دنیا بھر میں کورونا وائرس کا تیزی سے پھیلاو – آئندہ ہفتے میں کیسز کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ جائے گی – عالمی ادارہ صحت

ویب ڈیسک: عالمی ادارۂ صحت  ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے اور آئندہ ہفتے دنیا بھر میں کیسز کی تعداد 93 لاکھ سے بڑھ کر ایک کروڑ تک پہنچ جائے گی،عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہینم نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ لاطینی امریکہ کے ملک وائرس کا نیا مرکز بن چکے ہیں جہاں اب تک ایک لاکھ سے زائد اموات ہو چکی ہیں ان میں سے 54 ہزار سے زائد اموات خطے کے صرف ایک ملک برازیل میں ہوئی ہیں،

ڈبلیو ایچ اے کے ہنگامی حالات سے متعلق شعبے کے سربراہ ڈاکٹر مائیک ریان کا کہنا ہے کہ براعظم شمالی و جنوبی امریکہ میں وبا تاحال اپنے عروج پر نہیں پہنچی اور خاص طور پر وسطی اور جنوبی امریکہ کے ملکوں میں وائرس کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے،اُنہوں نے کہا کہ لاطینی امریکہ کے کئی ملکوں میں گزشتہ ہفتے وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں کی شرح میں 25 سے 50 فی صد تک اضافہ دیکھا گیا،

امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 23 لاکھ 81 ہزار سے زائد جب کہ ایک لاکھ 22 ہزار کے قریب اموات ہو چکی ہیں،امریکہ میں کرونا وائرس کے نئے یومیہ کیسز کی تعداد دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور اب اسی مقام پر ہے جہاں وبا کے عروج پر تھی،جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق، امریکہ میں منگل کو 34700 کیسز کی تصدیق ہوئی۔ صرف 9 اپریل اور 24 اپریل کو اس سے زیادہ کیسز سامنے آئے تھے جب 36400 کیسز کا علم ہوا تھا،

امریکہ میں چھ ہفتوں سے زیادہ عرصے تک کیسز کم ہورہے تھے۔ لیکن، اب ایک ہفتے سے کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ نیویارک اور نیوجرسی جیسے وبا کے پرانے مراکز میں مریض کم ہورہے ہیں، لیکن وائرس جنوبی اور مغربی ریاستوں کی طرف پھیل رہا ہے۔ منگل کو کئی ریاستوں میں یومیہ کیسز کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے جن میں ایریزونا، کیلی فورنیا، مسسی سیپی، نیواڈا اور ٹیکساس شامل ہیں،امریکہ میں وبائی امراض کے سب سے معتبر ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے منگل کو کانگریس کمیٹی کو بتایا کہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے آئندہ چند ہفتے بے حد اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو مجمع میں نہیں جانا چاہیے۔ اور اگر جانا پڑے تو ماسک ضرور پہنی،

امریکہ کی تین ریاستوں نیویارک، نیو جرسی اور کنیٹیکٹ کے گورنروں نے بدھ کو حکم دیا ہے کہ دیگر آٹھ امریکی ریاستوں سے آنے والے شہریوں کو دو ہفتوں کے لیے قرنطینہ میں رکھا جائے،جن ریاستوں کے شہریوں کو 14 دن کے لیے قرنطینہ میں رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ان میں الاباما، ارکنسا، ایریزونا، فلوریڈا، شمالی کیرولائنا، جنوبی کیرولائنا، ٹیکساس اور یوٹا شامل ہیں۔ قرنطینہ کا حکم ان لوگوں پر بھی نافذ ہو گا جو ان ریاستوں کا حال ہی میں سفر کر کے آئے ہوں،

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہینم نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے کیسز ایک کروڑ تک پہنچنے کا تخمینہ ہمارے لیے یاد دہانی ہے کہ ویکسین کی تیاری کے ساتھ ساتھ ہمیں وائرس کا پھیلاؤ روکنے اور زندگیاں بچانے کی ذمہ داری بھی نبھانا ہو گی،امریکہ کی کئی ریاستوں میں پابندیوں میں نرمی کے باوجود وائرس دوبارہ زور پکڑ رہا ہے۔ لگ بھگ چھ ریاستوں میں اسپتال لائے جانے والے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ریاست ایریزونا، آرکنسا، کیلی فورنیا، نارتھ کیرولائنا، ساؤتھ کیرولائنا، ٹینیسی اور ٹیکساس کے اسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے،

نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو نے کہا ہے کہ جو قرنطینہ کے احکامات کی خلاف ورزی کرے گا اسے ایک ہزار ڈالر اور جو بار بار خلاف ورزی کرے گا اسے پانچ ہزار ڈالرز تک جرمانہ ہو سکتا ہے،امریکی ریاست کیلی فورنیا میں واقع ڈزنی لینڈ دنیا کا دوسرا مقبول ترین تھیم پارک ہے جو کرونا وائرس کے باعث مارچ سے بند ہے اور اسے دوبارہ کھولنے کا معاملہ تاخیر کا شکار ہوتا دکھائی دے رہا ہے،ڈزنی لینڈ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تھیم پارک دوبارہ 17 جولائی کو کھولا جانا تھا لیکن حکام نے اسے کھولنے کے لیے تاحال کوئی گائیڈ لائنز جاری نہیں کی ہیں۔ لہٰذا ان کے پاس 17 جولائی تک پارک کھولنے کے لیے انتظامات کرنے کا وقت نہیں ہے۔ انتظامیہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ تھیم پارک دوبارہ کب کھولا جائے گا۔