اکثریت بدعنوانوں کی ہو تو اس کیلئے اصل کسوٹی احتساب نہیں اس کی فہم ہوگی جو پہلے ہی جمود کاشکار ہے۔ وہ اپنی نظر اور فہم سے جس کو ایماندار سمجھے گا وہی ایماندار تصور ہوگا خواہ وہ کتنا ہی بدعنوان کیوں نہ ہوگا۔ ایسے لوگوں کی ٹیم کیساتھ جب کوئی حکومت کام کرنے کی کوشش کرے گا تو ان کی منتخب ٹیم کی بدعنوانی عوام پر مسلسل آشکار رہے گی اور وہ مسلسل اہانت محسوس کریں گے۔ مسلسل اُمید نااُمیدی میں بدلتی رہے گی ۔ لوگوں کااعتبار ٹوٹنا’ حکومتوں اور اقتدار کی عمر کے دوام کیلئے تو خطرناک ہوتا ہی ہے قوم کی ذہنی اور نفسیاتی صحت کیلئے اس سے بھی زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتاہے۔ میاں نواز شریف اور ان کے حواری، آصف علی زرداری اور ان کے حواری دونوں کے ہی بارے میں عوام کے اذہان میں کسی قسم کا ابہام نہیں تھا۔ یہ بدعنوان لوگ تھے ان کے ساتھیوں میں چند مٹھی بھر لوگ محض اپنے ہی مفاد کا نہ سوچتے تھے بلکہ ان کیلئے ملک بھی اہم تھا۔ سو کاروبار زندگی ایک مخصوص طرز پر رواں دواں تھا۔ ایسے میں جناب عمران خان نے نہ صرف لوگوں کے دلوں میں ایک بار پھر نئی اُمید رقم کی بلکہ اس کو اس حد تک واثق کردیا کہ لوگوں نے معجزوں کی اُمید باندھ لی۔ اس صورتحال میں عمران خان ایک ایسی ٹیم کیساتھ میدان میںاُترے جو نا اہل بھی تھی اور اپنے تئیںانتہائی دیانتدار بھی۔ سو اپنے مدمقابل اور اپنے ماتحت دونوں ہی سے بدتمیزی کرنا ان کا بنیادی حق بھی تھا اور سمجھئے کہ فرائض منصبی میں شامل بھی۔ ایسی آلودہ نظری سے انہوں نے بیوروکریسی سے بھی انہی لوگوں کاانتخاب کیاجن کے مقاصد بالکل واضح تھے، بس انہیں نہ دکھائی دیتے تھے۔ اب ملک میں ہڑبونگ مچی ہے اور حکومت کا مزاج بن چکا ہے۔ یہ ابھی تک نہ صرف اپنی ایمانداری کے خود ہی بہت زیادہ قائل ہو چکے ہیں بلکہ غلطیوں کا سارا سہرا دوسروں کے سر باندھنا چاہتے ہیں چونکہ حکومت کی اکثریت غلط لوگوں کیساتھ ٹیم بنا کر کام کر رہی ہے سو عوام کی نفسانفسی اپنے عروج پر ہے۔ عوام مایوس ہیں اور شنوائی کاکوئی امکان نہیں۔ بیوروکریسی بھی نالاں ہو چکی ہے، اکثر اچھے افسران نواز شریف اور آصف علی زرداری دور سے زیادہ پریشان ہیں کیونکہ حکومت کی نااہلی نے بدعنوانوں کو کھل کر کھیلنے کاموقع دیدیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں اکثر معاملات پر حکومت کی گرفت دکھائی ہی نہیں دیتی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان میں لوگوں کے ذہنی بحران اور پریشانی میں ایسا اضافہ ہوچکاہے کہ انہیں کورونا کا احساس باقی ہے نہ ٹڈی دل کا، وہ اپنی ہی اُلجھنوں کاشکار ہیں۔ گزشتہ سیاستدان کس پریشانیوں کا شکار ہیں۔ احتساب کے نام پر ان سے جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے وہ درست بھی ہے یا نہیں یا اس میں مزید سختی ہونی چاہئے، انہیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ اس حکومت سے وابستہ ان کی اُمیدیں زیادہ تر ٹوٹ ہی چکی ہیں۔ اگر کوئی تسمے جڑے رہ گئے ہیں انہیں بھی کسی جھٹکے کی ہی ضرورت ہے، وہ بھی باقی نہ رہیں گے۔ ایسے میں لوگ’ اس حکومت کو دیکھ ہی نہیں رہے۔ وہ بھول چکے ہیں کہ کوئی حکومت موجود بھی ہے اور اس کا اظہار ان کے رویوں سے بار بار ہوا کرتا ہے۔ تبھی کہیں قانون کی پاسداری دکھائی نہیں دیتی۔ بیورو کریسی کی اکثریت چونکہ اس حکومت کے روئیے سے بیزار ہے اسلئے جو کارکردگی ان کی جانب سے ہونی تھی اس میں بھی خاصی کوتاہی دکھائی دیتی ہے۔ ایک تجزیہ نگار کا کام محض بے لاگ تجزیہ ہواکرتا ہے، اس میں ذاتی پسند وناپسند کو کسی طور کوئی اہمیت حاصل نہیں، سو انتخابات میں’ میں نے کس کو ووٹ دیا تھا’ یہ بات قطعی اہم نہیں، افسوس اس بات کاہے کہ اس حکومت کی نااہلی اور ناقابل اعتبار کارکردگی نے لوگوں میں وہ اُمید بھی ختم کرڈالی جو انہیں اس حکومت کے آنے سے پیدا ہوئی تھی۔ اب صرف نااُمیدی ہے خاموشی ہے’ جھنجھلاہٹ ہے اور بے لگام مرضی جس نے ہرایک سسٹم کو روند ڈالا ہے اوراس سب کاذمہ دار کون ہے’ ہم جانتے ہیں۔